مرکزی مواد پر جائیں
رسائل ومسائل کی طرف واپس

رسائل ومسائل – جلد پنجم

مجموعہ: رسائل ومسائل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

رسائل ومسائل کی جلد پنجم۔ اس جلد میں 82 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «کیا حرام مہینوں کی حرمت کا حکم اب بھی باقی ہے؟»، «درایت حدیث»، «حضرت ابراہیم علیہ السلام کا دَورِ تفکّر»، «بشریتِ خضرؑ کا مسئلہ»، «خدائی وعدوں کا مفہوم»، «اللہ کے رازق ہونے کا مطلب» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

کیا حرام مہینوں کی حرمت کا حکم اب بھی باقی ہے؟

سوال- قرآن مجید میں اشہرِ حُرم میں قتال سے منع کیا گیا ہے لیکن شاہ ولی اللہ اور مولانا ثناء اللہ پانی پتی (صاحب تفسیر مظہری) متاخرین میں، اور عطا اور امام بیضاوی متقدمین میں، بس یہی ملے جنہوں نے آیت کے حکم کو باقی رکھا ہے۔ ان کے علاوہ صاحبِ بدائع و صنائع، زمخشری، جصاص، ابن عربی مالکی اور دوسرے مفسرین اور فقہاء نے اس آیت کو منسوخ قرار دیا ہے۔ حتیٰ کہ کتاب الأم میں امام شافعی کا رجحان بھی اسی طرف معلوم ہوتا ہے جب کہ ان کے فقہی اصول (مذکورہ بیضاوی) کی رُو سے اس آیت کو منسوخ نہ سمجھنا چاہیے۔

مجھے جناب سے یہ دریافت کرنا ہے کہ تفہیم القرآن کا مُصنف اِس مسئلہ میں کیا رائے رکھتا ہے تفہیم القرآن کی خاموشی سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت منسوخ نہیں۔ اس کے بعد درج ذیل باتیں مزید توضیح طلب ہیں:

۱- کیا اس حکم کو اسلامی قوانین جنگ میں وہی حیثیت حاصل ہے جو دوسرے قوانین کو حاصل ہے؟

۲- اشہر حُرم میں قتال کی ممانعت کا تعلق صرف اہلِ عرب سے ہے یا دنیا کی ہر اسلامی حکومت کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس حکم کو پیش نظر رکھے؟

۳- تفسیروں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اشہر حُرم میں قتال سے اس لیے منع کیا گیا کہ خود عربوں میں بھی یہی رسم باقی تھی اور وہ ان محترم مہینوں کا خیال کرتے تھے اگر دُنیا کی تمام اسلامی حکومتوں کو اس حکم کا مُخاطب سمجھا جائے تو اس کی عِلّت عربوں کی مخصوص رسم کے علاوہ کچھ اور بھی ہونا چاہیے۔ وہ کیا ہے؟ قرآن و حدیث میں اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے یا نہیں؟

مجھے جناب کے مشاغل میں دخل اندازی پر ندامت ہے لیکن امید ہے کہ جناب اس خلش کو (خصوصاً دوسرے نکتے سے متعلق) دُور فرمائیں گے۔

جواب - اَشْہُرِ حُرُم کی حقیقت یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے صدہا برس سے عرب میں طوائف الملوکی، بد نظمی اور بدامنی برپا تھی۔ قبائل میں آئے دن لڑائیاں ہوتی رہتی تھیں۔ راستے غیر محفوظ تھے۔ کوئی شخص اپنے قبیلے کے حُدُود سے نکل کر اپنے آپ کو محفوظ نہ پاتا تھا۔ بلکہ کوئی قبیلہ خود اپنے حُدُود میں بھی کسی طاقت ور قبیلے کا چھاپہ اچانک پڑ جانے سے مامُون نہ تھا۔ ان حالات میں کب، کس طریقے سے اللہ کی یہ رحمت عرب قوم پر نازل ہوئی کہ سال میں چار مہینے حرام قرار دے دیئے گئے تاکہ ان میں جنگ اور قتل و غارت گری بند رہے اور لوگ اطمینان سے حج اور عُمرہ ادا کر سکیں۔ یہ بات کسی ذریعہ سے معلوم نہیں ہو سکی ہے کہ ان چار مہینوں کو حرام قرار دینے کا یہ قاعدہ کس نے بنایا، کب بنایا، اور کس طرح تمام عرب قبائل نے اسے تسلیم کر لیا۔ بہرحال اسلام سے پہلے صدیوں سے یہ قاعدہ عرب میں رائج تھا اور ہر سال چار مہینے کے لیے امن میّسر آ جانا اِس بدنصیب قوم کے لیے اللہ کا بہت بڑا فضل تھا۔

اسلام جب آیا تو عہدِ جاہلیت کی تمام اچھی چیزوں کی طرح اِس قاعدے کی بھی توثیق کی گئی، کیونکہ اس کی بدولت کم از کم چار مہینے خوں ریزی رُکی رہتی تھی۔ اور حج اور عُمرے کا سلسلہ جاری رہ سکتا تھا، اور مزید برآں ان مہینوں کا احترام اِس بات کی علامت بھی تھا کہ جاہلیت میں مبتلا ہونے کے باوجود اہلِ عرب میں کچھ خوفِ خدا باقی ہے۔ پھر جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت فرمائی اور مسلمانوں سے کفارِ عرب کی لڑائیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا، اُس وقت بھی ان چار مہینوں کی حرمت کا حکم باقی رکھا گیا، تاکہ کم از کم چار ہی مہینے مسلمانوں کو امن میسر آسکے۔ مگر جب تمام عرب مسلمان ہو گئے تو یہ حکم آپ سے آپ منسوخ ہو گیا۔ کیونکہ اسلام کے دائرے میں داخل ہو جانے کے بعد تو اُن پر دوسرا اور عظیم تر حکم یعنی قتلِ مسلم بغیر حق کی حرمت کا دائمی حکم عائد ہو گیا۔ اب اشہرِ حُرُم کی حرمت کا حکم باقی رہنے کے معنی یہ ہوتے کہ اہلِ عرب صرف چار مہینے تو جنگ سے پرہیز کریں، باقی ایام میں وہ لڑ سکتے ہیں۔

اس حکم کو جزیرۃ العرب کے لیے، اور اس کے بھی صرف آغازِ اسلام کے دور تک کے لیے مخصوص ماننے کی ایک بڑی دلیل یہ ہے کہ جزیرۃ العرب کے مسلمان ہو جانے کے بعد مسلمانوں کی لڑائیاں جائز طور پر صرف جزیرے سے باہر کے کفار کے ساتھ ہی ہو سکتی تھیں، اور ان لڑائیوں میں صحابۂ کرام کے دور سے لے کر آج تک کبھی اشہرِ حُرُم کی حرمت کا سوال کسی عالم نے نہیں اُٹھایا۔ ظاہر ہے کہ کفار تو جنگ کی ابتدا کرنے میں اشہرِ حُرُم کا لحاظ کر ہی نہ سکتے تھے لیکن خود مسلمانوں نے بھی کسی کافر قوم پر حملہ کرتے ہوئے اس بات کا لحاظ نہیں کیا ہے کہ کسی حرام مہینے میں جنگ نہ چھڑے، اور میرے علم میں یہ بات نہیں ہے کہ کسی فقیہ نے کبھی اس پر اعتراض کیا ہو۔ (ترجمان القرآن، فروری ۱۹۶۵ء)