مرکزی مواد پر جائیں
رسائل ومسائل کی طرف واپس

رسائل ومسائل – جلد پنجم

مجموعہ: رسائل ومسائل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

رسائل ومسائل کی جلد پنجم۔ اس جلد میں 82 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «کیا حرام مہینوں کی حرمت کا حکم اب بھی باقی ہے؟»، «درایت حدیث»، «حضرت ابراہیم علیہ السلام کا دَورِ تفکّر»، «بشریتِ خضرؑ کا مسئلہ»، «خدائی وعدوں کا مفہوم»، «اللہ کے رازق ہونے کا مطلب» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریعی اختیارات

سوال: جناب کی تصنیف ”سُنّت کی آئینی حیثیت“ میری نظر سے گزری۔ اس کے مطالعہ سے میرے تقریباً سب شکوک رفع ہو گئے سوائے چند کے جنہیں دُور کرنے کے لیے آپ سے رجوع کر رہا ہوں۔ امید ہے کہ آپ میری رہنمائی فرمائیں گے۔

صفحہ ۷۹ پر آپ نے لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے صراحتاً نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تشریعی اختیارات دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے امر و نہی اور تحلیل و تحریم صرف وہی نہیں ہے جو قرآن میں بیان ہوئی ہے بلکہ جو کچھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام یا حلال قرار دیا ہے اور جس چیز کا حضورؐ نے حکم دیا ہے، یا جس چیز سے منع فرمایا ہے وہ بھی اللہ کے دیئے ہوئے اختیارات سے ہے اور اس لیے وہ بھی قانونِ خداوندی کا ایک حصہ ہے۔ مگر آپ نے تشریعی کام کی جو مثالیں دی ہیں (ص ۸۸ تا ۹۰) وہ دراصل تشریحی کام کی ہیں تشریعی کی نہیں۔ موخر الذکر کی جو مثالیں مجھے سوجھتی ہیں وہ ذیل میں مذکور ہیں اور ان کے بارے میں جناب سے ہدایت کا طالب ہوں۔

(۱) صفحہ ۸۹ پر کھانے کی بعض چیزوں کی حرمت کے بارے میں آپ نے سورۃ مائدہ پر اکتفا کیا ہے، لیکن سورۃ انعام کی آیت نمبر ۱۴۵ کی رو سے صرف مردار، بہتا خون، لحم خنزیر، اور غیر اللہ کے نام پر ذبیحہ حرام ہے یعنی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ وحی کے ذریعہ مذکورہ اشیاء کے علاوہ کھانے کی کوئی اور چیز حرام نہیں کی گئی۔ پھر حضور کو دیگر اشیاء کو حرام قرار دینے کی ہدایت کیسے ملی؟

(ب) شریعت بعض صورتوں میں زنا کی سزا رجم قرار دیتی ہے لیکن قرآن مجید میں اس جرم کے بارے میں اس سزا کا ذکر نہیں ملتا۔ پھر یہ سزا کیسے تجویز ہوئی؟

ان دونوں مثالوں میں احکام قرآن اور احکام شریعت میں بظاہر کچھ تضاد نظر آتا ہے لیکن حقیقت میں ایسا نہ ہوگا۔ امید ہے حقیقت کی وضاحت فرما کر آپ مجھے ممنون فرمائیں گے۔"

