رسائل ومسائل – جلد پنجم
مجموعہ: رسائل ومسائل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
رسائل ومسائل کی جلد پنجم۔ اس جلد میں 82 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «کیا حرام مہینوں کی حرمت کا حکم اب بھی باقی ہے؟»، «درایت حدیث»، «حضرت ابراہیم علیہ السلام کا دَورِ تفکّر»، «بشریتِ خضرؑ کا مسئلہ»، «خدائی وعدوں کا مفہوم»، «اللہ کے رازق ہونے کا مطلب» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
اللہ کے رازق ہونے کا مطلب
سوال: میں آپ سے قرآن مجید کی درج ذیل آیت کا صحیح مفہوم سمجھنا چاہتا ہوں:
<<وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ اِلَّا عَلَى اللهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا>>
(زمین میں چلنے والا کوئی جاندار ایسا نہیں ہے جس کا رزق اللہ کے ذمے نہ ہو اور جس کے متعلق وہ نہ جانتا ہو کہ کہاں وہ رہتا ہے اور کہاں وہ سونپا جاتا ہے)۔
مجھے جو بات کھٹک رہی ہے وہ یہ ہے کہ جب رزق کا ذمہ دار اللہ ہے تو بنگال کے قحط میں چونتیس ہزار آدمی ۱۹۴۳-۱۹۴۴ء میں مرگئے تھے ان کی موت کا کون ذمہ وار تھا ؟
جواب: آیت کا مطلب یہ ہے کہ زمین پر جتنی مخلوقات ہیں ان سب کے رزق کا سامان خدا نے پیدا کیا ہے۔ یہ سامان اگر خدا نہ پیدا کرتا تو کون چھوٹے چھوٹے کیڑوں اور بھنگوں سے لے کر نوعِ انسانی تک، اس بے حد و حساب مخلوق کے لیے ہر ایک کی ضرورت کے مطابق رزق فراہم کر سکتا تھا۔ اب رہی یہ بات کہ مخلوقات میں سے کچھ افراد کبھی رزق نہ ملنے کی وجہ سے بھی مر جاتے ہیں، تو اس سے آخر یہ کہاں لازم آتا ہے کہ اللہ کے رازق ہونے کا انکار کر دیا جائے؟ اوّل تو آپ ذرا یہ اندازہ کریں کہ مخلوقات میں سے کتنے فی کروڑ بلکہ کتنے فی ارب ایسے ہیں جو رزق نہ ملنے کی وجہ سے مرتے ہیں۔ دوسرے یہ بھی سمجھنے کی کوشش کیجیے کہ جس طرح خدا نے اپنی مخلوقات کے لیے زندگی کا بے حد و حساب سامان فراہم کیا ہے اسی طرح اس نے ان کے مرنے کے لیے بھی تو بے شمار اسباب پیدا کیے ہیں۔ روزانہ لاکھوں کروڑوں آدمی پیدا بھی ہوتے ہیں اور مرتے بھی ہیں۔ مرنے والے ایک ہی طرح نہیں مرتے بلکہ بے شمار مختلف صورتوں سے مرتے ہیں۔ اور موت کی ان بے شمار صورتوں میں سے ایک صورت رزق نہ ملنا بھی ہے۔ جب موت کا وقت مقرر آ پہنچتا ہے اس وقت رزق کی موجودگی بھی کسی متنفس کو موت سے نہیں بچا سکتی صرف رزق ہی نہیں بلکہ زندگی اور موت کا سامان بھی اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔ اس لیے <<عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا>> کے ساتھ <<يَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا>> بھی فرمایا گیا۔(ترجمان القرآن، جنوری ۱۹۶۶ء)