رسائل ومسائل – جلد پنجم
مجموعہ: رسائل ومسائل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
رسائل ومسائل کی جلد پنجم۔ اس جلد میں 82 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «کیا حرام مہینوں کی حرمت کا حکم اب بھی باقی ہے؟»، «درایت حدیث»، «حضرت ابراہیم علیہ السلام کا دَورِ تفکّر»، «بشریتِ خضرؑ کا مسئلہ»، «خدائی وعدوں کا مفہوم»، «اللہ کے رازق ہونے کا مطلب» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
اسرائیلی ریاست کے حق میں ایک عجیب استدلال
سوال:۔ سورہ بنی اسرائیل آیت ۱۰۴ کے متعلق ”صدقِ جدید“ (لکھنو) میں مولانا عبد الماجد دریا بادی نے ”سچی باتیں“ کے زیر عنوان یہ تشریح کی ہے کہ اس میں وَعْدُ الْآخِرَةِ سے مراد یومِ الآخرۃ نہیں ہے بلکہ قیامت کے قریب ایک وقت موعود ہے اور جِئْنَا بِكُمْ لَفِيفًا سے مراد بنی اسرائیل کے مختلف گروہوں کو ایک جگہ اکٹھا کر دینا ہے۔ اس کے بعد وہ فرماتے ہیں کہ ”مطلب واضح ہے یعنی اسرائیلیوں کو بعدِ واقعہ فرعون ہی خبر دے دی گئی تھی کہ اب قوم آزاد ہو، دنیا میں جہاں چاہو رہو بسو، البتہ جب زمانہ قربِ قیامت کا آجائے گا تو ہم تم کو مختلف سمتوں سے، مختلف ملکوں سے، مختلف زبانیں بولتے ہوئے، مختلف وضع و لباس اختیار کیے ہوئے، سب کو ایک جگہ جمع کر دیں گے۔ اور وہ جگہ اور کونسی ہو سکتی ہے بجز ان کے قدیم وطن ملک فلسطین کے۔ آج جو ارضِ فلسطین میں یہود کا اجتماع ہر ہر ملک سے ہو رہا ہے کیا یہ اسی غیبی پیش خبری کا ظہور نہیں؟ یہ نتیجہ جو مولانا نے اس آیت سے نکالا ہے، مجھے ڈر ہے کہ یہ فلسطین کے متعلق عام جذبہ جہاد کو ٹھنڈا کر دے گا۔ کیونکہ اس کو مان لینے کے بعد تو فلسطین میں اسرائیلی ریاست کا قیام عین منشائے خداوندی سمجھا جائے گا۔“
جواب: آیت مذکورہ بالا کی اس تشریح کو دیکھ کر تعجب ہوا۔ آیت کے الفاظ تو صرف یہ ہیں کہ:
<<وَقُلْنَا مِنْۢ بَعْدِهِ لِبَنِي إِسْرَائِيلَ اسْكُنُوا الْأَرْضَ فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ الْآخِرَةِ جِئْنَا بِكُمْ لَفِيفًا۔>>
”اور اس کے بعد (یعنی فرعون کی غرقابی کے بعد) ہم نے بنی اسرائیل سے کہا کہ زمین میں رہو بسو، پھر جب آخرت کے وعدے کا وقت آئے گا تو ہم تم کو اکٹھا کر لائیں گے“:
ان الفاظ میں ”قریب قیامت کے وقت موعود“ اور بنی اسرائیل کے وطنِ قدیم میں یہودیوں کے مختلف گروہوں کو ایک ملک سے لاکر جمع کر دینے“ کا مفہوم آخر کہاں سے نکل آیا۔ وَعْدُ الْآخِرَةِ کا سیدھا اور صاف مطلب آخرت کا وعدہ ہے نہ کہ قیامت کے قریب زمانے کا کوئی وقتِ موعود۔ اور سب کو اکٹھا کر لانے یا جمع کر لانے سے مراد قیامت کے روز جمع کرنا ہے۔ اس میں کوئی اشارہ تک اس بات کی طرف نہیں ہے کہ اسی دنیا میں بنی اسرائیل کو ایک جگہ جمع کیا جائے گا۔ اس پر مزید ستم یہ ہے کہ ”ایک جگہ جمع کرنے“ کے تصور کو آیت کے الفاظ میں داخل کرنے ہی پر اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ یہ بھی طے کر دیا گیا کہ وہ جگہ ”اسرائیلیوں کے وطنِ قدیم“ کے سوا اور کوئی نہیں ہو سکتی۔ یہ تو بعینہ یہودیوں کے اِس دعوے کی تائید ہے کہ دو ہزار برس تک فلسطین سے بے دخل رہنے کے باوجود اُس پر ان کا حق فائق ہے کیونکہ وہ ان کا وطنِ قدیم ہے، اور اب دو ہزار برس سے یہ ملک جن لوگوں کا حقیقت میں وطن ہے اُن کے مقابلے میں برطانیہ اور روس اور امریکہ نے نہیں، بلکہ خود اللہ تعالیٰ نے اس سرزمین پر یہودیوں کے حقِ سکونت کو فائق قرار دے کر انہیں ہر ملک سے وہاں جمع کروایا ہے۔ اس طرح تو اسرائیلی ریاست کا قیام اللہ تعالیٰ کے ایک وعدے کا نتیجہ قرار پاتا ہے نہ کہ دنیا کی ظالم قوموں کی ایک سازش کا۔ حالانکہ آیت کے الفاظ میں اس مفہوم کے لیے قطعاً کوئی گنجائش نہیں ہے۔ (ترجمان القرآن جون ۱۹۶۷ء)