رسائل ومسائل – جلد پنجم
مجموعہ: رسائل ومسائل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
رسائل ومسائل کی جلد پنجم۔ اس جلد میں 82 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «کیا حرام مہینوں کی حرمت کا حکم اب بھی باقی ہے؟»، «درایت حدیث»، «حضرت ابراہیم علیہ السلام کا دَورِ تفکّر»، «بشریتِ خضرؑ کا مسئلہ»، «خدائی وعدوں کا مفہوم»، «اللہ کے رازق ہونے کا مطلب» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
گنہگار مومن اور ”نیکو کار“ کافر کا فرق
سوال:۔ آج کل ایک ایف۔ ایس۔ سی کی طالبہ ایک نہایت ہی ذہین مسیحی لڑکی میرے پاس انگریزی پڑھنے آتی ہے۔ وہ تقریباً روزانہ مجھ سے مذہبی اُمور پر تبادلۂ خیالات کرتی ہے۔ میں بھی اس موقع کو غنیمت سمجھتے ہوئے اسے دینِ اسلام کی تعلیمات سے روشناس کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ بحمد اللہ کہ میں نے دینِ اسلام کے بارے میں اس کی بہت سی غلط فہمیوں کو دُور کر دیا ہے۔
لیکن ایک دن اس نے میرے سامنے ایک سوال پیش کیا جس کا جواب مجھے نہ سوجھ سکا۔ ازاں بعد میں نے آپ کی تصانیف سے بھی رجوع کیا مگر تاحال کوئی شافی اشارات وہاں سے نہیں مل سکے۔
میری مسیحی شاگرد کہنے لگی کہ میں نے میٹرک میں اسلامیات کے کورس میں ایک حدیث پڑھی تھی جس میں کہا گیا ہے کہ مسلمان چاہے کتنا ہی بُرا گنہگار ہو وہ کچھ عرصہ دوزخ میں اپنے گناہوں کی سزا بھگت کر آخر کار ضرور جنت میں چلا جائے گا۔ مگر کافر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دوزخ میں رہیں گے۔ پھر وہ کہنے لگی آپ ہمیں بھی کافر ہی سمجھتے ہیں۔ کوئی عیسائی خواہ وہ کتنا ہی نیکو کار ہو مسلمانوں کے عقیدہ کے مطابق دوزخ ہی میں جلتے گا۔ آخر اس کی کیا وجہ ہے؟
جواب۔ آپ اپنی شاگرد کو پہلے یہ بات سمجھائیں کہ گناہ گار مومن اور نیکو کار کافر کے درمیان فرق کی بنیاد کیا ہے۔ مومن اللہ تعالیٰ کی فرماں برداری قبول کرکے اس کے وفادار بندوں میں شامل ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد اپنی اخلاقی کمزوریوں کی وجہ سے وہ کسی جُرم یا بعض جرائم کا ارتکاب کر بیٹھتا ہے۔ اس کے برعکس کافر دراصل ایک باغی ہوتا ہے اور آپ کے کہنے کے مطابق اگر وہ نیکو کار ہو بھی تو اُس کے معنی صرف یہ ہیں کہ اُس نے بغاوت کے جُرم پر کسی اور جُرم کا اضافہ نہیں کیا۔ اب یہ ظاہر ہے کہ جو شخص باغی نہیں ہے اور صرف مجرم ہے اُسے صرف جُرم کی حد تک سزا دی جائے گی، بغاوت کی سزا اُس کو نہیں دی جا سکتی، کیونکہ جُرم کرنے کی وجہ سے کوئی شخص وفادار رعیت کے زمرے سے خارج نہیں ہو جاتا۔ لیکن بغاوت بجائے خود سب سے بڑا جُرم ہے، اس کے ساتھ اگر کوئی شخص دوسرے جرائم کا اضافہ نہ بھی کرتا ہو تو اسے وہ حیثیت کسی طرح نہیں دی جا سکتی جو وفادار رعیت کو دی جاتی ہے۔ وہ بغاوت کی سزا بہر حال پا کر رہے گا خواہ وہ اُس کے علاوہ کسی جُرم کا ارتکاب نہ کرے لیکن اگر وہ باغی ہونے کے ساتھ کچھ جرائم کا مرتکب بھی ہو تو اسے بغاوت کی سزا کے ساتھ ان دوسرے جرائم کی سزا بھی دی جائے گی۔
اِس اصولی بات کو جب وہ سمجھ لیں تو اُن کو بتائیے کہ اللہ تعالیٰ کی وفادار اور فرمانبردار رعیت میں صرف وہ لوگ شامل ہوتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی توحید کو کسی قسم کے شرک کی آمیزش کے بغیر، اور اللہ کے سب پیغمبروں کو کسی استثناء کے بغیر، اور اللہ کی بھیجی ہوئی کتابوں کو کسی کا انکار کیے بغیر مانتے ہوں اور آخرت کی جواب دہی کو بھی تسلیم کرتے ہوں۔ ان میں سے جس چیز کو بھی آدمی نہ مانے گا وہ باغی ہوگا اور اسے خدا کی وفادار رعیت میں شمار نہ کیا جا سکے گا۔ اب مثال کے طور پر رسولوں اور کتابوں ہی کے معاملہ کو لے لیجئیے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی انجیل کو جب یہودیوں نے نہ مانا تو وہ سب باغی ہو گئے، اگرچہ حضرت عیسیٰؑ سے پہلے کے انبیاء اور ان کی لائی ہوئی کتابوں کو وہ مانتے تھے۔ اسی طرح حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے پہلے تک حضرت عیسیٰؑ کے پیرو اللہ کی وفادار رعیت تھے لیکن جب اُنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کو ماننے سے انکار کر دیا تو وہ بھی باغی ہو گئے مسیح اور انجیل اور سابق انبیاء اور ان کی کتابوں کو ماننے کے باوجود وہ اللہ کی وفادار رعیت میں شمار نہیں ہو سکتے۔
یہ بات بھی جب وہ سمجھ لیں تو انہیں بتائیے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی جنت باغیوں کے لیے نہیں بنائی ہے بلکہ اپنی وفادار و فرمانبردار رعیت کے لیے بنائی ہے۔ اس وفادار رعیت میں سے اگر کوئی شخص کوئی ناقابل معافی جُرم کرتا ہے یا اس نوعیت کے بہت سے جرائم کا ارتکاب کر بیٹھتا ہے تو اُسے اُس کے جرائم کے مطابق سزا دی جائے گی اور جب وہ اپنی سزا بھگت لے گا تو جنت میں داخل کر دیا جائے گا لیکن جس نے بغاوت کا ارتکاب کیا ہے وہ کسی طرح جنت میں نہیں جا سکتا۔ اُس کا مقام بہرحال دوزخ ہے۔ دوسرے کسی جُرم کا وہ مُرتکب نہ بھی ہو تو بغاوت بجائے خود اتنا بڑا جرم ہے جس کے ساتھ کوئی نیکی بھی اسے جنت میں نہیں پہنچا سکتی۔ (ترجمان القرآن، اگست ۱۹۵۷ء)