مرکزی مواد پر جائیں
رسائل ومسائل کی طرف واپس

رسائل ومسائل – جلد پنجم

مجموعہ: رسائل ومسائل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

رسائل ومسائل کی جلد پنجم۔ اس جلد میں 82 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «کیا حرام مہینوں کی حرمت کا حکم اب بھی باقی ہے؟»، «درایت حدیث»، «حضرت ابراہیم علیہ السلام کا دَورِ تفکّر»، «بشریتِ خضرؑ کا مسئلہ»، «خدائی وعدوں کا مفہوم»، «اللہ کے رازق ہونے کا مطلب» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

حضورؐ کی صاحبزادیوں کی عمریں

سوال۔ تفہیم القرآن جلد ششم سورۃ الکوثر کے دیباچہ میں صفحہ ۴۹۰ پر ابن سعد اور ابن عساکر کے حوالہ سے آپ نے حضرت عبداللہ بن عباسؓ کی یہ روایت نقل فرمائی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے بڑے صاحبزادے حضرت قاسم تھے، ان سے چھوٹی حضرت زینبؓ تھیں، ان سے چھوٹے حضرت عبداللہ تھے پھر علی الترتیب تین صاحبزادیاں اُم کلثومؓ، فاطمہؓ اور رقیہؓ تھیں۔ ان میں سے پہلے حضرت قاسم کا انتقال ہُوا، پھر حضرت عبداللہ نے وفات پائی۔ اس پر عاص بن وائل نے کہا ”ان کی نسل ختم ہوگئی۔ اب وہ ابتر ہیں“ (یعنی ان کی جڑ کٹ گئی)۔

اس روایت سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت رقیہؓ سب سے چھوٹی صاحبزادی تھیں لیکن مشہور تو یہ ہے کہ حضرت فاطمہؓ سب سے چھوٹی تھیں۔ نیز اس روایت کے مطابق حضرت عبداللہ آلِ نبیؐ میں تیسرے نمبر پر تھے لیکن صاحب رحمۃ للعالمین نے تحریر کیا ہے کہ حضرت عبداللہ بعثتِ نبوت کے بعد پیدا ہوئے تھے اس لیے حضرت ابن عباسؓ سے منقول آلِ نبی کی ترتیب محلِ نظر ہے۔ براہ کرم وضاحت فرمائیں۔

حضرت قاسم بعثتِ نبوت سے قبل پیدا ہوئے اور قبل ہی فوت ہو گئے۔ ان کے اسمِ گرامی کے ساتھ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تحریر کرنے سے متعلق شریعت کا کیا حکم ہے؟

جواب:۔ اس معاملہ میں بہت اختلاف ہے کہ حضورؐ کی اولاد کی پیدائش میں زمانی ترتیب کیا ہے۔ میری تحقیق کے مطابق صاحبزادیوں میں حضرت زینبؓ سب سے بڑی تھیں، کیونکہ ان کا نکاح زمانہ جاہلیت ہی میں ابوالعاص سے ہو گیا تھا اور روایات

میں بیان ہوا ہے کہ وہ بعثت سے دس سال پہلے پیدا ہوئی تھیں۔ حضرت رقیہؓ میرے نزدیک سب سے چھوٹی نہ تھیں۔ ان کا نکاح حضرت عثمانؓ سے ہوا تھا اور وہ ان کے ساتھ ہجرت کر کے حبشہ گئی تھیں۔ اس لیے لامحالہ ان کی عمر ۵ سنہ بعد بعثت میں کم از کم ۱۳-۱۴ سال ہونی چاہیے۔ اور حضرت فاطمہؓ کے متعلق روایات یہ بتاتی ہیں کہ وہ اس وقت پیدا ہوئی تھیں جب حضورؐ کی عمر ۴۱ سال تھی۔

حضورؐ کی جو اولاد بعثت سے پہلے پیدا ہوئی اور کم سنی میں وفات پا گئی اس کے ساتھ رضی اللہ عنہ لکھنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔(ترجمان القرآن، فروری ۱۹۶۴ء)