رسائل ومسائل – جلد پنجم
مجموعہ: رسائل ومسائل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
رسائل ومسائل کی جلد پنجم۔ اس جلد میں 82 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «کیا حرام مہینوں کی حرمت کا حکم اب بھی باقی ہے؟»، «درایت حدیث»، «حضرت ابراہیم علیہ السلام کا دَورِ تفکّر»، «بشریتِ خضرؑ کا مسئلہ»، «خدائی وعدوں کا مفہوم»، «اللہ کے رازق ہونے کا مطلب» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
مُقدّمہ
مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے ۱۹۳۲ء سے لے کر ۱۹۷۹ء تک جو فکری جنگ لڑی ہے وہ بیسویں صدی کی انسانی تاریخ کا ایک نہایت اہم باب ہے۔
انسانوں کی فکر تبدیل کرنا اور ان کی زندگی کے دھارے کو ایک نئے راستے پر ڈال دینا اُن لوگوں کا کام ہے جو خالقِ کائنات کی طرف سے قابلیت و بصیرت کے خصوصی جوہر لے کر دنیا میں آتے ہیں۔ اسلام کی طویل تاریخ میں وقتاً فوقتاً ایسی شخصیتیں اُبھرتی رہی ہیں جنہوں نے اپنے اپنے دور میں الحاد و انحراف، جمود و تعطل اور ظلم و جور کے خلاف بھرپور لڑائی لڑی ہے، مگر جب ہم بیسویں صدی کی تاریخ کا جائزہ لیتے ہیں اور عالم اسلام کے اطراف و اکناف پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں صاف نظر آتا ہے کہ جاہلیت ہمہ جہت عروج پر ہے، اُس نے پوری قوت و توانائی کے ساتھ فلسفہ و سائنس، اقتصاد و معیشت، تعلیم و تربیت، سیادت و سیاست اور مقامی و بین الاقوامی گوشوں پر پنجے گاڑ رکھے ہیں۔ جاہلیت کی گرفت یوں تو ہر دورِ انحطاط میں شدید و عمیق رہی ہے لیکن بیسویں صدی کے نصفِ اوّل میں انسانی وسائل کی وسعت و جدت کی وجہ سے جاہلیت کی گرفت بھی ہمیں وسیع تر اور شدید تر نظر آتی ہے۔ ہمیں یہ سب کچھ تو نظر آتا ہے، لیکن جب ہم یہ جائزہ لیتے ہیں کہ اس جاہلیتِ عظمیٰ کا مقابلہ کرنے کے لیے وہ عظیم انسان کتنے ہیں جو اُس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اُس کے جادو اثر قبضے سے انسانیت کو نجات دلائیں تو بڑی جستجو کے بعد ہماری نظر چند ہستیوں پر رُک جاتی ہے جن میں ممتاز شخصیت مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمۃ اللہ علیہ کی ہے۔ میں دوسرے خادمِ دین بزرگوں کی خدماتِ جلیلہ کی نفی نہیں کر رہا، جنہوں نے اشاعتِ دین اور احیائے اسلام میں مختلف اعلیٰ سرگرمیاں دکھائی ہیں میرا مدعا یہ ہے کہ دورِ حاضر میں ہمہ گیر جاہلیت کے ساتھ ہمہ جہت جنگ اگر کسی نے لڑی ہے تو وہ مولانا مودودی مرحوم ہیں۔
مولانا مرحوم کے لٹریچر کا مطالعہ کرنے والا خود اندازہ لگالے گا کہ انہوں نے کس کس پہلو سے جاہلیت سے معرکہ آرائی کی ہے اور پھر کس طرح جاہلی امراض کی تشخیص کے ساتھ دینِ حق کی روشنی میں ان امراض کا علاج تجویز کیا ہے۔ قرآن کریم نے اسی عمل کو تبیین کا نام دیا ہے یعنی امراضِ انسانی کی وضاحت اور پھر وحیِ الہٰی کے ذریعہ اُن کا علاج۔ مولانا مرحوم کا یہی وہ کارنامۂ تبیین ہے جس نے مرحوم کو بیسویں صدی کا رَجلِ عظیم بنا دیا ہے۔
