مرکزی مواد پر جائیں
رسائل ومسائل کی طرف واپس

رسائل ومسائل – جلد پنجم

مجموعہ: رسائل ومسائل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

رسائل ومسائل کی جلد پنجم۔ اس جلد میں 82 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «کیا حرام مہینوں کی حرمت کا حکم اب بھی باقی ہے؟»، «درایت حدیث»، «حضرت ابراہیم علیہ السلام کا دَورِ تفکّر»، «بشریتِ خضرؑ کا مسئلہ»، «خدائی وعدوں کا مفہوم»، «اللہ کے رازق ہونے کا مطلب» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

قرآن کی آیات سے قادیانیوں کا غلط استدلال

سوال۔ میں نے آپ کی بہت سے تحریروں کا مطالعہ کیا، لیکن مرزائی جس آیت سے استدلال کرتے ہیں اس پر آپ کا کوئی تبصرہ نہیں دیکھا۔ یہ سورۃ اعراف کی آیت ۳۵ ہے : <<يٰبَنِيْۤ اٰدَمَ اِمَّا يَاْتِيَنَّكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ>> یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل شدہ قرآن میں بنی آدم کو خطاب کر کے فرمایا جا رہا ہے کہ تم میں سے رسول آئیں گے اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ حضورؐ کے بعد انبیاء کی آمد کا راستہ کھلا ہے۔ قادیانیوں کے اس استدلال کا کیا جواب ہے؟ اسی طرح وہ سورۃ مومنون کی آیت ۵۱ اور حدیث <<لو عاش ابراهيم لكان نبياً>> سے بھی دلیل لاتے ہیں۔ ان کے جواب میں کیا کہا جا سکتا ہے؟

جواب۔ سورۃ اعراف کی آیت ۳۵ کو اس کے سیاق و سباق سے الگ کر کے جو نتیجہ نکالا جاتا ہے اول تو وہ اُس نتیجے کے بالکل برعکس ہے جو سلسلۂ کلام میں اسے رکھ کر دیکھنے سے نکلتا ہے پھر اس مضمون کی جو دوسری آیات قرآن مجید میں ہیں وہ بھی قادیانیوں کی تفسیر سے مختلف ہیں۔ مزید برآں قادیانیوں سے پہلے گذشتہ تیرہ سو برس میں کسی نے بھی مذکورہ بالا آیت کا یہ مطلب نہیں لیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سلسلۂ نبوت جاری رہنے کا ذکر اس آیت میں کیا گیا ہے۔ میں ان تینوں نکات کی الگ الگ تشریح کیے دیتا ہوں تاکہ قادیانی استدلال سے دھوکا کھانے کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے۔

۱- سورۃ اعراف میں یہ آیت دراصل قصّۂ آدم و حوّا کے سلسلے میں آتی ہے جو رکوع دوم کے آغاز سے رکوع چہارم کے وسط تک مسلسل بیان ہوا ہے۔ پہلے رکوع دوم میں پورا قصّہ بیان کیا گیا ہے اور اس کے بعد رکوع سوم و چہارم میں اُن نتائج پر تبصرہ کیا گیا ہے جو اس قصّے سے نکلتے ہیں۔ اس سیاق و سباق کو ذہن میں رکھ کر آپ آیت ۳۵ کو پڑھیں تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ ”یا بنی آدم“ کے الفاظ سے مخاطب کر کے جو بات کہی گئی ہے اس کا تعلق آغازِ آفرینش کے وقت سے ہے نہ کہ نزولِ قرآن کے وقت سے۔ بالفاظ دیگر اس کا مطلب یہ ہے کہ آغازِ آفرینش ہی میں اولادِ آدم کو اس بات پر متنبہ کر دیا گیا تھا کہ تمہاری نجات اُس ہدایت کی پیروی پر موقوف ہے جو خدا کی طرف سے بھیجے جانے والے انبیاء کے ذریعہ سے آئے۔

۲- اس مضمون کی آیات قرآن مجید میں تین مقامات پر آئی ہیں، اور تینوں مقامات پر قصّۂ آدم و حوّا کے سلسلے ہی میں اس کو وارد کیا گیا ہے۔ پہلی آیت سورۃ بقرہ میں ہے (آیت ۳۸)، دوسری آیت سورۃ اعراف میں ہے (آیت ۳۵)۔ تیسری آیت سورۃ طہ میں ہے (آیت ۱۲۳)۔

