رسائل ومسائل – جلد پنجم
مجموعہ: رسائل ومسائل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
رسائل ومسائل کی جلد پنجم۔ اس جلد میں 82 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «کیا حرام مہینوں کی حرمت کا حکم اب بھی باقی ہے؟»، «درایت حدیث»، «حضرت ابراہیم علیہ السلام کا دَورِ تفکّر»، «بشریتِ خضرؑ کا مسئلہ»، «خدائی وعدوں کا مفہوم»، «اللہ کے رازق ہونے کا مطلب» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
مُصَافحہ اور مُعَانقہ
سوال۔ بعض حضرات بعد نماز عید جب اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کے ہاں ملنے جاتے ہیں تو یا تو وہ مصافحہ کرتے ہیں یا بغلگیر ہوتے ہیں۔ معلوم یہ کرنا تھا کہ عید کے روز بغلگیر ہونا درست ہے؟ کیا حدیث میں یا کسی صحابی کے فعل سے اس کا جواز ثابت ہے؟
جواب۔ جہاں تک مُصَافحہ کا تعلق ہے، محض خوشی کے مواقع پر ہی نہیں بلکہ ہمیشہ ہر ملاقات کے موقع پر وہ نہ صرف جائز بلکہ مُستحب اور مَسنُون ہے۔ ابوداؤد میں بَراء بن عازِب رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جب دو مسلمان آپس میں مل کر مُصَافحہ کرتے ہیں اور اللہ کی حمد اور اس سے استغفار کرتے ہیں، اللہ ان کی مغفرت فرما دیتا ہے"۔ ترمذی میں ارشادِ مبارک کے الفاظ یہ ہیں: "جب دو مسلمان آپس میں ملاقات کے وقت مُصَافحہ کرتے ہیں اللہ ان کے جُدا ہونے سے پہلے ان کی مغفرت فرما دیتا ہے"، یعنی ان کا ایک دوسرے سے مُصَافحہ کرنا چونکہ مسلمان سے مسلمان کی محبت اور باہمی اکرام کا اظہار ہے، اس لیے یہ ان کی مغفرت کا موجب ہوتا ہے۔ ابوداؤد میں ہے کہ حضرت ابو ذرؓ سے پوچھا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ملاقات کے وقت آپ لوگوں سے مصافحہ فرمایا کرتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا کبھی ایسا نہیں ہوا کہ میں حضورؐ سے ملا ہوں اور آپ نے مجھ سے مصافحہ نہ کیا ہو۔ اسی بنا پر مصافحہ کے بارے میں فقہاء کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے۔
مگر معانقہ کے معاملہ میں فقہاء کے درمیان اختلاف ہے۔ بعض فقہاء (جن میں امام ابو یوسفؒ بھی شامل ہیں) اسے بلا کراہیت جائز سمجھتے ہیں، بعض صرف سفر سے واپسی پر یا ایسے ہی کسی غیر معمولی موقع پر اس کو جائز اور عام حالات میں مکروہ قرار دیتے ہیں، اور امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک یہ مطلقاً مکروہ ہے۔ اس اختلاف کی وجہ یہ ہے کہ معانقہ کے بارے میں احادیث مختلف ہیں۔ ترمذی میں حضرت انسؓ کی روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، یا رسول اللہ ہم میں سے کوئی شخص اپنے کسی بھائی سے ملے تو کیا اس کے آگے جھکے؟ آپؐ نے فرمایا نہیں۔ اس نے پوچھا کیا اس سے معانقہ کرے اور اس کا بوسہ لے؟ فرمایا نہیں۔ اس نے پوچھا کیا اس کا ہاتھ پکڑ کر مصافحہ کرے؟ آپؐ نے فرمایا، ہاں۔ ترمذی ہی میں ایک اور روایت ہے جس میں حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ جب زید بن حارثہ مدینہ پہنچے تو انہوں نے آکر ہمارے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جلدی سے اُٹھ کر باہر تشریف لے گئے اور انہیں گلے سے لگا کر ان کا منہ چوما۔ ابوداؤد میں حضرت ابو ذرؓ کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ حضورؐ نے مجھے طلب فرمایا تو میں گھر میں موجود نہ تھا۔ بعد میں جب مجھے معلوم ہوا کہ حضورؐ نے مجھے یاد فرمایا ہے تو میں خدمت مبارک میں پہنچا۔ آپ نے مجھے گلے لگالیا۔
ان روایات کو جمع کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عام طور پر صرف مصافحہ پر اکتفا فرمایا کرتے تھے۔ معانقہ آپ کا عام معمول نہ تھا۔ البتہ کبھی کبھی کسی خاص موقع پر آپ نے معانقہ فرمالیا ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ یہ فعل ناجائز بھی نہیں ہے۔ (ترجمان القرآن، فروری ۱۹۶۶ء)