رسائل ومسائل – جلد پنجم
مجموعہ: رسائل ومسائل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
رسائل ومسائل کی جلد پنجم۔ اس جلد میں 82 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «کیا حرام مہینوں کی حرمت کا حکم اب بھی باقی ہے؟»، «درایت حدیث»، «حضرت ابراہیم علیہ السلام کا دَورِ تفکّر»، «بشریتِ خضرؑ کا مسئلہ»، «خدائی وعدوں کا مفہوم»، «اللہ کے رازق ہونے کا مطلب» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
(۱) کیا معاشی وُجُوہ سے منعِ حمل صحیح ہے؟ ---- (۲) کیا حضرت آدمؑ کے جسم کی ساخت موجودہ انسان جیسی نہ تھی ؟
سوال: عرض یہ ہے کہ میں اپنے ایک عزیز کے دو اعتراضات کا جواب تسلی بخش طور پر نہ دے سکا۔ از راہ کرم رہنمائی فرمائیں۔ اعتراضات یہ ہیں:
۱- مولانا نے قرآن مجید کی آیت : <<وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ خَشْيَةَ إِمْلَاقٍ نَّحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَإِيَّاكُمْ ۖ إِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْئًا كَبِيرًا>> (بنی اسرائیل : ۳۱) کی تفسیر میں انصاف سے کام نہیں لیا اور اس آیت کی تفسیر میں اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لحاظ سے مفہوم نکالا ہے۔ کیونکہ آیت میں قتل کرنے سے منع کیا گیا ہے، اور قتل اُسی کو کیا جاسکتا ہے جس میں جان ہو، جب کہ جان اس جرثومے میں اُسی وقت پڑتی ہے جب رحم مادر میں دو مخالف جرثوموں کا ملاپ واقعہ ہوتا ہے اور ایک جاندار شے وجود میں آتی ہے۔ چونکہ افزائش نسل کو روکنے کے طریقے عام طور پر مذکورہ ملاپ سے پہلے ہی عمل میں آتے ہیں لہٰذا اس چیز کا قتل کیا معنی جس کا وجود یا جان ہی نہ ہو“
۲- ڈارون کے نظریہ ارتقاء کے مخالفین نے اِس نظریہ کی مخالفت محض اِس تصور اور عقیدے کی بنا پر کی ہے کہ انسان آدمؑ کی اولاد ہے۔ اگرچہ یہ عقیدہ درست سہی، لیکن آپ کے پاس اِس بات کو جاننے کا کونسا مستند ذریعہ ہے کہ حضرت آدمؑ کے جسم کی ساخت و بناوٹ وہی رہی ہوگی جو کہ موجودہ انسان کی ہے۔ ممکن ہے کہ حضرت آدمؑ کو اللہ تعالیٰ نے جس شکل میں پیدا کیا ہو وہ ڈارون کے نظریہ کے مطابق ہی ہو یعنی اُس وقت کا انسان (UNI-CELLULAR) ہو۔ صرف فرق اتنا ہی ہو کہ آپ سے آپ وجود میں نہ آیا ہو بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے وجود میں آیا ہو اور بتدریج ترقی کرتا ہوا موجودہ انسان کی شکل کو پہنچا ہو“
جواب: اپنے اپنے عزیز کے جو اعتراضات پیش کیے ہیں اُن کا جواب درج ذیل ہے:
