رسائل ومسائل – جلد پنجم
مجموعہ: رسائل ومسائل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
رسائل ومسائل کی جلد پنجم۔ اس جلد میں 82 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «کیا حرام مہینوں کی حرمت کا حکم اب بھی باقی ہے؟»، «درایت حدیث»، «حضرت ابراہیم علیہ السلام کا دَورِ تفکّر»، «بشریتِ خضرؑ کا مسئلہ»، «خدائی وعدوں کا مفہوم»، «اللہ کے رازق ہونے کا مطلب» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
تفہیم القرآن میں الْحَمْدُ لِلّٰهِ کا ترجمہ
سوال تفہیم القرآن میں آپ نے الحمدللہ کا ترجمہ ”تعریف اللہ کے لیے ہے“ کیا ہے۔ حالانکہ مترجمین سلف و خلف نے اس کا ترجمہ ”تمام خوبیاں اللہ کے لیے“، ”سب تعریف اللہ کے لیے“ کیا ہے۔ تفہیم القرآن کا ترجمہ کچھ نامکمل، یا ناتمام سا محسوس ہوتا ہے۔
جواب۔ اُردو زبان میں ”اللہ کے لیے تعریف ہے“ اور ”تعریف اللہ کے لیے ہے“ کے درمیان معنی کے اعتبار سے بہت بڑا فرق ہے۔ اللہ کے لیے تعریف ہے، کے معنی صرف یہ ہوں گے کہ جس طرح دوسروں کے لیے تعریف ہو سکتی ہے اسی طرح اللہ کے لیے بھی ہے۔ لیکن جب ”تعریف اللہ کے لیے ہے“ کہا جائے گا تو مطلب یہ ہوگا تعریف جس چیز کا نام ہے وہ اپنے تمام مفہومات کے ساتھ اللہ ہی کے لیے مخصوص ہے، کسی دوسرے کو یہ تعریف نہیں پہنچتی۔ میں نے اس ترجمے میں بعینہِ اُس مضمون کو ادا کرنے کی کوشش کی ہے جو الحمدُ للّٰہ کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ اِس اندازِ بیان کو اختیار کرنے سے وہ معنی زیادہ اچھی طرح ادا ہو جاتے ہیں جو دوسرے مترجمین نے ”تمام خوبیاں اللہ کے لیے ہیں“، یا ”سب تعریف اللہ کے لیے ہے“، اور ایسے ہی دوسرے الفاظ سے ادا کرنے چاہے ہیں۔(ترجمان القرآن ، مارچ ۱۹۴۵ء)