رسائل ومسائل – جلد پنجم
مجموعہ: رسائل ومسائل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
رسائل ومسائل کی جلد پنجم۔ اس جلد میں 82 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «کیا حرام مہینوں کی حرمت کا حکم اب بھی باقی ہے؟»، «درایت حدیث»، «حضرت ابراہیم علیہ السلام کا دَورِ تفکّر»، «بشریتِ خضرؑ کا مسئلہ»، «خدائی وعدوں کا مفہوم»، «اللہ کے رازق ہونے کا مطلب» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
قدیم عربوں میں حُرُوفِ مُقَطَّعَات کا رواج
سوال۔ تفہیم القرآن میں حُرُوفِ مقطعات کے بارے میں آپ نے تحریر فرمایا ہے کہ یہ اُسلُوبِ شُعراء جاہلیت میں مَعروف تھا جو بعد میں متروک ہوگیا۔ اس سلسلے میں چند معروضات ہیں:
۱۔ کیا اس کی مثال شُعراء جاہلیت کے اشعار میں یا خُطَباء کے خطبوں میں ملتی ہے؟
۲۔ صحابہ کرام کے اقوال میں اس کے اثبات میں کچھ منقول ہے؟
۳۔ کیا حروفِ مقطعات کا اسلوب اگر بعد میں متروک ہو گیا، تو یہ ”عربیِ مُبین“ کے خلاف تو نہیں؟
جواب۔ حُرُوفِ مُقَطَّعَات کے متعلق تفصیلی مطالعہ و تحقیق کی اگر آپ کو فرصت نہ ہو تو صرف ”لسان العرب“ کی پہلی جلد میں باب تفسیر الحروف المقطعہ ہی دیکھ لیجیے۔ اس میں اول تو یہ معلوم ہو گا کہ مُفَسّرین نے ان کی مختلف تعبیریں کی ہیں پھر مشہور ماہرِ لُغَت الزَّجّاج کا یہ قول آپ کو ملے گا کہ اہلِ عرب ایک حرف بول کر کوئی ایسا کلمہ اس سے مراد لیتے تھے جس میں وہ حرف پایا جاتا ہو۔ اس کی مثال میں انہوں نے یہ مصرع پیش کیا ہے کہ:
<<قلت لها قفی فقالت ق>>
یعنی ”ق“ سے مُراد ہے اَقِفُ۔ اسی طرح انہوں نے یہ شعر بھی مثال کے طور پر نقل کیا ہے:
<<نادیتهم ان الجمعوا الا تا قالوا جمیعا کلهم الا فا>>
یعنی اَلّاتَا سے مراد ہے اَلَا تَرْكَبُوْنَ؟ اور اَلْافَا سے مراد ہے اَلَا فَارْكَبُوا۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ طرزِ بیان قدیم اہل عرب میں رائج تھا، اس لیے وہ ایسے حروف کا مدعا سمجھ لیتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ نزولِ قرآن کے زمانے میں کسی عرب نے ان حروف کے استعمال پر اعتراض نہیں کیا لیکن بعد میں چونکہ یہ رائج نہیں رہا، اس لیے قرآن مجید کے تمام حروفِ مقطعات کا مطلب متعین کرنا، یعنی یہ معلوم کرنا کہ ہر حرف کس کلمہ پر دلالت کرتا ہے، مشکل ہو گیا ہے۔ اسی وجہ سے ان کی دلالت متعین کرنے میں اختلافات ہوئے ہیں اور کسی ایک تعبیر پر اتفاق نہیں ہو سکا ہے۔
اب رہا یہ سوال کہ اتنے کثیر مقامات پر قرآن مجید میں ایسے حروف کا استعمال جن کے معنی اب ٹھیک ٹھیک متعین نہیں ہو سکتے، اس کتاب کے عربی مبین ہونے میں قادح تو نہیں ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ان کے معنی معلوم نہ ہونے سے اس ہدایت میں کوئی خلل واقع نہیں ہوتا جو انسان کو قرآن میں دی گئی ہے۔ اگر اس میں کوئی ادنیٰ سا خلل بھی واقع ہونا ممکن ہوتا تو اللہ تعالیٰ خود ان کی تشریح فرما دیتا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فریضہ انجام دیتے۔(ترجمان القرآن، اگست ۱۹۴۹ء)