مرکزی مواد پر جائیں
رسائل ومسائل کی طرف واپس

رسائل ومسائل – جلد پنجم

مجموعہ: رسائل ومسائل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

رسائل ومسائل کی جلد پنجم۔ اس جلد میں 82 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «کیا حرام مہینوں کی حرمت کا حکم اب بھی باقی ہے؟»، «درایت حدیث»، «حضرت ابراہیم علیہ السلام کا دَورِ تفکّر»، «بشریتِ خضرؑ کا مسئلہ»، «خدائی وعدوں کا مفہوم»، «اللہ کے رازق ہونے کا مطلب» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

یہودیوں کی ناپاک سازشیں اور امریکہ

سوال ۱- اسرائیلی وزیر اعظم بیگن نے اپنے دورۂ امریکہ کے فوراً بعد حال ہی میں تین غیر قانونی یہودی بستیوں کو دریائے اردن کے مغربی کنارے پر قانونی حیثیت دی ہے۔ مزید برآں بیگن کی حکومت تین اور نئی بستیاں مغربی کنارے پر بسا رہی ہے۔ اس سلسلے میں آپ کا ردعمل کیا ہے؟

۲- مسجد اقصیٰ کی دیواروں کے نیچے اسرائیل اب تک کھدائی جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس سے مسجد کو سخت خطرہ لاحق ہے۔ اس سلسلہ میں رابطۂ عالم اسلامی کا بیان آپ نے دیکھا ہو گا۔ اس بارے میں آپ بھی اظہارِ خیال فرمائیں۔

جواب- اس معاملے میں میرا ردعمل یہ ہے کہ امریکی حکومت اگر انصاف اور اخلاق کے تمام اصولوں کو نظر انداز کر کے یہودیوں کی بے جا حمایت اور امداد و اعانت کرنے پر تُلی ہوئی نہ ہوتی تو اسرائیل کبھی اتنا جری و بے باک نہ ہو سکتا تھا کہ پے در پے ایک سے ایک بڑھ کر ڈاکہ زنی اور غصب و ظلم کے جرائم کا ارتکاب کرتا چلا جاتا۔ اس لیے میں اصل مجرم امریکہ کی بے ضمیری کو قرار دیتا ہوں جسے ساری دنیا کے سامنے اس جرائم پیشہ ریاست کی پیٹھ ٹھونکتے ہوئے ادنیٰ سی شرم تک محسوس نہیں ہوتی۔ امریکہ یہودیوں سے اس حد تک دبا ہوا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم کی آمد کے موقع پر ان کے مذہبی پیشوا اور بااثر لیڈر امریکی صدر پر ہجوم کر کے آتے ہیں، بیگن کی پذیرائی کے لیے اس پر دباؤ ڈالتے ہیں اور اس کو درپردہ ہی نہیں اشاروں کنایوں میں یہ احساس بھی دلا دیتے ہیں کہ جسے امریکہ کا صدر بننا ہو وہ یہودی ووٹوں کا محتاج ہے۔ اس پس منظر میں انسانی حقوق اور اخلاق و انصاف کے دعویدار حتیٰ کہ کارٹر صاحب بیگن کے اس انتہائی بے شرمانہ بیان کو شیر مادر کی طرح نوش فرما لیتے ہیں کہ ”دریائے اردن کے مغربی جانب کا فلسطین، جو ۱۹۶۷ء کی جنگ میں عربوں سے چھینا گیا تھا وہ مقبوضہ (OCCUPIED) علاقہ نہیں ہے بلکہ آزاد کرایا ہوا (LIBERATED) علاقہ ہے اور یہ ہماری میراث ہے جس کا وعدہ چار ہزار برس پہلے بائبل میں ہم سے کیا گیا تھا اس لیے ہم اسے نہیں چھوڑیں گے۔“ یہ کھلی کھلی بے حیائی کی بات امریکی حکام اور عوام سب کے سب سنتے ہیں اور کوئی پلٹ کر نہیں پوچھتا کہ بائبل کی چالیس صدی قدیم بات آج کسی ملک پر ایک قوم کے دعوے کی بنیاد کیسے بن سکتی ہے اور ایسی دلیلوں سے اگر ایک قوم کے وطن پر دوسری قوم کا قبضہ جائز مان لیا جائے تو نہ معلوم اور کتنی قومیں اپنے وطن سے محروم کر دی جائیں گی۔

۲- مسجدِ اقصیٰ میں جو اکھیڑ پچھاڑ یہودی کر رہے ہیں، اور جو کچھ وہ الخلیل میں مسجد ابراہیمی کے ساتھ کر چکے ہیں، اس کی کوئی روک تھام بیانات اور قراردادوں اور اقوام متحدہ کے فیصلوں سے نہیں ہو سکتی۔ یہ یہودی یہ سب کچھ طاقت کے بل پر کر رہے ہیں اور وہ طاقت اس کو امریکہ بہم پہنچا رہا ہے۔ جب تک ہم امریکہ پر یہودیوں کے دباؤ سے بڑھ کر دباؤ ڈالنے کے قابل نہ ہو جائیں، اس ڈاکہ زنی کا سلسلہ نہیں رک سکتا۔ (ترجمان القرآن، اکتوبر ۱۹۷۷ء)