ان تینوں آیتوں کا مضمون بھی باہم مشابہ ہے اور موقع و محل بھی مشابہ۔

۳۔ مفسرینِ قرآن دوسری آیتوں کی طرح سورۃ اعراف کی اس آیت کو بھی قصۂ آدمؑ و حواؑ ہی سے متعلق قرار دیتے ہیں۔ چنانچہ علامہ ابن جریرؒ طبری نے اپنی تفسیر میں اس آیت کے متعلق ابو سیار سلمی کا قول نقل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ "اللہ تعالیٰ نے یہاں حضرت آدمؑ اور ان کی ذریت کو یکجا اور ایک ہی وقت میں خطاب کیا ہے۔" امام رازی اپنی تفسیر کبیر میں اس آیت کی تشریح میں لکھتے ہیں کہ "اگر خطاب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہو، حالانکہ وہ خاتم الانبیاء ہیں، تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ یہاں اُمتوں کے بارے میں اپنی سنت بیان فرما رہا ہے۔" علامہ آلوسی اپنی تفسیر روح المعانی میں فرماتے ہیں کہ "یہاں ہر قوم کے ساتھ جو معاملہ پیش آیا ہے اسے حکایۃً بیان کیا جا رہا ہے۔ یہاں بنی آدم سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت مراد لینا مُستبعد اور ظاہر کے خلاف ہے۔ کیونکہ یہاں جمع کا لفظ "رُسُل" استعمال ہوا ہے۔" علامہ آلوسی کے ارشاد کے آخری حصے کا مطلب یہ ہے کہ اگر یہاں خطاب اُمتِ محمدیہ سے ہوتا تو پھر اس اُمت کو یہ نہیں کہا جا سکتا تھا کہ "اگر کبھی تم میں سے رسول آئیں" کیونکہ اس اُمت میں ایک سے زائد رسولوں کے آنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

آیت <<يَاأَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا ۖ إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ>> (المؤمنون: ۵۱) کو بھی اگر اس کے سیاق و سباق سے الگ نہ کیا جائے تو اس سے وہ مطلب نہیں نکالا جا سکتا جو قادیانی حضرات نے نکالا ہے۔ یہ آیت جس سلسلۂ کلام میں وارد ہوئی ہے وہ رکوع دوم سے مسلسل چلا آ رہا ہے۔ اس میں حضرت نوحؑ سے لے کر حضرت عیسیٰ بن مریمؑ تک مختلف زمانوں کے انبیاء اور ان کی قوموں کا ذکر کر کے یہ بتایا گیا ہے کہ ہر جگہ اور ہر زمانے میں انبیاء علیہم السلام ایک ہی تعلیم دیتے رہے ہیں۔ ایک ہی ان سب کا طریقہ رہا ہے اور ایک ہی طرح سے ان سب پر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہوتا رہا ہے۔ اس کے برعکس گمراہ قومیں ہمیشہ خدا کے رستے کو چھوڑ کر غلط کاری میں مبتلا رہی ہیں۔ اس سلسلۂ بیان میں یہ آیت اس معنی میں نہیں آئی کہ ”اے رسولو، جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آنے والے ہو، پاک رزق کھاؤ اور نیک عمل کرو“ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اُن تمام رسولوں کو، جو نوح علیہ السلام کے وقت سے اب تک آئے ہیں اللہ تعالیٰ نے یہی ہدایت فرمائی تھی کہ ”پاک رزق کھاؤ اور نیک عمل کرو“

اس آیت سے بھی مفسرین قرآن نے کبھی یہ مطلب نہیں لیا کہ یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد انبیاء کی آمد کا دروازہ کھولتی ہے۔ اگر کوئی مزید تحقیق و اطمینان کرنا چاہے تو مختلف تفسیروں میں اِس مقام کو دیکھ سکتا ہے۔

حدیث <<لَوْ عَاشَ إِبْرَاهِيمُ لَكَانَ نَبِيًّا>> سے قادیانی حضرات جو استدلال کرتے ہیں وہ چار وجوہ سے غلط ہے۔

اوّل یہ کہ جس روایت میں اسے خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کی حیثیت سے بیان کیا گیا ہے اس کی سند ضعیف ہے اور محدثین میں سے کسی نے بھی اس کو قوی تسلیم نہیں کیا ہے۔

دوم یہ کہ نَوَوی اور ابن عبدالبر جیسے اکابر محدثین اِس مضمون کو ناقابلِ اعتبار قرار دیتے ہیں۔ امام نَوَوی اپنی کتاب ”تہذیب الاسماء واللغات“ میں لکھتے ہیں:

<<أَمَّا مَا رُوِيَ عَنْ بَعْضِ الْمُتَقَدِّمِينَ لَوْ عَاشَ إِبْرَاهِيمُ لَكَانَ نَبِيًّا فَبَاطِلٌ وَجَسَارَةٌ عَلَى الْكَلَامِ عَلَى الْمُغَيَّبَاتِ وَمُجَازَفَةٌ وَهُجُومٌ عَلَى عَظِيمٍ>>

”رہی وہ بات جو بعض متقدمین سے منقول ہے کہ ”اگر ابراہیم زندہ ہوتے تو نبی ہوتے“ تو وہ باطل ہے اور غیب کی باتوں پر کلام کرنے کی بے جا جسارت ہے اور بے سوچے سمجھے ایک بڑی بات منہ سے نکال دینا ہے“

اور علامہ ابن عبدالبر ”تمہید“ میں لکھتے ہیں :

<< لا ادری ما هذا فقد ولد نوح عليه السلام غير نبى ولو لم يلد النبى الا نبيا لكان كل احد نبيّاً لانهم من نوح عليه السلام >>

”میں نہیں جانتا کہ یہ کیا مضمون ہے۔ نوح علیہ السلام کے ہاں غیر نبی اولاد ہو چکی ہے۔ حالانکہ اگر نبی کا بیٹا نبی ہونا ضروری ہوتا تو آج سب نبی ہوتے۔ کیونکہ سب کے سب نوح علیہ السلام کی اولاد ہیں“

سوم یہ کہ اکثر روایات میں اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بجائے بعض صحابیوں کے قول کی حیثیت سے نقل کیا گیا ہے اور وہ اس کے ساتھ یہ تصریح بھی کر دیتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد چونکہ کوئی نبی نہیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کے صاحبزادے کو اٹھا لیا۔ مثال کے طور پر بخاری کی روایت یہ ہے :

<< عن اسمعيل بن ابى خالد قال قلت لعبد الله بن ابى اوفی رأيت ابراهيم بن النبى صلّى الله عليه وسلّم؟ قال مات صغيراً ولو قضى ان يكون بعد محمد صلّى الله عليه وسلّم نبى عاش ابنه ولكن لا نبى بعده (بخارى، كتاب الادب، باب من سمى باسماء الانبياء) >>

اسماعیل بن خالد کہتے ہیں کہ میں نے عبد اللہ بن ابی اوفی (صحابی) سے پوچھا کہ آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے کو دیکھا ہے؟ انہوں نے کہا وہ بچپن ہی میں مر گئے۔ اگر اللہ تعالیٰ کا فیصلہ یہ ہوتا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی ہو تو آپ کا صاحبزادہ زندہ رہتا، مگر حضور کے بعد کوئی اور نبی نہیں ہے۔

اسی سے ملتی جلتی روایت حضرت انسؓ سے بھی منقول ہے جس کے الفاظ یہ ہیں:

<<ولو بقی لكان نبيا لكن لم يبق لان نبيكم آخر الانبياء>>

(تفسیر روح المعانی، جلد ۲۲، صفحہ ۳)

”اگر وہ زندہ رہتے تو نبی ہوتے، مگر وہ زندہ نہ رہے کیونکہ تمہارے نبی آخری نبی ہیں“

چہارم یہ کہ اگر بالفرض صحابہ کرام کی یہ تصریحات بھی نہ ہوتیں، اور محدثین کے وہ اقوال بھی موجود نہ ہوتے جن میں اس روایت کو جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کی حیثیت سے منقول ہوئی ہے، ضعیف اور ناقابل اعتبار قرار دیا گیا ہے، تب بھی وہ کسی طرح قابلِ قبول نہ ہوتی، کیونکہ یہ بات علم حدیث کے مسلمہ اصولوں میں سے ہے کہ اگر روایت سے کوئی ایسا مضمون نکلتا ہو جو بکثرت صحیح احادیث کے خلاف پڑتا ہو تو اسے قبول نہیں کیا جا سکتا۔

اب ایک طرف وہ کثیر التعداد صحیح اور قوی السند احادیث ہیں جن میں صاف صاف تصریح کی گئی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا دروازہ بند ہو چکا ہے، اور دوسری طرف یہ اکیلی روایت ہے جو باب نبوت کے کھلے ہونے کا امکان ظاہر کرتی ہے، آخر کس طرح جائز ہے کہ اس ایک روایت کے مقابلے میں اُن سب روایتوں کو ساقط کر دیا جائے؟ (ترجمان القرآن، نومبر ۱۹۲۹ء)