جواب۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریعی اختیارات سے میرا مدعا یہ نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بطور خود اپنی مرضی سے کسی چیز کو حرام یا حلال کر دینے کے اختیارات اللہ تعالیٰ نے دے دیتے تھے بلکہ مدعا یہ ہے کہ ہر حکم کا قرآن ہی میں آنا ضروری نہ تھا بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے جو حکم ادا ہوتا تھا وہ بھی اللہ تعالیٰ کے اشارے سے ہی ہوتا تھا اس لیے مسلمان اس کے مکلف تھے کہ آپ سے امر و نہی کا جو حکم بھی سنیں اس کی تعمیل کریں۔ مسلمانوں کا یہ کام نہ تھا کہ آپ کا کوئی حکم سن کر آپ سے پوچھیں کہ قرآن کی کس آیت سے آپ نے یہ حکم نکالا ہے، یا یہ کہیں کہ آپ جو حکم دے رہے ہیں چونکہ وہ قرآن میں نازل نہیں ہوا ہے اس لیے ہم اس کی پیروی کے مُکلَّف نہیں ہیں۔ آنحضورؐ نے نماز کا جو طریقہ عملاً مسلمانوں کو نماز پڑھ کر اور پڑھا کر بتایا اور زبانی احکام سے اس کی جو تفصیلات لوگوں کو بتائیں وہ قرآن میں کہاں لکھی تھیں؟ لیکن لوگ اس کی پیروی کے مُکلَّف تھے، کیونکہ انہیں صرف قرآن ہی کی نہیں، رسول کی اطاعت و پیروی کا حکم بھی دیا گیا تھا۔

تشریعی اور تشریحی کام میں جو فرق آپ تجویز کر رہے ہیں اس پر آپ خود غور کریں تو آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ درحقیقت ان میں کوئی فرق نہیں ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کے کسی مجمل حکم کی تشریح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کسی قول اور عمل سے کرتے تھے تو وہ بھی اصل حکم کی طرح قانون ہی کی حیثیت رکھتی تھی حالانکہ وہ قرآن میں مذکور نہ ہوتی تھی۔

سورۃ انعام کی آیت ۱۴۵ کے سیاق و سباق پر آپ غور کریں گے تو معلوم ہو گا کہ اس کا مطلب دراصل یہ ہے کہ جاہلیت میں اہل عرب نے جن چیزوں کو حرام کر رکھا تھا، وہ حرام نہیں ہیں، بلکہ حرام یہ چیزیں ہیں جو اس آیت میں بیان کی گئی ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ان چار چیزوں کے سوا کسی کھانے والے کے لیے کوئی چیز بھی حرام نہیں ہے۔ اس مطلب کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اُن ارشادات نے بالکل واضح کر دیا جن میں بتایا گیا ہے کہ درندے اور شکاری پرندے حرام ہیں پس حضورؐ نے قرآن مجید کی بیان کردہ حرام چیزوں کے علاوہ جن دوسری چیزوں کے کھانے کو حرام قرار دیا ہے یہ حکم قرآن کے حکم سے زائد ہے جو حضورؐ نے وحی خفی کی بنا پر دیا ہے۔

زنا کی سزا کے متعلق میں نے مفصل بحث اپنی تفسیر سورۃِ نُور میں کی ہے۔ اسے آپ ملاحظہ فرمالیں اس میں یہ بات بھی میں نے واضح کر دی ہے کہ سورۃِ نُور میں زانی اور زانیہ کے لیے جو سزا مقرر کی گئی ہے وہ دراصل غیر شادی شدہ مجرم کی سزا ہے۔ اس کے دلائل خود قرآن ہی میں دوسرے مقامات پر موجود ہیں جن کی نشاندہی میں نے سورۃ نور کی تفسیر میں بھی کی ہے اور سورۃ نساء آیت ۲۵ کی تفسیر میں بھی۔ اس کے لیے آپ تفہیم القرآن جلد اوّل صفحہ ۳۴۲-۳۴۳ بھی ملاحظہ فرمالیں تو بات پوری طرح واضح ہو جائے گی۔ اس ساری بحث کو بغور پڑھنے سے آپ پر واضح ہو جائے گا کہ شادی شدہ اشخاص کو زنا پر رجم کی سزا دینا قرآن کے کسی حکم کے خلاف نہیں ہے بلکہ یہ ایک زائد حکم ہے جو حضورؐ کو وحی خفی کے ذریعہ سے ملا تھا اور قرآن میں وارد نہیں ہوا۔

سوال ۲:

