مرکزی مواد پر جائیں
رسائل ومسائل کی طرف واپس

رسائل ومسائل – جلد پنجم

مجموعہ: رسائل ومسائل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

رسائل ومسائل کی جلد پنجم۔ اس جلد میں 82 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «کیا حرام مہینوں کی حرمت کا حکم اب بھی باقی ہے؟»، «درایت حدیث»، «حضرت ابراہیم علیہ السلام کا دَورِ تفکّر»، «بشریتِ خضرؑ کا مسئلہ»، «خدائی وعدوں کا مفہوم»، «اللہ کے رازق ہونے کا مطلب» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

صحابہ کرامؓ کے متعلق عقیدۂ اہل سُنّت

سوال: میں آپ کی کتاب ’خلافت و ملوکیت‘ کا بغور مطالعہ کرتا رہا ہوں آپ کی چند باتیں اہل سُنّت والجماعت کے اجماعی عقائد کے بالکل خلاف نظر آرہی ہیں صحابہ کرامؓ میں سے کسی کا بھی عیب بیان کرنا اہل سُنّت والجماعت کے مسلک کے خلاف ہے جو ایسا کرے گا وہ اہل سُنّت والجماعت سے خارج ہو جائے گا۔ آپ کی عبارتیں جو اس عقیدے کے خلاف ہیں وہ ذیل میں نقل کرتا ہوں :-

”ایک بزرگ نے اپنے ذاتی مفاد کے لیے دوسرے بزرگ کے ذاتی مفاد سے اپیل کرکے اس تجویز کو جنم دیا۔“ (خلافت و ملوکیت صفحہ ۱۵)

”اب خلافت علیٰ منہاج النبوۃ کے بحال ہونے کی آخری صورت یہ باقی رہ گئی تھی کہ حضرت معاویہؓ یا تو اپنے بعد اس منصب پر کسی شخص کے تقرر کا معاملہ مسلمانوں کے باہمی مشورے پر چھوڑ دیتے یا اگر قطع نزاع کے لیے اپنی زندگی ہی میں جانشینی کا معاملہ طے کر جانا ضروری سمجھتے تو مسلمانوں کے اہل علم و اہل خیر کو جمع کرکے انہیں آزادی کے ساتھ فیصلہ کرنے دیتے کہ ولی عہدی کے لیے اُمّت میں موزوں تر آدمی کون ہے۔ لیکن اپنے بیٹے یزید کی ولی عہدی کے لیے خوف و طمع کے ذرائع سے بیعت لے کر انہوں نے اس امکان کا بھی خاتمہ کر دیا“ (خلافت و ملوکیت صفحہ ۱۴۸)

براہ کرم آپ بتائیں کہ صحابہ کرام کے بارے میں آپ اہل سُنّت والجماعت کے اجماعی عقیدے کو غلط سمجھتے ہیں یا صحیح ؟

جواب۔ قبل اس کے کہ میں آپ کے سوالات کا جواب دوں براہ کرم آپ مجھے یہ بتائیں کہ :

۱- آیا آپ کا عقیدہ یہ ہے کہ کوئی صحابی غلطی نہیں کر سکتا؟

۲- یا آپ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ صحابی سے غلطی ہو تو سکتی ہے مگر کسی صحابی سے کبھی غلطی کا صدور ہوا نہیں ہے؟

۳- یا آپ اس بات کے قائل ہیں کہ افراد صحابہ سے غلطی کا صدور ممکن بھی تھا، اور صدور ہوا بھی، مگر اس کو بیان کرنا جائز نہیں ہے، اور نہ صحابی کی کسی غلطی کو غلطی کہنا جائز ہے۔

ان میں سے جس بات کے بھی آپ قائل ہوں اس کی تصریح فرمادیں تاکہ مجھے یہ معلوم ہوسکے کہ آپ خود بھی اہل سنت والجماعت میں سے ہیں یا نہیں۔ اگر آپ پہلی بات کے قائل ہیں تو وہ اہل سنت میں سے کسی کا عقیدہ بھی نہیں ہے۔ اور اگر دوسری بات کے قائل ہیں تو اس کا غلط ہونا ایسے ناقابل انکار واقعات سے ثابت ہے جو قرآن پاک اور بکثرت احادیث صحیحہ اور اکابر اہل سنت کی نقل کردہ کثیر روایات میں بیان ہوتے ہیں اور اگر تیسری بات کے قائل ہیں تو وہ بھی قطعی بے بنیاد ہے کیونکہ متعدد مقامات پر خود قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام کی بعض غلطیوں کا ذکر فرمایا ہے، اور محدثین نے ان کے مفصل واقعات نقل کیے ہیں، اور مفسرین میں سے شاید کسی کا بھی آپ نام نہیں لے سکتے جس نے اپنی تفسیر میں اُن واقعات کو بیان نہ کیا ہو۔ رہا اہل سنت کا عقیدہ جس کا آپ ذکر فرما رہے ہیں تو وہ صرف یہ ہے کہ صحابہ پر طعن کرنا اور ان کی مذمت کرنا جائز نہیں ہے، اور اس فعل کا ارتکاب خدا کے فضل سے میں نے کبھی اپنی کسی تحریر میں نہیں کیا ہے۔ مگر تاریخی واقعات کو کسی علمی بحث میں بیان کرنا علمائے اہل سنت کے نزدیک کبھی ناجائز نہیں ہے۔ نہ علمائے اہل سُنّت نے کبھی اس سے اجتناب کیا ہے، اور نہ کسی عالم نے کبھی یہ کہا ہے کہ صحابی سے اگر غلطی ہو تو اسے صحیح قرار دو، یا اس کو غلطی نہ کہو۔ آپ خود دیکھ سکتے ہیں کہ میں نے جو واقعات بیان کیے ہیں وہ اکابر اہل سُنّت ہی کی کتابوں سے ماخوذ ہیں۔ اُن کا ان واقعات کو اپنی کتابوں میں نقل کرنا دو حال سے خالی نہیں ہو سکتا۔ اگر انہوں صحیح سمجھتے ہوئے نقل کیا ہے تو آپ کی رائے کے مطابق وہ سب بھی اہل سُنّت سے خارج ہونے چاہیں، اور اگر غلط یا مشتبہ سمجھتے ہوئے انہیں پھیلایا اور آئندہ نسلوں تک پہنچایا ہے تو پھر آپ کو کہنا چاہیے کہ وہ <<كَفَى بِالْمَرْءِ كَذِبًا أَنْ يُحَدِّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ>> کے مصداق تھے۔ (ترجمان القرآن، جولائی ۱۹۵۸ء)