رسائل ومسائل – جلد پنجم
مجموعہ: رسائل ومسائل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
رسائل ومسائل کی جلد پنجم۔ اس جلد میں 82 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «کیا حرام مہینوں کی حرمت کا حکم اب بھی باقی ہے؟»، «درایت حدیث»، «حضرت ابراہیم علیہ السلام کا دَورِ تفکّر»، «بشریتِ خضرؑ کا مسئلہ»، «خدائی وعدوں کا مفہوم»، «اللہ کے رازق ہونے کا مطلب» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
رسول کی بشری کمزوریوں سے مُراد طبعی ضروریات ہیں
سوال۔ ایک عالم دین کو اصرار ہے کہ لندن کی اسلامی کانفرنس والے مقالے میں آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ’’بشری کمزوری سے بالا تر نہ ہونے‘‘ کے الفاظ جو استعمال کیے ہیں وہ درحقیقت عیب اور نقص کے معنی میں ہیں۔ کیا آپ اس کی وضاحت کریں گے کہ ان الفاظ سے خود آپ کی مراد کیا تھی؟
جواب۔ اگرچہ ماہِ جون کے ترجمان القرآن میں مَیں اپنی مُراد وضاحت کے ساتھ بیان کر چکا ہوں، مگر اس کے بعد بھی اِس الزام پر اصرار کیا جا رہا ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ قائل جب اپنے قول کی صاف صاف وضاحت کر دے تب بھی الزام لگانے والا یہی کہتا رہے گا کہ تیرے قول کا اصل منشا وہ نہیں ہے جو تو بیان کرتا ہے، بلکہ وہ ہے جو ہم بیان کرتے ہیں۔ یہ عجیب رویہ ہے جو متقی اور خدا ترس لوگوں نے کبھی اختیار نہیں کیا۔
حقیقت یہ ہے کہ اگر میری طرف سے کوئی وضاحت نہ بھی ہوتی اور صرف اس مضمون کی متعلقہ عبارات ہی کو صاف ذہن کے ساتھ پڑھا جاتا تو اس غلط فہمی کی کوئی گنجائش نہ ہوتی کہ اس سلسلۂ کلام میں بشری کمزوریوں سے مراد عیوب اور نقائص ہو سکتے ہیں۔ اس میں تو ساری بحث یہ ہے کہ دوسری قوموں نے اپنے انبیاء کے حق میں جو مبالغے کیے ہیں اور ان کو خدا، یا خدا کی اولاد، یا خدا کا اوتار تک بنا ڈالا ہے، قرآن مجید نے ان سب سے مسلمانوں کو بچا لیا اور خدائی اور رسالت کے درمیان ایک ایسا خطِ امتیاز کھینچ دیا جس سے ہر انسان یہ جان سکتا ہے کہ رسول کیا ہے اور کیا نہیں ہے۔ آخر اِس بحث کے دوران میں یہ کہنے کا کیا موقع ہو سکتا ہے کہ رسول عیوب اور نقائص سے بالاتر نہیں ہوتا۔
علاوہ بریں اگر کوئی شخص الفاظ کے معانی کی سمجھ رکھتا ہو تو وہ بشری کمزوریوں کا مطلب عیوب اور نقائص ہرگز نہیں لے سکتا۔ انسان کے لیے ”عیب“ کا لفظ ایسے موقع پر بولا جاتا ہے جب وہ مثلاً بد زبان ہو، جھوٹا ہو، چغلخور ہو، فریبی اور خائن اور بدکردار ہو۔ ”نقص“ کا لفظ اس وقت استعمال ہوتا ہے جب وہ یا تو کسی جسمانی نقص میں مبتلا ہو مثلاً بدشکل یا ناقص الاعضاء ہونا، یا وہ کسی ذہنی یا اخلاقی نقص میں مبتلا ہونا مثلاً کند ذہن، کم فہم یا خواہشاتِ نفس سے مغلوب ہونا۔ ان دونوں کے برعکس بشری کمزوریاں یہ ہیں کہ انسان اپنی سلامتی کے لیے غذا اور پانی کا محتاج ہے۔ آرام اور نیند کا محتاج ہے۔ نکاح کا محتاج ہے۔ بیماری میں علاج کا محتاج ہے۔ دھوپ اور بارش سے بچنے کے لیے سائے کا محتاج ہے۔ سردی سے بچنے کے لیے گرم لباس کا محتاج ہے۔ اسی معنی میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے <<وَ خُلِقَ الْإِنْسَانُ ضَعِيفًا>> (النساء، آیت ۲۸) ”اور انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے۔" (ترجمان القرآن، اگست ۱۹۴۶ء)