رسائل و مسائل کے نام سے مرحوم کی جو کتاب اُردو میں پائی جاتی ہے وہ بظاہر سوالات کا جواب ہے، مگر درحقیقت وہ اُس ہمہ گیر جنگ کا ایک اجمالی خاکہ پیش کرتی ہے جس میں مرحوم نصف صدی سے زیادہ عرصہ تک مشغول رہے ہیں۔ اس اجمالی خاکے سے قارئین اندازہ کر سکتے ہیں کہ مرحوم ایک مفتی کے انداز میں سوالات کا جواب دینے کے بجائے ایک معالج کے طرز پر سائل سے ہمکلام ہوتے ہیں اور سائل جس اُلجھن اور جس شکایت سے دوچار ہے، اپنے ناخنِ گرہ کشا سے اُسے دُور کر دیتے ہیں۔
ادارہ معارفِ اسلامی منصورہ کو یہ سعادت نصیب ہورہی ہے کہ وہ رسائل و مسائل حصہ پنجم کو قارئین کی خدمت میں پیش کر رہا ہے۔ اگر قارئین پہلے چار حصوں کے ساتھ اس پانچویں حصے کو ملا کر پڑھیں گے تو وہ یقیناً اپنے اندر کتاب و سنت کی تعلیمات کا وہ لطف محسوس کریں گے جن میں نہ صرف انسانوں کے لیے شفا ہے بلکہ جن کے بغیر انسانی زندگی ایک عذاب و وحشت ہے، اور جن کو اختیار کرنے سے انسان سعادت بکنار ہو جاتا ہے۔
رسائل و مسائل کے مطالعہ سے ایک اور حقیقت سامنے آتی ہے ۔ وہ یہ کہ مولانا مودودیؒ نے تہذیب روشن کہلانے والی جاہلیت جدیدہ کے علاوہ جاہلیت قدیمہ کے کانٹے بھی راہِ حق سے چنے ہیں جو تفرقہ پردازانہ فتنوں کے ساتھ عجمی رسمیات کی آمیزش پاکر دینی سرگرمیوں اور تقریروں اور مسائل میں داخل ہو گئی ہے۔ اس نازک ترین کاوش میں مولانا کا مسلک یہ رہا ہے کہ خود انہوں نے اپنے آپ کو فرقہ وارانہ موقف سے دُور رکھا ہے اور مسائل کے دلائل کے جواب میں اگر کسی مخالف نے عاجز آکر ان کی ذات پر کیچڑ اچھالا ہے تو اپنی ذات کے دفاع کے لیے اس پر منفی نزاع چھیڑنے سے اجتناب کرکے مولانا نے مثبت، تعمیری اور اصولی حقائق کو ابھارنے پر توجہ دی ہے۔ مناظرہ و مجادلہ کے راستے سے انہوں نے پورا پورا اجتناب برتا ہے۔ جمود و جاہلیت قدیمہ کے پاسداروں کے ذاتی حملوں کے معاملے میں پوری بے نیازی سے راہِ حق پر بڑھتے چلے جانا ایک بڑی قربانی ہے جو کم ہی لوگ دے سکتے ہیں۔ اس کی بہترین مثال سید رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی میراث میں چھوڑی ہے۔
رسائل و مسائل کا مطالعہ کرنے والوں کے سامنے حکمتِ دعوت کا یہ اہم پہلو بھی رہنا چاہیے۔
مولانا مودودیؒ نے جس کثرت سے سوالات کے مدلل جوابات لکھے ہیں اور ان کے پس منظر کا تجزیہ کیا ہے، ان کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ ایک انتہائی مصروف آدمی کے لیے وقت اور قوت کے دامنِ تنگ میں کتنی وسعتیں پیدا ہو گئیں۔ آج یہ جوابات ادبی نقطۂ نظر سے بھی اُردو کا ایک گراں قدر حصہ ہیں۔ ان کا ایک خاص اُسلوب ہے اور ان میں بعض مخلص طرز کی اصطلاحات اور استعارے ہیں۔ کہیں اجمال کا جمال ہے اور کہیں تفصیل کا کمال! کبھی وہ سائل کی مختصر سی بات کے اندر چھپے ہوئے کسی بڑے مغالطے کو گرفت میں لیتے ہیں اور کبھی طویل عبارتوں میں سے اصلِ قابلِ توجہ چند جُملوں کا جوہر سامنے رکھ دیتے ہیں۔
ہمیں بڑی مسرت ہے کہ آج ہم اس سرمایہ علم و عرفان کو آپ کی خدمت میں پیش کرنے کا شرف حاصل کر رہے ہیں۔
<<وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ>>
خلیل حامدی
ڈائریکٹر ادارۃ معارفِ اسلامی، لاہور
۱