میرے پہلے خط کے جواب میں جناب فرماتے ہیں کہ سورۃ انعام کی آیت کا مطلب دراصل یہ ہے کہ جاہلیت میں اہل عرب نے جن چیزوں کو حرام کر رکھا تھا ”حرام وہ نہیں ہیں“ بلکہ حرام یہ چیزیں ہیں جو اس آیت میں بیان کی گئی ہیں۔ لیکن قرآن مجید صرف اتنا ہی نہیں فرماتا بلکہ اس کی بھی تصریح کرتا ہے کہ جہاں تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والی وحی کا تعلق ہے ان چیزوں کے سوا اور کوئی چیز اس میں حرام نہیں کی گئی۔ قرآن کریم کے الفاظ بالکل صاف ہیں اور ان میں کوئی گنجلک نہیں۔ پھر آپ کیوں فرماتے ہیں کہ ”اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ان چاروں چیزوں کے سوا کسی کھانے والے کے لیے کوئی چیز بھی حرام نہیں ہے“؟ مہربانی فرما کر اس کی وضاحت فرمادیں۔

تفہیم القرآن پہلے بھی پڑھ چکا تھا اور اب آپ کے فرمانے پر سورۃ نساء اور سورۃ نور میں جناب کے نوٹوں کا دوبارہ مطالعہ کیا۔ لیکن اگر آپ سوءِ ادب نہ سمجھیں تو عرض کروں کہ دلیل دل کو نہیں لگی۔ عام طور پر موازنہ مماثل اشیاء میں ہوتا ہے یعنی ایک شادی شدہ لونڈی کو اگر مُحصنہ کی سزا کا کوئی حصہ ملتا ہے تو مُحصنہ بھی شادی شدہ ہونی چاہیے ورنہ قرآن مجید کو اس کی وضاحت کرنی چاہیے تھی کہ یہاں شادی شدہ لونڈی کا شادی شدہ مُحصنہ سے مقابلہ نہیں کیا جارہا بلکہ غیر شادی شدہ سے کیا جارہا ہے۔ کیا آپ فرماسکتے ہیں کہ قرآن مجید یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی صراحت فرمائی ہے؟ سورۃ نور میں آپ کے نوٹ میں صفحہ ۳۳۹ پر لکھا ہے کہ حضرت علیؓ نے ایک عورت کو کوڑے لگوائے اور جمعہ کے روز اسے رجم کیا اور فرمایا کہ ہم نے کتاب اللہ کے مطابق کوڑے لگائے ہیں اور سُنت رسول اللہ کے مطابق سنگسار کرتے ہیں یعنی حضرت علیؓ کے نزدیک سورۃ نور والی سزا غیر شادی شدہ مُحصنات تک محدود نہ تھی۔ شاید اسی وجہ سے امام احمد، داؤد ظاہری اور اسحاق بن راہویہ نے بھی پہلے سو دُرّے لگانے اور بعد میں سنگسار کرنے کی سزا تجویز کی ہے (ایضاً صفحہ ۳۴۷) اگر یہ استنباط درست ہے تو اس بات کے حق میں کافی شہادت موجود ہے کہ زنا کی سو دُرّے کی سزا کا اطلاق شادی شدہ مُحصنات پر بھی ہوتا ہے۔ پھر ان کو رجم کی سزا کیوں دی جاتی ہے؟

جواب:

سورۃ انعام کے علاوہ چار چیزوں کی حُرمت کا ذکر سورۃ مائدہ، سورۃ نحل اور سورۃ بقرہ میں بھی آیا ہے۔ مگر ان تینوں مقامات پر ایسا کوئی لفظ نہیں ہے جس سے یہ خیال کیا جا سکتا ہو کہ ان چیزوں کے سوا اور کوئی چیز حرام نہیں ہے۔ یہ بات صرف سورۃ انعام میں کہی گئی ہے کہ وحی کے ذریعہ سے جن چیزوں کی حرمت کا حکم نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا ہے اُن میں اِن چار چیزوں کے سوا اور کسی چیز کا ذکر نہیں ہے اسی لیے میں نے عرض کیا تھا کہ اِس آیت کو اس کے سیاق و سباق میں رکھ کر غور کیجیے۔ سیاق و سباق بتا رہا ہے کہ یہاں دراصل اُن چیزوں کے حرام ہونے کی نفی مقصود ہے جنہیں اہل عرب نے زمانہ جاہلیت میں حرام کر رکھا تھا اور یہ بتانا مقصود ہے کہ حرام وہ چیزیں نہیں بلکہ یہ ہیں۔

