رسائل ومسائل – جلد پنجم
مجموعہ: رسائل ومسائل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
رسائل ومسائل کی جلد پنجم۔ اس جلد میں 82 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «کیا حرام مہینوں کی حرمت کا حکم اب بھی باقی ہے؟»، «درایت حدیث»، «حضرت ابراہیم علیہ السلام کا دَورِ تفکّر»، «بشریتِ خضرؑ کا مسئلہ»، «خدائی وعدوں کا مفہوم»، «اللہ کے رازق ہونے کا مطلب» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
سات آسمانوں کی حقیقت---- پسلی سے حضرت حوّا کی تخلیق
سوال تفہیم القرآن کا مطالعہ کرتے ہوئے دو مقامات کے بارے میں قدرے تردُّد پیدا ہوا ہے۔ اگر آپ میرے شکوک کو رفع فرمائیں تو بہتر ہو گا۔
(۱) قرآن کریم کی ظاہری آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ سات آسمان چند مخصوص مواضع کا نام ہے جو اس زمین سے علیحدہ مکانات ہیں۔ وہ ایک دوسرے کے اوپر چھت کی طرح ہیں مثلاً <<سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا>> - <<فَسَوّٰهُنَّ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ>> - <<سَقْفًا مَّحْفُوْظًا>> - <<زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيْحَ>> - قرآن سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آسمانوں کے باقاعدہ دروازے ہوں گے مثلاً <<فُتِحَتِ السَّمَاءُ فَكَانَتْ اَبْوَابًا>> احادیث میں اس کی تشریح حدیثِ معراج میں ملتی ہے جس میں صریح طور پر سات آسمانوں کو سات علیحدہ علیحدہ مکانات تسلیم کیا گیا ہے۔ مگر آپ نے تفہیم القرآن جلد ۱ سورہ بقرہ حاشیہ ۳۴ کے تحت لکھا ہے کہ ”بس مجملاً اتنا سمجھ لینا چاہیے کہ یا تو اس سے مراد یہ ہے کہ زمین سے ماورا جس قدر کائنات ہے اُسے اللہ نے سات محکم طبقوں میں تقسیم کر رکھا ہے، یا یہ کہ زمین اِس کائنات کے جس حلقے میں واقع ہے وہ سات طبقوں پر مشتمل ہے“۔
از راہِ کرم اس عبارت کی ان نصوص کی روشنی میں تشریح کریں تاکہ آپ کا بیان کردہ نظریہ پوری طرح ذہن نشین ہو جائے۔
(ب) تفہیم القرآن جلد ۱، سورۃ نساء، حاشیہ نمبر ۱ کے تحت آپ نے لکھا ہے کہ خَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا کے بارے میں عام طور پر جو بات اہل تفسیر بیان کرتے ہیں اور جو بائبل میں بھی بیان کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ آدم کی پسلی سے حوا کو پیدا کیا گیا۔ لیکن کتاب اللہ اس بارے میں خاموش ہے اور جو حدیث اس کی تائید میں پیش کی جاتی ہے اس کا مفہوم وہ نہیں ہے جو لوگوں نے سمجھا ہے۔ ”اس کے بارے میں عرض ہے کہ یہ حدیث جس کا حوالہ آپ نے دیا ہے یہ تو بخاری اور مسلم کی ہے۔
از راہ کرم اس بارے میں تحریر فرمائیں کہ کیا یہ حدیث ناقابل قبول ہے اور اگر نہیں تو اس کا صحیح مفہوم کیا ہے۔
جواب: آپ کے سوالات کے مختصر جوابات درج ذیل ہیں:
(۱) جو اشیاء کبھی انسان کے علم اور تجربے میں نہیں آتی ہیں ان کے لیے انسانی زبان میں الفاظ نہیں پاتے جاتے۔ ایسی چیزوں کا جب قرآن و حدیث میں ذکر کیا جاتا ہے تو انسانی زبان کے وہ الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں جو انسان نے اپنے دائرۂ محسوسات میں پائی جانے والی اشیاء کے لیے وضع کیے ہیں۔ ان الفاظ کو بالکل ان کے لغوی معنی میں لے لینا درست نہیں ہے، بلکہ ان کی مدد سے غیر محسوس اشیاء کے متعلق صرف ایک اجمالی تصور ذہن میں قائم کرنا چاہیے۔ تاہم اگر کوئی شخص چھت کا لفظ سن کر اپنے گھر کی چھت کا خیال کر سکتا ہو، اور دروازے کے لفظ سے اس کے ذہن میں صرف وہی تصویر آ سکتی ہو جو اپنے گھر کے دروازوں اور کھڑکیوں سے اس کے مشاہدے میں آتی رہی ہے تو وہ بیچارہ معذور ہے، اس کے لیے یہ ضروری نہیں ہے کہ وہ جس طرح بات کو سمجھنے کی قدرت رکھتا ہے اس سے زیادہ وسیع مفہوم میں اسے سمجھے۔
(۲) حضرت حوّا کے پسلی سے پیدا کیے جانے کا عقیدہ جن احادیث پر مبنی قرار دیا جاتا ہے ان میں یہ الفاظ نہیں ہیں کہ حضرت حوّا آدم علیہ السّلام کی پسلی سے پیدا کی گئی تھیں، بلکہ ان میں سے ایک کے الفاظ یہ ہیں کہ عورتیں پسلی سے پیدا ہوئی ہیں (<<استوصوا بالنساء خیراً فانھن خُلقن من ضلع>>)، عورت کو پسلی سے تشبیہ دی گئی ہے (<<المرأة کالضلع>>)، اور تیسری میں یہ فرمایا گیا ہے کہ عورت ذاتِ پسلی سے پیدا ہوئی ہے (<<المرأة خُلقت من ضلع>>) مزید برآں ان سب حدیثوں میں اصل موضوع بحث انسانی تخلیق کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ حضورؐ نے یہ بات اس غرض کے لیے بیان فرمائی ہے کہ عورت کے مزاج میں پسلی کی سی کجی ہے اس کو سیدھا کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے بلکہ اس کی اسی فطری کجی کو ملحوظ رکھ کر ہی اس سے برتاؤ کرنا چاہیے۔ کیا واقعی آپ کا خیال یہ ہے کہ ان احادیث کی رُو سے حضرت حوّا کا آدمؑ کی پسلی سے پیدا ہونا ایک اسلامی عقیدہ قرار پاتا ہے؟(ترجمان القرآن، مئی ۱۹۶۶ء)