مرکزی مواد پر جائیں
رسائل ومسائل کی طرف واپس

رسائل ومسائل – جلد پنجم

مجموعہ: رسائل ومسائل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

رسائل ومسائل کی جلد پنجم۔ اس جلد میں 82 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «کیا حرام مہینوں کی حرمت کا حکم اب بھی باقی ہے؟»، «درایت حدیث»، «حضرت ابراہیم علیہ السلام کا دَورِ تفکّر»، «بشریتِ خضرؑ کا مسئلہ»، «خدائی وعدوں کا مفہوم»، «اللہ کے رازق ہونے کا مطلب» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

نباتات و حشرات کی مَوت و حیات

سوال۔ مندرجہ ذیل دو اُمور آپ کی خاص توجہ کے مستحق ہیں کہ ان پر آپ کے غور و خوض سے میری الجھن دُور اور دیگر قارئینِ تفہیم القرآن کے علم میں اضافہ ہوگا۔

(۱) سُورة النحل صفحہ ۵۵ پر آیت ۶۵ کا آپ نے مندرجہ ذیل ترجمہ کیا ہے:”تم ہر برسات میں دیکھتے ہو کہ اللہ نے آسمان سے پانی برسایا اور مُردہ پڑی ہوئی زمین میں اس کی بدولت جان ڈال دی۔ یقیناً اس میں ایک نشانی ہے سُننے والوں کے لیے“ اس آیت کی تفسیر میں حاشیہ ۵۲ پر آپ نے جو تحریر فرمایا، اس کا اختصار حسبِ ذیل ہے:

”پچھلی برسات کے بعد جو نباتات مرچکی تھی، یا بے شمار حشرات الارض جن کا نام و نشان تک گرمی کے زمانے میں باقی نہ رہا تھا (یعنی مرچکے تھے) یکایک پھر اُسی شان سے نمودار ہو گئے (یعنی دوبارہ زندہ ہو گئے)، پھر بھی تمہیں نبی کی زبان سے یہ بات سُن کر حیرت ہوتی ہے کہ اللہ تمام انسانوں کو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرے گا۔

زندگی بعد الموت کی یہ مثال بالکل خلاف حقیقت و مشاہدہ ہے۔ کوئی پیڑ یا پودا مکمل طبعی موت کے بعد زندہ نہیں ہوتا، چاہے کتنی ہی برساتیں گزر جائیں، صرف وہ جڑیں پھوٹتی ہیں جن میں زندگی کی کچھ رمق باقی رہتی ہے۔ دوم کیڑے مکوڑے گرمیوں میں یقیناً مر جاتے ہیں لیکن کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو عرصہ دراز تک بے حس و حرکت (HYBRNATED) پڑے رہتے ہیں یا انڈے، لاروا، پیوپا کی صورت میں زمین، لکڑیوں، دراڑوں، سوراخوں، پانی وغیرہ کسی جگہ پر موجود رہتے ہیں اور مناسب درجہ حرارت و رطوبت اور موافق موسم کے آتے ہی اپنے اپنے خول سے نکل آتے ہیں۔ مکھی، مچھر، پروانے، کھٹمل اور زمین کے تمام حشرات الارض کے مختلف ادوارِ زندگی ہوتے ہیں۔ اور دنیا کے ہر خطے کی آب و ہوا کے مطابق وہ درجاتِ مختلف اوقات میں پایہ تکمیل پاتے ہیں۔ لہٰذا یہ مثال کہ نباتات یا حشرات الارض موت کے بعد دنیا ہی میں دوبارہ زندہ ہو جاتے ہیں، قطعی خلافِ حقیقت ہے۔

اس تفسیر کو قلم بند کرنے سے پہلے اگر آپ علم نباتات (BOTANY) اور علم الحشرات (ENTOMOLOGY) کے کسی عالم یا متعلم سے مشورہ کر لیتے یا ان کے متعلق کوئی کتاب ہی مطالعہ فرما لیتے تو ایسے اہم موضوع پر اتنی عام غلطی نہ سرزد ہوتی۔ ایسی پُر مغز اور عظیم تفسیر میں ایسی خلافِ سائنس یا خلافِ حقیقت و مشاہدہ بات پڑھ کر وہ لوگ جن کو آپ سے عقیدت نہیں ہے یا جو آپ کی عظمت کے قائل اور علمیت سے واقف نہیں ہیں بقیہ مضامین کو بھی اس پیمانے پر ناپیں گے۔ میں یہ گزارشات اپنے محدود علم اور ایک ماہر حشرات الارض سے مشورہ کرنے کے بعد لکھ رہا ہوں۔

(۲) تفہیم القرآن، سورۃ الاعراف حاشیہ ۷ کی مندرجہ ذیل سطر قابلِ توجہ ہے:

