مرکزی مواد پر جائیں
رسائل ومسائل کی طرف واپس

رسائل ومسائل – جلد پنجم

مجموعہ: رسائل ومسائل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

رسائل ومسائل کی جلد پنجم۔ اس جلد میں 82 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «کیا حرام مہینوں کی حرمت کا حکم اب بھی باقی ہے؟»، «درایت حدیث»، «حضرت ابراہیم علیہ السلام کا دَورِ تفکّر»، «بشریتِ خضرؑ کا مسئلہ»، «خدائی وعدوں کا مفہوم»، «اللہ کے رازق ہونے کا مطلب» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

(۱) دین و شریعت کی تشریح کے متعلق ایک سوال---- (۲) حج میں جانور ذبح کرنے کا مسئلہ

سوال: (۱) تفہیم القرآن جلد چہارم سورۃ الشوریٰ کے حاشیہ ۴۰ صفحہ ۴۸۸-۴۸۹ پر آپ نے تحریر فرمایا ہے:

"بعض لوگوں نے .... یہ رائے قائم کر لی کہ لامحالہ اس دین سے مراد شرعی احکام و ضوابط نہیں ہیں، بلکہ صرف توحید و آخرت اور کتاب و نبوت کو ماننا اور اللہ تعالیٰ کی عبادت بجا لانا ہے، یا حد سے حد اس میں وہ موٹے موٹے اخلاقی اصول شامل ہیں جو سب شریعتوں میں مشترک رہے ہیں۔ لیکن یہ ایک بڑی سطحی رائے ہے جو محض سرسری نگاہ سے دین کی وحدت اور شرائع کے اختلاف کو دیکھ کر قائم کر لی گئی ہے اور یہ ایسی خطرناک رائے ہے کہ اگر اس کی اصلاح نہ کر دی جائے تو آگے بڑھ کر بات دین و شریعت کی اُس تفریق تک جا پہنچے گی جس میں مبتلا ہو کر سینٹ پال نے دین بلا شریعت کا نظریہ پیش کیا اور سیدنا مسیح علیہ السلام کی امت کو خراب کر دیا۔"

بعد ازاں قرآن کی آیات کے حوالے سے آپ نے ثابت فرمایا ہے کہ دین سے مُراد صرف ایمانیات ہی نہیں بلکہ شرعی احکام بھی اس میں شامل ہیں اور اُمتِ محمدیہ کو جو شریعت دی گئی وہ اِس دَور کے لیے دین ہے اور اِس کا قائم کرنا ہی دین کا قائم کرنا ہے۔ اس سلسلے میں گذارش ہے کہ "رسالہ دینیات" کے باب ششم میں دین اور شریعت کا فرق جو آپ نے بیان فرمایا ہے میری ناقص رائے میں اس پر نظر ثانی کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔

(۲) ہمارے ایک رکن جماعت نے (جو حج کی سعادت حاصل کر چکے ہیں) ایک اجتماع میں کہا کہ محترم مولانا نے تفہیم میں تحریر فرمایا ہے کہ اگر کوئی شخص موسم حج میں حج سے پہلے عمرہ کرے تو وہ قربانی دے لیکن مکہ مکرمہ میں عمرے کے بعد کوئی قربانی نہیں دی جاتی۔ اس میں انہوں نے تفہیم القرآن جلد اول، سُورۃ البقرہ، آیت ۱۹۶ کے ترجمے کا حوالہ دیا ہے جو درج ذیل ہے :- "..... تو جو شخص تم میں سے حج کا زمانہ آنے تک عمرے کا فائدہ اٹھاتے وہ حسبِ مقدور قربانی دے .... "میں نے انہیں سمجھانے کی اپنی سی کوشش کی کہ یہ تو آیت کا ترجمہ ہے اور اس کا مفہوم یہ نہیں کہ عمرے کے فوراً بعد ہی قربانی دی جائے، بلکہ مراد یہ ہے کہ تمتع اور قرآن میں قربانی واجب ہے حج کا زمانہ آنے تک عمرے کا فائدہ اٹھانے کے بارے میں جو وضاحت آپ نے حاشیہ ۲۱۳ کے آخر میں فرمائی ہے اس کی طرف بھی ان کی توجہ مبذول کرائی گئی لیکن ان کا اصرار ہے کہ بیان واضح نہیں۔ بہرحال اگر آپ مناسب سمجھیں تو اس مسئلے کی مزید وضاحت فرمائیں تاکہ غلط فہمی کا امکان نہ رہے۔"

جو اب ۔ سورۃ شوریٰ کا حاشیہ نمبر ۴۰ اگر پورا پڑھا جائے تو رسالہ دینیات میں دین اور شریعت کے فرق پر جو مختصر کلام کیا گیا ہے اُس پر نظر ثانی کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ خصوصیت کے ساتھ آپ صفحہ ۴۹ کی یہ عبارت دیکھیں: "جس نبی کی اُمت کو جو شریعت بھی اللہ تعالیٰ نے دی تھی وہ اُس اُمت کے لیے دین تھی اور اس کے دورِ نبوت میں اُسی کی اقامت مطلوب تھی۔ (اور اب چونکہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا دورِ نبوت ہے، اس لیے اُمتِ محمدیہ کو جو شریعت دی گئی ہے وہ اِس دور کے لیے دین ہے اور اسی کا قائم کرنا ہی دین کا قائم کرنا ہے۔"

رسالہ دینیات میں جو بات کہی گئی ہے وہ یہ ہے کہ دین کا حصہ ایمانیات ہمیشہ سے مشترک رہا ہے، اور اس کا حصہ شریعت مختلف زمانوں میں مختلف انبیاء کے ذریعے سے بلحاظِ احوال مختلف رہا ہے۔ یہ رسالہ چونکہ مبتدیوں کے لیے لکھا گیا تھا اس لیے اس میں وہ مفصل بحث نہیں کی جا سکتی تھی جو سورۃ شوریٰ کی تفسیر میں کی گئی ہے۔

سورۃ بقرہ آیت ۱۹۶ میں تین حکم الگ الگ بیان فرمائے گئے ہیں۔ (۱) جب آدمی نے حج یا عمرے کے لیے احرام باندھ لیا ہو اور پھر کوئی مانع ایسا پیش آگیا ہو کہ حرم تک پہنچنا ممکن نہ رہا ہو تو اُسے ہدی بھیجنی چاہیے اور اُس وقت تک احرام سے باہر نہ آنا چاہیے جب تک ہدی کی قربانی نہ ہو چکی ہو۔ (۲) اگر آدمی کسی بیماری کی وجہ سے حجامت کرانے پر مجبور ہو جائے تو حجامت کرالے اور فدیہ ادا کر دے۔ (۳) اگر کوئی امر مانع پیش نہ آیا ہو اور آدمی حرم پہنچ گیا ہو تو تمتع یا قرآن کرنے کی صورت میں اسے قربانی دینی ہوگی۔ البتہ افراد کرنے کی صورت میں اس پر کوئی دم واجب نہ ہوگا۔

(ترجمان القرآن، اپریل ۱۹۷۷ء)