مرکزی مواد پر جائیں
رسائل ومسائل کی طرف واپس

رسائل ومسائل – جلد پنجم

مجموعہ: رسائل ومسائل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

رسائل ومسائل کی جلد پنجم۔ اس جلد میں 82 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «کیا حرام مہینوں کی حرمت کا حکم اب بھی باقی ہے؟»، «درایت حدیث»، «حضرت ابراہیم علیہ السلام کا دَورِ تفکّر»، «بشریتِ خضرؑ کا مسئلہ»، «خدائی وعدوں کا مفہوم»، «اللہ کے رازق ہونے کا مطلب» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

صلوٰۃ خوف

سوال۔ جو افواج پاکستان اپنے پاک وطن کے دفاع کے لیے محاذ پر برسرپیکار ہیں، ان کے بارے میں نماز فرض کا کیا حکم ہے؟ موجودہ حالات میں فرض نماز کے ادا کرنے کا صحیح طریقہ کیا ہے؟

جواب۔ اگر عملاً لڑائی نہ ہو رہی ہو، بلکہ فوجی دستہ محاذ جنگ کی کسی چوکی پر صرف مدافعت کے لیے مستعد بیٹھا ہو تو ایسی حالت میں صلوٰۃ خوف باجماعت اس طرح ادا کی جائے کہ پہلے آدھے سپاہی ایک جگہ جمع ہو کر فرض نماز قصر [قصر سے مراد یہ ہے کہ چار فرض کے بجائے دو پڑھے جائیں چار رکعت سے کم فرائض میں قصر نہیں ہے اور تین میں بھی قصر نہیں سنتیں بھی قصر نہیں ہیں لیکن حالت سفر میں سنت نہ پڑھنا موجب مواخذہ نہیں] ادا کریں اور پھر باقی آدھے نماز ادا کر لیں۔ نماز کے وقت سپاہیوں کو اپنے ہتھیار اپنے ساتھ رکھنے چاہئیں۔

اگر دشمن کے حملے کا فوری خطرہ ہو اور کوئی سپاہی اپنی جگہ سے نہ ہٹ سکتا ہو تو پھر جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا ضروری نہیں ہے، بلکہ جو سپاہی جس جگہ ہو اور جس حال میں ہو، بیٹھے، کھڑے یا لیٹے ہوئے اشاروں سے، صرف فرض نماز قصر کے ساتھ ادا کرے۔ اس حالت میں قبلہ رخ ہونا بھی ضروری نہیں ہے۔ اگر قبلہ کی طرف رخ کر کے نماز نہ پڑھی جا سکتی ہو تو صرف نیت قبلے کی طرف منہ کر کے باندھ لی جائے اور پھر جدھر بھی جنگی ضرورت کے لیے رخ کرنا پڑے اسی طرف رخ کر کے نماز ادا کی جا سکتی ہے۔ رکوع و سجدہ نہ ہو سکے تو صرف اشاروں سے ہی نماز پڑھ لی جائے۔ دوران نماز میں اگر دشمن حملہ کردے تو اسی حالت میں فائر کر سکتے ہیں۔ البتہ اگر اپنی جگہ سے حرکت کرنا اور ساتھیوں سے بات کرنا ضروری ہو تو پھر نماز توڑ دیں اور اس کی قضا بعد میں جب موقع ہو ادا کرلیں۔

اگر عملاً معرکہ کارزار گرم ہو جائے اور نماز پڑھنے کا بالکل موقع ہی نہ مل رہا ہو تو پھر نماز قضا کی جاسکتی ہے۔ ان حالات میں جتنی نمازیں بھی قضا ہوں انہیں معرکہ ختم ہونے کے بعد ادا کر لیا جائے۔ (ترجمان القرآن، نومبر ۱۹۶۵ء)