سورۃ نساء کی جس آیت کی طرف میں نے آپ کو توجہ دلائی تھی اس کے الفاظ پر آپ دوبارہ غور فرمائیں۔ اس میں یہ فرمایا گیا ہے کہ جو شخص اتنی استطاعت نہ رکھتا ہو کہ ”مومن مُحْصَنات“ سے نکاح کر سکے تو وہ تمہاری مومن لونڈیوں میں سے کسی کے ساتھ نکاح کر لے۔ اس کے بعد اِسی آیت میں فرمایا گیا کہ یہ لونڈیاں جب کسی کے نکاح میں آکر مُحْصَنہ بن جائیں اور پھر بدکاری کی مرتکب ہوں تو اُن کو اُس سزا کی نصف سزا دی جائے جو مُحْصَنات کے لیے ہے۔ اس آیت میں دو جگہ لفظ مُحْصَنات استعمال ہوا ہے اور ظاہر ہے کہ دونوں جگہ یہ لفظ ایک ہی معنی میں لیا جا سکتا ہے۔ اب کیا آپ کا یہ خیال ہے کہ آیت کے پہلے فقرے میں مُحْصَنات سے مُراد شادی شدہ عورتیں ہیں؟ یعنی کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص شادی شدہ مومن عورتوں سے نکاح کرنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو وہ مومن لونڈی سے نکاح کرے؟ اگر اس کا یہ مطلب نہیں لیا جا سکتا تو ظاہر ہے کہ اس فقرے میں مُحْصَنات سے مُراد آزاد خاندان کی غیر شادی شدہ عورتیں ہی ہو سکتی ہیں۔ اور جب ایسی عورتوں کے مقابلہ میں مومن لونڈیوں کا ذکر کیا گیا ہے تو اس کا مطلب یہی ہو سکتا ہے کہ جس معنی میں آزاد خاندان کی غیر شادی شدہ لڑکی مُحْصَنہ ہوتی ہے اس معنی میں غیر شادی شدہ لونڈی مُحْصَنہ نہیں ہوتی۔ پھر جب یہ فرمایا گیا کہ شادی شدہ ہو جانے کے بعد جب ایک لونڈی مُحْصَنہ بن جائے اور پھر بدکاری کی مرتکب ہو تو اس کی سزا اُس سزا کی نصف ہے جو مُحْصَنات کے لیے مقرر ہے، تو اس دوسرے فقرے میں مُحصنات کی سزا سے مُراد وہی سزا ہوسکتی ہے جو غیر شادی شدہ آزاد خاندانی لڑکی کے مرتکبِ زنا ہونے کے لیے ہے۔ یہاں آپ اس لفظ کو شادی شدہ آزاد عورت کے معنی میں نہیں لے سکتے، کیونکہ ایک ہی آیت میں ایک ہی لفظ کو دو مختلف معنوں میں لینا کسی طرح درست نہیں ہوسکتا۔ باقی رہا حضرت علیؓ کے قول اور فعل سے آپ کا استدلال، تو آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس معاملہ میں حضرت علیؓ نے جو رائے قائم فرمائی تھی اس میں وہ صحابۂ کرام کے درمیان منفرد تھے۔ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زانی مُحصن کو کبھی رجم کرانے سے پہلے کوڑے نہیں لگوائے۔ اسی طرح باقی تین خلفائے راشدین کے زمانے میں بھی کبھی ایسا نہیں ہوا کہ رجم سے پہلے کوڑے لگوائے گئے ہوں دوسرے کسی صحابی کا قول بھی اس کی تائید میں مجھے نہیں ملا۔ اور جمہور فقہا نے بھی حضرت علیؓ کے اس اجتہاد کو قبول نہیں کیا۔ (ترجمان القرآن، جنوری ۱۹۴۷ء)