رسائل ومسائل – جلد پنجم
مجموعہ: رسائل ومسائل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
رسائل ومسائل کی جلد پنجم۔ اس جلد میں 82 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «کیا حرام مہینوں کی حرمت کا حکم اب بھی باقی ہے؟»، «درایت حدیث»، «حضرت ابراہیم علیہ السلام کا دَورِ تفکّر»، «بشریتِ خضرؑ کا مسئلہ»، «خدائی وعدوں کا مفہوم»، «اللہ کے رازق ہونے کا مطلب» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
معراج رات کو ہوئی تھی یا دن کو؟
سوال: پچھلے دنوں جیل جانے کا اتفاق ہوا مختلف الخیال لوگوں میں مقصد کی یکسانیت اور لگن تھی۔ درسِ قرآن اور نماز باجماعت کا انتظام تھا لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ ہمارے علماء حضرات وہاں بھی فروعی مذہبی اختلافات میں مبتلا تھے۔ ہماری بیرک میں تین الگ الگ جماعتیں دیوبندی، بریلوی اور اہل حدیث حضرات کراتے تھے میں نے دوستوں سے مشورہ کیا کہ علماء حضرات کو مل کر ایک جماعت پر رضامند کیا جائے۔ چنانچہ سب سے پہلے ایک دیوبندی عالم کے پاس گئے۔ انہیں میرے متعلق علم تھا کہ یہ جماعت اسلامی کا رکن ہے۔ ابھی تمہیداً کچھ باتیں ہو رہی تھیں کہ انہوں نے آپ کے بارے میں اعتراضات شروع کر دیے کہ مولانا مودودی صاحب نئی نئی باتیں نکال لاتے ہیں، کئی پچھلے ترجمان میں مولانا نے لکھا ہے کہ واقعہ معراج دن کی پوری روشنی میں رونما ہوا تھا۔ حالانکہ قرآن کے بیان کے مطابق یہ واقعہ رات کے کسی حصہ میں پیش آیا اور حدیث سے بھی ثابت ہے کہ معراج عشاء اور فجر کے درمیان ہوا تھا۔ میں نے اس بارے میں اپنی لاعلمی کا اظہار کیا۔ چنانچہ الصلوٰۃ جامعۃ والا مقصد تو باتوں ہی میں ختم ہو گیا اور گفتگو آگے نہ بڑھ سکی۔
جیل سے واپسی پر میں نے ترجمان کے پچھلے پرچے دیکھے۔ جنوری ۱۹۵۷ء کے شمارے میں صفحہ ۱۰ پر آپ کی تحریر دیکھی:
”...... رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ مشاہدہ اندھیرے میں یا مراقبے کی حالت میں، یا خواب میں، یا نیم بیداری کی حالت میں نہیں ہوا تھا، بلکہ صبح روشن طلوع ہو چکی تھی، آپ پوری طرح بیدار تھے، کھلی فضا میں اور دن کی پوری روشنی میں اپنی آنکھوں سے یہ منظر ٹھیک اسی طرح دیکھ رہے تھے جس طرح کوئی شخص دنیا کے دوسرے مناظر دیکھتا ہے“
اس سے معلوم ہوا کہ مولوی صاحب کا اعتراض اسی عبارت پر تھا۔ بہتر ہو کہ آپ اس کی وضاحت کر دیں۔
جواب۔ معراج کے بارے میں یہ بات نہ میں نے کبھی کہی، نہ لکھی، اور نہ میرے دماغ میں کبھی یہ خیال آیا کہ یہ واقعہ دن کے وقت پیش آیا تھا۔ تفہیم القرآن جلد دوم، تفسیر سورۃ بنی اسرائیل کی پہلی آیت کا ترجمہ اور اس پر میرا مفصل حاشیہ دیکھ لیں۔ اس سے معلوم ہو جائے گا کہ میرے نزدیک معراج رات کو ہوئی تھی یا دن کو۔
سورۃ نجم کی آیات ۴ تا ۱۲ میں جبریل علیہ السلام سے حضورؐ کی پہلی ملاقات کا ذکر ہے، جس کا معراج سے کوئی تعلق نہیں۔ اُسی کے متعلق میں نے لکھا ہے کہ یہ مشاہدہ دن کی روشنی اور پوری بیداری کی حالت میں ہوا تھا (تفہیم القرآن جلد پنجم صفحات ۱۸۸-۱۸۹ اور ۱۹۳ تا ۲۰۰) میں اس کی پوری تشریح موجود ہے۔
رہی وہ بحث جو جنوری ۱۹۵۵ء کے ترجمان القرآن میں صفحہ ۱۲ پر کی گئی ہے تو اس کا عنوان ”جبریلؑ سے حضورؐ کی پہلی ملاقات زمین پر“ خود ہی صاف ظاہر کر رہا ہے کہ یہ آسمان والی ملاقات کا ذکر نہیں ہے۔ اس پوری بحث کو آپ پڑھیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ معراج کے سلسلے میں یہ بحث صرف اس لیے کی گئی ہے کہ ایسے غیر معمولی شاہدات پر حضورؐ کے مبتلائے شک نہ ہونے کی وجہ کیا تھی۔ اس سے آگے سدرۃ المنتہیٰ پر جبریلؑ سے حضورؐ کی دوسری ملاقات کا ذکر صفحہ ۱۲ پر ہے۔ اسے بھی پڑھ کر دیکھ لیں کہ سلسلۂ بیان کیا ظاہر کر رہا ہے۔
در حقیقت ان حضرات کی عادت یہ ہے کہ کسی شخص کی کسی عبارت کا ایک آدھ فقرہ لے کر اس پر الزامات کی ایک پوری عمارت کھڑی کر دیتے ہیں، اور اس تحقیق کی کوئی ضرورت نہیں سمجھتے کہ اُس شخص نے اپنی دوسری تحریروں میں اس مسئلے کے متعلق کیا لکھا ہے۔ یہ تحقیق اگر وہ کریں تو اُن کو خود معلوم ہو جائے کہ ان کے الزامات خالص افترا اور بہتان ہیں۔ بالفرض اگر وہ یہ عذر کریں کہ ہمارے پاس اتنی تحقیق کی فرصت نہیں ہے تو اُن سے پوچھیے کہ دوسرے لوگوں پر الزامات چسپاں کرنا اور انہیں پھیلانا آپ پر کس نے واجب کیا ہے کہ یہ کام لامحالہ آپ کو کرنا ہی چاہیے۔(ترجمان القرآن، جولائی ۱۹۶۶ء)