مرکزی مواد پر جائیں
رسائل ومسائل کی طرف واپس

رسائل ومسائل – جلد پنجم

مجموعہ: رسائل ومسائل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

رسائل ومسائل کی جلد پنجم۔ اس جلد میں 82 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «کیا حرام مہینوں کی حرمت کا حکم اب بھی باقی ہے؟»، «درایت حدیث»، «حضرت ابراہیم علیہ السلام کا دَورِ تفکّر»، «بشریتِ خضرؑ کا مسئلہ»، «خدائی وعدوں کا مفہوم»، «اللہ کے رازق ہونے کا مطلب» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

طَعام المسکین کے معنی

سوال- سورۃ الحاقہ اور سورۃ ماعون کی آیت <<وَلَا يَحُضُّ عَلَى طَعَامِ الْمِسْكِينِ>> کا ترجمہ دونوں جگہ تفہیم القرآن میں مختلف ہے۔ ایک جگہ ترجمہ مسکین کو کھانا کھلانا کیا گیا ہے، اور دوسری جگہ مسکین کا کھانا دینا۔ اس فرق کی کیا وجہ ہے؟

جواب- طَعام کا لفظ عربی زبان میں ’کھانے‘ کے لیے استعمال ہوتا ہے یعنی وہ چیز جو کھائی جائے۔ اور ’اطَعام‘ کے معنی میں بھی بولا جاتا ہے یعنی کھانا کھلانا۔

پہلے معنی کے لحاظ سے ’طعام المسکین‘ کا مطلب ہے ”مسکین کا کھانا“ اور اس سے خود بخود یہ معنی نکلتے ہیں کہ جو کھانا مسکین کو دیا جاتا ہے وہ اسی کا کھانا ہے، ذی استطاعت آدمی کے کھانے میں اس کا کھانا بطور ایک حق کے شامل ہے جسے اس کو ادا کرنا چاہیے۔

یہی بات قرآن مجید میں ایک دوسرے طریقے سے یوں بیان کی گئی ہے کہ <<وَفِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِّلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ>> ”اور ان کے مالوں میں سائل اور محروم کا ایک حق ہے“۔

دوسرے معنی کے لحاظ سے مطلب واضح ہے۔ <<وَلَا يَحُضُّ عَلَى طَعَامِ الْمِسْكِينِ>> کے معنی یہ ہیں کہ وہ مسکین کو کھانا کھلانے کے لیے کسی کو آمادہ نہیں کرتا۔ (ترجمان القرآن، جولائی ۱۹۶۷ء)