مرکزی مواد پر جائیں
رسائل ومسائل کی طرف واپس

رسائل ومسائل – جلد پنجم

مجموعہ: رسائل ومسائل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

رسائل ومسائل کی جلد پنجم۔ اس جلد میں 82 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «کیا حرام مہینوں کی حرمت کا حکم اب بھی باقی ہے؟»، «درایت حدیث»، «حضرت ابراہیم علیہ السلام کا دَورِ تفکّر»، «بشریتِ خضرؑ کا مسئلہ»، «خدائی وعدوں کا مفہوم»، «اللہ کے رازق ہونے کا مطلب» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

تفہیم القرآن میں لفظ ”تسویل“ کے مختلف معانی

سوال: تفہیم القرآن کے دو مقامات پیش نظر ہیں:

۱- سورۃ یوسف کی دو آیتیں یعنی ۱۸ اور ۸۳: <<قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنفُسُكُمْ أَمْرًا فَصَبْرٌ جَمِيلٌ>>۔

آنجناب نے دونوں مقامات پر یہ ترجمہ کیا ہے:

”یہ سُن کر ان کے باپ نے کہا: بلکہ تمہارے نفس نے تمہارے لیے ایک بڑے کام کو آسان بنا دیا۔ اچھا صبر کروں گا اور بخوبی کروں گا۔“

باپ نے یہ داستان سُن کر کہا: ”دراصل تمہارے نفس نے تمہارے لیے ایک بڑے کام کو آسان بنا دیا۔ اچھا صبر کروں گا اور بخوبی کروں گا۔“

۲- سورۃ طٰہٰ کی آیت ۹۶ : <<كَذٰلِكَ سَوَّلَتْ لِي نَفْسِي>>

اس کا ترجمہ یوں کیا ہے:

”میرے نفس نے مجھے کچھ ایسا ہی سمجھایا ہے“

”یہاں بھی وہی ’سَوَّلَتْ‘ ہے لیکن ترجمہ مختلف ہے۔ حالانکہ دونوں جگہ اس فعل کا فاعل ’انفس‘ یا اس کا واحد ’نفس‘ ہے۔ تسویل تسہیل کے معنوں میں تو نہیں آتا۔ آنجناب کی تصریح کا خواستگار اور منتظر ہوں۔“

جواب۔ سورہ یوسف کی آیات ۱۸ اور ۸۳ میں سَوَّلَتْ کا جو مفہوم میں نے بیان کیا ہے وہی علامہ زمخشری نے اپنی تفسیر کشاف میں بیان کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

<<سَوَّلَتْ (سَهَّلَتْ) من السول وهو الاسترخاء (لَكُمُ أَنْفُسُكُمُ أَمْرًا عَظِيمًا ارْتَكَبْتُمُوهُ من يوسف وَهَوَّنَتْه في أعينكم)>>

(سَوَّلَتْ کے معنی سہلت کے ہیں یعنی آسان کر دیا (اس کا مادہ سَول ہے، یعنی نرم ہو جانا، جھک جانا) تمہارے نفوس نے تمہارے لیے اس بھاری کام کو جس کا ارتکاب تم نے یوسف کے معاملے میں کیا اور تمہاری نگاہوں میں اُسے معمولی چیز بنا دیا)۔

بخلاف اس کے سورۃ طٰہٰ کی آیت ۹۶ میں سَوَّلَتْ کا وہ مفہوم موقع و محل سے مناسبت نہیں رکھتا، جو سورۃ یوسف کے ترجمے میں اختیار کیا گیا ہے، کیونکہ یہاں سامری اپنی صفائی پیش کر رہا ہے۔ اس لیے یہاں میں نے تسویل کو تحسین کے معنی میں لیا ہے اور اس کی گنجائش بھی لغت میں موجود ہے۔

<<التسويل، تحسين الشيء وتزيينه الى الانسان ليفعله اويقوله>>

(تسویل کے معنی یہ ہیں کہ کسی شے کو انسان کے لیے خوشنما اور مزین بنا دیا جائے تاکہ وہ اسے کرے یا کہے)

گویا سامری یہ کہہ رہا ہے کہ ”میرے نفس نے یہی کچھ میرے سامنے ایک اچھے کام کی حیثیت سے پیش کیا“

اسی مفہوم کو میں نے ’سُجھانے‘ کے لفظ سے ادا کیا ہے۔ اردو زبان میں ایسے مواقع پر سُجھانا قریب قریب اسی معنی میں استعمال ہوتا ہے، جس میں تسویل کا لفظ عربی زبان میں استعمال کیا جاتا ہے۔ شاہ عبدالقادر صاحبؒ نے اس کا ترجمہ کیا ہے:

”یہی مصلحت دی مجھ کو میرے جی نے“

امام راغبؒ نے بھی اپنی مفردات القرآن میں تسویل کے معنی تزیین و تحسین بیان کیے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:

<<التسويل : تزيين النفس لما تحرص عليه وتصوير القبيح منه بصورة الحسن>>

(تسویل سے مراد یہ ہے کہ انسان کا نفس اپنی انگیخت کو اس کے لیے مزین کر دے اور بُرائی کو اس کے لیے خوبصورت بنا کر پیش کرے)

قاموس میں ہے:

<<سوّلت له نفسه كذا : زیّنت والاسول من فی اسفله استرخاء>>

لین (LANE) نے اپنی لغت مد القاموس میں سوّل کے معنی درج کیے ہیں :-

(MADE IT APPEAR EASY TO HIM)

(اس بات کو اس کے لیے آسان بنا دیا)

(ترجمان القرآن ، اپریل ۱۹۷۹ء)

۲