رسائل ومسائل – جلد پنجم
مجموعہ: رسائل ومسائل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
رسائل ومسائل کی جلد پنجم۔ اس جلد میں 82 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «کیا حرام مہینوں کی حرمت کا حکم اب بھی باقی ہے؟»، «درایت حدیث»، «حضرت ابراہیم علیہ السلام کا دَورِ تفکّر»، «بشریتِ خضرؑ کا مسئلہ»، «خدائی وعدوں کا مفہوم»، «اللہ کے رازق ہونے کا مطلب» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
(۱) بعض اہل مکہ کی باہم رشتہ داریاں ---- (۲) حضرت عمرؓ کے قبول اسلام کے وقت مسلمانوں کی تعداد
سوال - ترجمان القرآن جولائی ۷۶ء کے صفحہ ۱۲ (مہاجرین حبشہ کی فہرست کے نمبر ۴۷) پر عیاش بن ربیعہ کے نام کے بعد قوسین میں انہیں ابو جہل کا بھائی ظاہر کیا گیا ہے۔ صفحہ ۵۵ پر بغلی عنوان ”مکہ میں اس ہجرت کا ردعمل“ کے تحت حضرت عیاشؓ کو ابو جہل کا چچا زاد بھائی تحریر کیا گیا ہے اور صفحہ ۱۷ پر حضرت عیاشؓ کے سگے بھائی عبداللہ بن ابی ربیعہ اور صفحہ ۲۲ پر حضرت عیاشؓ کو ابو جہل کے ماں جائے بھائی لکھا گیا ہے۔ کیا یہ درست ہے کہ حضرت عیاشؓ ابو جہل کے چچا زاد اور ماں شریک بھائی تھے۔
(۲) ترجمان اگست ۷۶ء کے صفحہ ۱۹ پر حضرت عمرؓ کا یہ قول نقل فرمایا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ۳۹ آدمی تھے اور میں نے شامل ہو کر ان کو ۴۰ کر دیا۔ آپ نے اس قول کی یہ توجیہ فرمائی ہے کہ ممکن ہے اس وقت حضرت عمرؓ کو اتنے ہی آدمیوں کا علم ہو کیونکہ بہت سے مسلمان اپنا ایمان چھپائے ہوئے بھی تھے۔ اس ضمن میں یہ امر قابلِ توجہ ہے کہ ابتدائی سہ سالہ خفیہ تحریک کے دوران میں ۳۳ آدمی مسلمان ہوئے تھے۔ بعد ازاں علی الاعلان تبلیغ اسلام شروع ہوئی اور اکا دکا لوگ مسلمان ہوتے گئے تاآنکہ کفار کی مخالفت شدت اختیار کر گئی اور سنہ ۵ بعد بعثت میں ۱۰۳ صحابہ کرام کو حبشہ کی طرف دو مرحلوں میں ہجرت کرنا پڑی جن میں سے چند ایک بعد ازاں تشریف لے آئے۔ اس ہجرت سے مکہ مکرمہ میں کہرام مچ گیا۔ مہاجرین میں حضرت عمرؓ کے قبیلہ بنی عدی کے افراد بھی شامل تھے اور اس ہجرت سے حضرت عمرؓ متاثر بھی ہوئے۔ چنانچہ یہ تو ممکن ہے کہ جن لوگوں نے قبول اسلام کا اعلان نہ کیا ہو ان کے بارے میں حضرت عمرؓ کو معلومات نہ ہوں لیکن یہ کیونکر ممکن ہے کہ حضرت عمرؓ جیسے باخبر آدمی کو مسلمانوں کی اتنی بڑی تعداد کا علم نہ ہو جو ہجرت کر کے حبشہ میں مقیم تھے؟ کیا حضرت عمرؓ کے قول کا مفہوم یہ نہیں ہو سکتا کہ جب وہ قبول اسلام کے لیے دارِ ارقم تشریف لے گئے تو اُس وقت وہاں صرف ۳۹ آدمی تھے اور حضرت عمرؓ کے آنے سے ۴۰ ہو گئے اور یہی حضرات دو صفوں میں مسجد حرام کی طرف نکلے۔ ایک صف میں حضرت حمزہؓ تھے اور دوسری میں حضرت عمرؓ۔ مزید برآں اُس وقت مکہ مکرمہ میں دس مسلمان عورتیں بھی تھیں اور دیگر صحابہ و صحابیاتؓ اِس وقت حبشہ میں بطور مہاجرین مقیم تھے۔
جواب۔ آپ کے پہلے سوال کا جواب یہ ہے کہ حضرت عیاش بن ابی ربیعہ ابو جہل کے چچا زاد بھائی بھی تھے اور ماں جائے بھائی بھی۔ اس خاندان کے رشتوں کو اچھی طرح سمجھ لیجیے کیونکہ اسلام کی ابتدائی تاریخ سے ان کا گہرا تعلق ہے۔
بنی مخزوم کے سردار مغیرہ بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم کے کئی بیٹے تھے جن میں سے چند یہ ہیں جن کا ہماری تاریخ سے خاص تعلق ہے۔
۱- ولید بن مغیرہ حضرت خالدؓ بن ولید کا باپ۔
۲- ہاشم بن مغیرہ۔ اُس کی بیٹی حنتمہ حضرت عمرؓ کی ماں۔
۳- ہشام بن مغیرہ - ابوجہل اور حارث کا باپ۔
۴- ابو اُمیہ بن مغیرہ، حضرت اُمّ سلمہ کا باپ۔
۵- ابوربیعہ بن مغیرہ - اس نے اپنے بھائی ہشام کے بعد اس کی بیوی اسماء بنت مُخَرّبَہ (ابو جہل اور حارث کی ماں) سے نکاح کیا اور اس سے حضرت عَیّاش بن ابی ربیعہ پیدا ہوئے۔ اس طرح حضرت عَیّاش ابوجہل کے ماں جائے بھی تھے اور چچا زاد بھائی بھی۔
اِسی خاندان سے مُغیرہ کے ایک بھائی اسد بن عبداللہ بن عُمر بن مخزوم کا بیٹا عبد مناف حضرت اَرقَم کا باپ تھا جن کا دارِ اَرقم اسلامی تاریخ میں مشہور ہے۔
مُغیرہ کے دوسرے بھائی ہلال بن عبداللہ بن عُمر بن مخزوم کا بیٹا عبدالاسد حضرت ابوسلمہؓ (اُم المومنین حضرت اُمّ سلمہؓ کے پہلے شوہر) کا باپ تھا۔
آپ کے دوسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ ہجرتِ حبشہ کے بعد مکے میں جو مسلمان رہ گئے تھے اُن کے متعلق میرا خیال یہ ہے کہ وہ سب کے سب دارِ اَرقم میں پناہ گزین نہ تھے، بلکہ اُن کی ایک تعداد اپنا اسلام چھپاتے ہوئے تھی، اور ایک تعداد دارِ اَرقم میں حضور کے ساتھ مقیم تھی۔ حضرت عمرؓ نے انہی کے بارے میں فرمایا ہے کہ وہ ۳۹ تھے اور میری شرکت سے ۴۰ ہو گئے۔ (ترجمان القرآن، اپریل ۱۹۴۷ء)