۱- آپ کے عزیز نے سورۃ بنی اسرائیل کی آیت ۳۱ کو بغور نہیں پڑھا بلکہ جو خیالات اُن کے ذہن میں پہلے جمے ہوئے تھے اُنہی کی بنیاد پر آیت سے یہ نتیجہ نکال لیا کہ اس میں صرف قتلِ اولاد سے منع کیا گیا ہے۔ حالانکہ اس آیت میں قتل اولاد کو بڑی خطا قرار دینے کے ساتھ اُس کے مُحرِّک، یعنی خوفِ افلاس، کو بھی غلط قرار دیا گیا ہے، اور ساتھ ہی یہ الفاظ کہہ کر کہ ”ہم اُنہیں بھی رزق دیں گے اور تمہیں بھی“، اس امر کی طرف اشارہ کر دیا گیا ہے کہ خوفِ افلاس جو قتلِ اولاد کا مُحرِّک بنتا ہے، دراصل خدا کی رزاقی پر عدم اعتماد ہے، ورنہ یہ اعتماد موجود ہو تو نہ افلاس کا خوف تمہیں لاحق ہوگا اور نہ تم اولاد کو قتل کرو گے۔ اسی بات کی تشریح میں نے اپنے حاشیے میں کی ہے جس پر غور کرنے کی زحمت آپ کے اِن عزیز نے نہیں اٹھائی۔ اُس میں یہ نہیں کہا گیا ہے کہ حمل کو روکنا قتلِ اولاد ہے، بلکہ کہا یہ گیا ہے کہ جو خوفِ افلاس پہلے قتلِ اولاد اور اسقاطِ حمل کا مُحرِّک ہوتا تھا وہی اب ضبطِ ولادت کی تحریک کا مُحرِّک بنا ہوا ہے، اس لیے معاشی ذرائع کی تنگی کے اندیشے سے افزائشِ نسل کا سلسلہ روک دینا بھی اِس آیت کی رُو سے غلط ہے۔
۲- آپ کے عزیز مجھے معاف کریں اگر میں یہ کہوں کہ وہ قرآن سے زیادہ ڈارون کے معتقد ہیں۔ اِسی وجہ سے انہوں نے تخلیقِ آدم کے متعلق قرآن کے تمام بیانات کو نظر انداز کر کے ڈارون کی رائے کے مطابق حضرت آدمؑ کا واحد الخلیّہ سالمُہ UNI-CELLULAR MOLECULE ہونا از راہِ مہربانی صحیح قرار دینے سے احتراز کرتے ہوئے صرف ”ممکن“ ٹھہرایا ہے، اور مجھ سے یہ سوال کیا ہے کہ آخر تمہارے پاس یہ جاننے کا کون سا مستند ذریعہ ہے کہ حضرت آدمؑ کے جسم کی ساخت ویسی ہی تھی جیسی موجودہ انسان کی ہے؟ میرا جواب یہ ہے کہ اگر صاحبِ موصوف کے نزدیک قرآن مجید علم کا کوئی مُستند ذریعہ نہیں ہے تو اُن سے بحث لا حاصل، کیونکہ محض عقلی حیثیت سے آدمؑ کے جسم کی ساخت کا موجودہ انسان کی ساخت جیسا ہونا بھی اُسی طرح ”ممکن“ ہے جس طرح اُس کا واحد الخلیّہ سالمہ ہونا ”ممکن“ ہے۔ امکان میں جب دونوں برابر ہیں اور کسی ایک کو دوسرے پر ترجیح دینے کے لیے کوئی ”مستند ذریعۂ علم“ نہیں ہے تو خواہ مخواہ بحث میں کیوں وقت ضائع کیا جائے؟ لیکن اگر وہ قرآن کو علم کا مستند ذریعہ مانتے ہوں تو تھوڑی سی زحمت اٹھا کر سورۃ بقرہ، آیات ۳۰ تا ۳۹، سورۃ اعراف، آیات ۱۱ تا ۲۵، سورۃ حجر، آیات ۲۶ تا ۴۲، سورۃ بنی اسرائیل، آیات ۶۱ تا ۶۵، اور سورۃ طٰہ، آیات ۱۱۵ تا ۱۲۳ بغور پڑھیں اور ڈارون کے نظریے کو نگاہ میں رکھ کر پڑھیں۔ کیا اُن کی عقل یہ تصور کر سکتی ہے کہ قرآن کی ان آیات میں جو کچھ حضرت آدمؑ کے متعلق بیان کیا گیا ہے وہ ایک واحد الخلیّہ سالمے پر راست آتا ہے؟
اِس کے ساتھ میں ایک بات اور بھی آپ کے عزیز سے کہنا ضروری سمجھتا ہوں۔ اگر وہ قرآن کو علم کا مستند ذریعہ نہ سمجھتے ہوں تو اُن کی اپنے ضمیر اور اپنے اخلاق اور اپنے معاشرے کے ساتھ اس سے بڑی کوئی بے انصافی نہیں ہو سکتی کہ وہ لوگوں کے سامنے اپنے آپ کو مسلمان کی حیثیت سے پیش کریں۔ ایک راستباز انسان کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ سچے دل سے تو اسلام کا قائل نہ ہو مگر اس کا صاف صاف اظہار و اقرار کرنے کے بجائے اپنے آپ کو مسلمانوں میں شامل رکھ کر مسلسل فریب دہی کا ارتکاب کرتا رہے۔ (ترجمان القرآن، جنوری ۱۹۴۷ء)