”خدا کے حکم سے لاٹھی کا اژدہا بننا اتنا ہی غیر عجیب واقعہ ہے جتنا اسی خدا کے حکم سے انڈے کے اندر بھرے ہوئے چند بے جان مادوں کا اژدہا بن جانا غیر عجیب ہے۔“ مندرجہ بالا جملہ میں عجیب یا غیر عجیب کی بحث سے قطع نظر، میری گزارش صرف یہ ہے کہ جس انڈے سے کوئی جاندار شے پیدا ہوتی ہے مثلاً اژدہا، مچھلی، چھپکلی، مرغی، کبوتر وغیرہ اس انڈے کے اندر مادہ بے جان نہیں ہوتا، بلکہ قطعی جاندار ہوتا ہے یعنی اس انڈے میں نر و مادہ کے تولید کا مجموعہ (OVUMSPERNI) موجود ہوتا ہے۔ بے جان مادے والا انڈا وہ ہوتا ہے جو مادہ بغیر نر کے دیتی ہے اور اس کو عرفِ عام میں خاکی انڈا کہتے ہیں اور جس میں سے کسی طرح بھی بچہ پیدا نہیں ہو سکتا۔ اس حقیقت کے باعث تو آپ کی دلیل مضحکہ خیز بن جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی قدرتِ معجزہ کو غلط سائنٹفک استدلال سے ثابت کرنا اور بھی عجیب ہو جاتا ہے۔

جواب: آپ نے میری تصحیح کی جو کوشش فرمائی ہے اس کے لیے شکر گزار ہوں۔ جہاں تک سورۃ نحل والی آیت کا تعلق ہے اس میں استدلال اُس عام منظر سے ہے جو ہر دیکھنے والا برسات کے موسم میں دیکھتا ہے۔ اسی عام مشاہدے کی تشریح میں نے کی ہے۔ میرے اصل الفاظ یہ ہیں:

”یہ منظر ہر سال تمہاری آنکھوں کے سامنے گزرتا ہے کہ زمین بالکل چٹیل میدان پڑی ہوئی ہے، زندگی کے کوئی آثار موجود نہیں، نہ گھاس پھونس ہے نہ بیل بوٹے، نہ پھول پتی اور نہ کسی قسم کے حشرات الارض۔ اتنے میں بارش کا موسم آگیا۔ زمین کی تہوں میں دبی ہوئی بے شمار جڑیں یکایک جی اٹھیں اور ہر ایک کے اندر سے وہی نباتات پھر برآمد ہو گئی جو پچھلی برسات میں پیدا ہونے کے بعد مر چکی تھی۔ بے شمار حشرات الارض جن کا نام و نشان تک گرمی کے زمانے میں باقی نہ رہا تھا، یکایک پھر اُسی شان سے نمودار ہو گئے جیسے پچھلی برسات میں دیکھے گئے تھے... “

رہا بیالوجی اور علم نباتات اور علم حشرات کے نقطۂ نظر سے اس مسئلے کا گہرا جائزہ، تو اس کے متعلق آپ کے مشورے کے مطابق میں انشاء اللہ دوسرے ماہرین سے بھی پوچھوں گا، اور آپ سے بھی درخواست کرتا ہوں کہ خود اپنی معلومات اور اپنے اہل علم احباب کی رائے اس پہلو سے مجھے بتائیں کہ گھاس کی جڑوں اور حشرات الارض کے متعلق یہ خیال کہ طبعی موت کے بعد ان کا بارش میں جی اٹھنا ممکن نہیں ہے، اور صرف وہی جڑیں اور حشرات دوبارہ زندہ ہوتے ہیں جن کے اندر کسی نہ کسی شکل میں حیات کی رمق باقی ہو " آیا یہ تجربے اور علمی مشاہدے پر مبنی ہے، یا اس قیاس پر کہ بہرحال طبعی موت کے بعد کسی چیز کا جی اٹھنا تو غیر ممکن ہے اس لیے جو چیز بھی بارش میں زندگی لیے ہوئے نمودار ہوتی ہے وہ ضرور اپنے اندر کچھ حیات لیے ہوئے سو رہی ہوگی؟

