رسائل ومسائل – جلد پنجم
مجموعہ: رسائل ومسائل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
رسائل ومسائل کی جلد پنجم۔ اس جلد میں 82 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «کیا حرام مہینوں کی حرمت کا حکم اب بھی باقی ہے؟»، «درایت حدیث»، «حضرت ابراہیم علیہ السلام کا دَورِ تفکّر»، «بشریتِ خضرؑ کا مسئلہ»، «خدائی وعدوں کا مفہوم»، «اللہ کے رازق ہونے کا مطلب» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
درایت حدیث
سوال۔ آپ نے سورۂ ص کی تفسیر میں حضرت سلیمان علیہ السلام کے متعلق روایتِ ابوہریرہؓ کی سند کو درست قرار دیا ہے مگر اس کے مضمون کو صریح عقل کے خلاف قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ آپ کے مخالفین اس چیز کو آپ کے انکارِ سُنت پر بطور دلیل پیش کر سکتے ہیں کہ آپ عقل کی آڑ لے کر صحیح احادیث کا انکار کر دیتے ہیں۔ آپ اپنی اس رائے کو بدل دیں یا پھر اس پر کوئی نقلی دلیل آپ کے پاس ہو تو تحریر فرمائیں۔ اگر ائمہ اسلاف میں سے کسی نے یہ بات کہی ہے تو اس کا حوالہ تحریر فرمائیں۔
اگر کسی امام نے کسی حدیث کی سند کو درست تسلیم کر کے اس کے مضمون کو صرف خلافِ عقل ہونے کی بنا پر مسترد کیا ہو تو اس کا حوالہ تحریر فرمائیں۔
مکرر عرض ہے کہ اگر یہ تسلیم کر لیا جائے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام ایک رات میں نوے بیویوں کے پاس گئے تو اس سے کونسی شرعی قباحت لازم آتی ہے۔ کیا آپ بھی جدید مغرب زدہ طبقہ سے مرعوب تو نہیں ہو رہے؟
جواب: براہ کرم اسی حاشیے کو پھر بغور پڑھ لیں جس پر آپ نے اظہار رائے کیا ہے اسی میں اس امر کی دلیل موجود ہے کہ صحت سند کے باوجود اس حدیث کا مضمون کیوں ناقابل قبول ہے۔ اور اسی میں یہ بات بھی میں نے بیان کر دی ہے کہ اس امر کا قوی احتمال موجود ہے کہ غالباً حضورؐ نے یہودیوں کی خرافات کا ذکر کیا ہو گا اور سامع کو یا بعد کے کسی راوی کو یہ غلط فہمی لاحق ہو گئی کہ یہ بات حضورؐ خود بطور واقعہ بیان فرما رہے ہیں۔
رہا آپ کا یہ سوال کہ کیا ائمہ سلف میں سے بھی کسی نے کسی حدیث کی سند کے صحیح ہونے کے باوجود اس کے مضمون کو قبول نہیں کیا ہے، تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس کی متعدد مثالیں موجود ہیں۔ زاد المعاد میں علامہ ابن قیم حضرت عائشہؓ اور حضرت عبداللہ بن عباس کی روایت کردہ حدیث <<”من عشق فعف فمات فهو شهيد“ وفي رواية ”من عشق وكتم وعف وصبر غفر الله لہ وادخلہ الجنۃ“>> پر کلام کرتے ہوئے فرماتے ہیں: <<لو کان اسناد هذا الحدیث کالشمس کان غلطا و وهما>> ”اگر اس حدیث کی سند آفتاب کی طرح روشن ہوتی تب بھی یہ غلط اور وہم ہوتی“ اور اس کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ اس کا مضمون صحیح نہیں ہے اور یہ زبان بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نہیں معلوم ہوتی (زاد المعاد، ج ۳، ص ۲۰۶-۲۰۷)
