رسائل ومسائل – جلد پنجم
مجموعہ: رسائل ومسائل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
رسائل ومسائل کی جلد پنجم۔ اس جلد میں 82 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «کیا حرام مہینوں کی حرمت کا حکم اب بھی باقی ہے؟»، «درایت حدیث»، «حضرت ابراہیم علیہ السلام کا دَورِ تفکّر»، «بشریتِ خضرؑ کا مسئلہ»، «خدائی وعدوں کا مفہوم»، «اللہ کے رازق ہونے کا مطلب» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
چند قرآنی مفردات کی توضیح
سوال – <<فَادْعُ لَنَا رَبَّكَ يُخْرِجْ لَنَا مِمَّا تُنْبِتُ الْأَرْضُ...... وَبَصَلِهَا>> (البقرہ تفہیم القرآن، جلد اول، ص ۷۹-۸۰ - رکوع ۶)
آپ نے اس آیت کا ترجمہ یوں کیا ہے:
”اپنے رب سے دُعا کرو کہ ہمارے لیے زمین کی پیداوار ساگ، ترکاری، گیہوں، لہسن، پیاز، دال وغیرہ پیدا کرے۔“
”ساگ“ کے بعد یہ (،) نشان ہے پھر آپ نے ”ترکاری“ لکھا ہے۔ ”بقلھا“ کا ترجمہ ”ساگ ترکاری“ ٹھیک ہے، مگر دونوں لفظوں کے درمیان یہ نشان (،) محلِ غور ہے! آپ کے ترجمہ سے ایسا لگتا ہے کہ ”قثائها“ کا ترجمہ آپ نے ترکاری“ کیا ہے حالانکہ ”قثائها“ ”ککڑیوں“ کو کہتے ہیں۔ شیخ الہند مولانا محمود الحسن نے بھی یہی ترجمہ کیا ہے، عبداللہ یوسف علی نے بھی ”قثائها“ کو انگریزی میں (CUCUMBERS) لکھا ہے۔ ”بصل“ پیاز کو کہتے ہیں یا ”لہسن پیاز“ کو! ”لہسن“ قرآنِ کریم کے کس لفظ کا ترجمہ ہے؟ پھر آپ کے ترجمہ میں ترتیب یوں ہوگئی ہے۔— ”پیاز دال وغیرہ“، حالانکہ ”پیاز“ آخر میں آنا چاہیے تھا — کیا ”وغیرہ“ کا اضافہ مفسرین نے کیا ہے؟
جواب۔ آپ نے میرے ترجمے کے جن الفاظ کی طرف توجہ دلائی ہے اُن کے معانی کی تفصیل صُراح (عربی سے فارسی لُغت) اور فارسی ترجمہ مُنتہی الارَب سے درج ذیل ہے:
بقل: تره و سبزی، <<وَيُقَالُ كُلُّ نَبَاتٍ اِخْضَرَّتْ لَهُ الْاَرْضُ>> یعنی یہ لفظ ہر اُس نبات کے لیے بولا جاتا ہے جس سے زمین سبز ہو جائے (صُراح)۔ تره و سبزه که از تخم بروید نه از بیخ (منتہی الارب)۔ ترہ کا لفظ فارسی زبان میں ساگ اور ترکاری دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے اور اوپر جو حوالے میں نے دیئے ہیں ان میں ترہ و سبزی واو عطف کے ساتھ لکھے گئے ہیں۔ اس لیے ساگ، ترکاری لکھنا زیادہ صحیح ہے۔
قِثّاء: خیار (صراح)۔ خیار ترہ کہ از خیار دراز باشد (یعنی ککڑی)، و خیار (یعنی کھیرا) (انتہی الارب)۔ اس کا ترجمہ واقعی مجھ سے چھوٹ گیا ہے آئندہ اس کا اضافہ کر دوں گا۔
فُوم: سیر مثل ثوم، و نخود، و گندم (صراح)۔ سیر و گندم و نخود و ہر دانہ کہ از اں نان پزند و ہر گرہ سیر و پیاز (منتہی الارب) سیر کے معنی فارسی زبان میں لہسن کے ہیں۔
عَدَس: نرسک نوع از غلہ، ہندی مسُور (صراح)، نرسک (منتہی الارب) بَصَل: پیاز (صراح و منتہی الارب)۔
چونکہ زیادہ تر الفاظ جو اس آیت میں استعمال ہوئے ہیں وسیع المعنیٰ ہیں اور ہر ایک کے تمام معانی ترجمے میں نہیں دیئے جاسکتے تھے اس لیے میں نے وغیرہ کا لفظ استعمال کر کے یہ ظاہر کیا ہے کہ یہ الفاظ اسی طرح کی دوسری چیزوں پر بھی حاوی ہیں۔ چونکہ میں نے ترجمہ نہیں کیا ہے بلکہ ترجمانی کی ہے اس لیے قرآنی الفاظ کے حدود میں رہتے ہوئے اس طرح کے اضافے کر دیئے ہیں جو قرآنی عبارات کے منشاء کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ (ترجمان القرآن، نومبر ۱۹۶۶ء)