صحرائے عرب کا وہ حصہ جس کو الربع الخالی کہتے ہیں، بسا اوقات دس دس سال تک بارش سے بالکل محروم رہتا ہے، اور گرمی کے موسم میں درجہ حرارت وہاں ۱۲۴ سے ۱۴۰ ڈگری تک پہنچ جاتا ہے۔ اس پر بھی جب وہاں بارش ہوتی ہے تو صحرا کی ریت پر گھاس اُگ آتی ہے اور حشرات الارض رینگنے لگتے ہیں۔ یہ بات اس علاقے کے متعدد سیاحوں نے بیان کی ہے ۱۹۵۹ء کے آخر میں جب میں عرب کا سفر کرتا ہوا تبوک پہنچا تو اتفاق سے اُسی روز بارش ہوگئی۔ وہاں کے گورنر اور قاضی نے مجھے بتایا کہ یہ بارش پورے پانچ سال بعد ہوئی ہے۔ اس کے بعد جب میں تبوک سے روانہ ہوا تو میں نے دیکھا کہ وہی صحرا جسے آتے ہوئے میں نے راستے میں بالکل سُونا دیکھا تھا، اب اس پر گھاس اُگی ہوئی ہے۔ گاڑی سے اُتر کر حشرات الارض کو تلاش کرنے کا مجھے خیال نہیں آیا۔ لیکن گھاس تو میرے سامنے موجود تھی۔ سوال یہ ہے کہ آیا یہ محض مفروضہ ہے کہ ۵-۱۰ سال تک جڑیں کسی نہ کسی درجہ کی حیات لیے ہوئے اندر ضرور موجود ہوں گی جو بارش میں تازہ ہوگئیں یا فی الواقع ایسا کوئی تجربہ و مشاہدہ ہوا ہے کہ جو جڑیں بارش میں زندہ ہوگئیں وہ وہی تھیں جن میں اس نوعیت کی حیات باقی تھی؟ نیز کیا در حقیقت جڑوں کی طبعی موت اور کسی درجہ کی حیات کے درمیان کوئی قطعی خطِ امتیاز سائنس میں معلوم کیا جاسکتا ہے؟

یہی سوال حشرات الارض کے بارے میں بھی ہے کہ صحرا کی ریت میں طویل مُدت کی خشک سالی اور شدید گرمی کے بعد جو حشرات بارش کے بعد نمودار ہو جاتے ہیں، آیا ان کے بارے میں یہ تحقیق کیا جا چکا ہے کہ وہ بارش سے پہلے کسی نوعیت کی زندگی لیے ہوئے محض سو رہے تھے یا یہ محض ایک قیاسی مفروضہ ہے؟ اِن اُمور پر اگر آپ کچھ روشنی ڈالیں تو میں تفہیم القرآن میں اس مضمون کے تمام حواشی پر تحقیق کے ساتھ نظر ثانی کر سکوں گا۔ اس مسئلے پر اچھی طرح تحقیق ہونی چاہیے۔ میرا خیال ہے کہ بعض نباتات و حیوانات میں اللہ تعالیٰ نے اعادۂ خلقِ اِسی دُنیا کے اندر رکھا ہے تاکہ حیاتِ بعد موت کی نشانی بن سکے۔ اسی وجہ سے قرآن میں جگہ جگہ بارش کے اثر سے مُردہ زمین کے جی اُٹھنے کا ذکر کیا گیا ہے اور اسے حیات بعد موت کی دلیل قرار دیا گیا ہے۔

لاٹھی سے اژدہا بننے کے معجزے پر جو کچھ میں نے لکھا ہے، اس کے بارے میں اپنے نقطۂ نظر کی پھر وضاحت کیے دیتا ہوں۔ ایک بارور شدہ (FIRTILISED) انڈے کے اندر جو مذکر و مؤنث مادۂ تولید زندگی لیے ہوئے موجود ہوتا ہے، وہ بھی ایک مادی پیکر ہی ہوتا ہے جس میں زندگی خدا کی ڈالی ہوئی ہوتی ہے، ورنہ وہ مادہ جس سے اس کا جسم بنا ہوا ہوتا ہے بجائے خود اپنے اندر کوئی حیات نہیں رکھتا۔ اب فرق جو کچھ بھی ہے، وہ صرف اس امر میں ہے کہ اژدہوں کی عام پیدائش ان انڈوں سے ہوتی ہے جن کے اندر ابتدائ زندگی نر اور مادہ کے اِتصال سے مادی پیکر میں پیدا کی جاتی ہے، اور پھر اسے بتدریج نشو و نما دے کر اژدہا بنایا جاتا ہے۔ مگر معجزے سے لاٹھی کا جو اژدہا بنا، اُس میں لاٹھی کے مادی پیکر میں خدا نے براہِ راست اژدہے والی حیات پیدا کر دی اور اسے اژدہے کی صورت بھی عطا کر دی۔ میرا استدلال یہ ہے کہ لاٹھی سے براہِ راست اژدہا بنانا صرف اس بنا پر معجزہ ہے کہ یہ واقعہ عام معمول سے ہٹ کر پیش آیا۔ ورنہ اس مادۂ ذکر و اُنثٰی (OVUM SPERM) سے جو اژدہا پیدا ہوتا ہے وہ بھی معجزہ ہے۔ اس کے معجزہ ہونے کا تصور ہمارے ذہن میں نہ آنے کی وجہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ ہم اسے عام معمول سمجھتے ہیں۔ (ترجمان القرآن، دسمبر ۱۹۶۸ء)