الاستیعاب میں علامہ ابن عبدالبر ایک روایت نقل کرنے کے بعد کہتے ہیں <<ان حديث ابن عمرو وهم وغلط وانه لا يصح معناہ وان كان اسنادہ صحيحا>> ”یہ ابن عمرو کی حدیث وہم ہے اور غلط ہے، اس کا مضمون صحیح نہیں ہے اگرچہ اس کی سند صحیح ہے“۔ (جلد دوم صفحہ ۴۶۶)
یہ بات کچھ بعید از عقل و امکان نہیں ہے کہ ایک شخص نے ایک بات واقعی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو مگر اس کو پوری طرح نہ سمجھا ہو، یا موقع و محل پر نگاہ نہ ہونے کی وجہ سے اس کو غلط فہمی لاحق ہوگئی ہو۔ بخاری و مسلم ہی میں یہ واقعہ موجود ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ حضور کا یہ ارشاد نقل فرماتے تھے کہ <<ان الميت يعذب ببكاء اهله>> ”میت پر اس کے گھر والوں کے رونے پیٹنے سے عذاب ہوتا ہے“ یہ بات حضرت عائشہؓ تک پہنچی تو انہوں نے فرمایا اللہ ابن عمرؓ کو معاف فرمائے، وہ جھوٹ نہیں بولتے، مگر انہیں بھول ہوگئی یا وہ سمجھنے میں غلطی کر گئے۔ بات دراصل یہ تھی کہ ایک یہودی عورت کے مرنے پر اس کے گھر والے رو رہے تھے حضور کا وہاں سے گزر ہوا تو آپؐ نے فرمایا یہ یہاں اس پر رو رہے ہیں اور وہ اپنی قبر میں عذاب بھگت رہی ہے۔
اسی لیے حدیث کی سند دیکھنے کے ساتھ اس کے مضمون پر بھی غور کرنا ضروری ہے۔ محض سند کی صحت کا تقاضا یہ نہیں ہے کہ حدیث کا مضمون لازماً جوں کا توں قبول کر لیا جائے خواہ اس میں علانیہ کوئی قباحت نظر آتی ہو۔
آپ فرماتے ہیں کہ حضرت سلیمانؑ ایک رات میں نوے یا سو بیویوں کے پاس گئے تو اس سے کونسی شرعی قباحت لازم آتی ہے؟ میں کہتا ہوں کہ اس میں شرعی قباحت نہیں بلکہ عقلی قباحت ہے اور عقلاً ایسا ہونا ممکن نہیں ہے۔ میں نے تو حساب لگا کر بتا دیا ہے کہ ۹۰ نہیں ۶۰ بیویاں ہی اگر مان لی جائیں تو لازم آتا ہے کہ دس گھنٹوں تک مسلسل ہر دس منٹ میں ایک بیوی کے پاس حضرت سلیمانؑ جاتے اور اس سے مباشرت کر کے فارغ ہوتے چلے گئے۔ کیا آپ کی عقل میں یہ بات آتی ہے کہ ایک انسان دس گھنٹوں تک مسلسل ہر دس منٹ پر مباشرت سے فارغ ہوتا رہے اور فوراً وہ دوسری مباشرت کے لیے تیار ہو جاتے؟ اور بالفرض اگر حضرت سلیمانؑ کی یہ حالت تھی بھی تو کیا بیویاں ایسی تیار بیٹھی ہوئی تھیں کہ ایک بیوی سے فارغ ہوتے ہی حضرت دوسری بیوی کے پاس جاتے ہی فوراً مباشرت میں مشغول ہو جاتے رہے؟ اس طرح کی باتوں کو آپ ماننا چاہیں تو بخوشی مانتے رہیں، مگر یاد رکھیے کہ روایات پر ایسا ہی غلط اصرار فتنہ انکارِ حدیث کو ہوا دے رہا ہے۔ (ترجمان القرآن، مارچ ۱۹۶۵ء)