رسائل ومسائل – جلد پنجم
مجموعہ: رسائل ومسائل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
رسائل ومسائل کی جلد پنجم۔ اس جلد میں 82 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «کیا حرام مہینوں کی حرمت کا حکم اب بھی باقی ہے؟»، «درایت حدیث»، «حضرت ابراہیم علیہ السلام کا دَورِ تفکّر»، «بشریتِ خضرؑ کا مسئلہ»، «خدائی وعدوں کا مفہوم»، «اللہ کے رازق ہونے کا مطلب» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
نماز میں درُود
سوال۔ ”آپ نے ’خطبات‘ میں نماز کی تشریح کرتے ہوئے جو درُود درج کیا ہے اس میں سَیّدِنَا وَ مَولانَا کے الفاظ مسنون و ماثور درُود سے زائد ہیں۔ احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو درُود منقول ہُوا ہے اس میں یہ الفاظ نہیں پائے جاتے۔ ایک عالم دین نے اس پر یہ اعتراض کیا ہے کہ مسنُون درُود سے زائد ان الفاظ کو نماز میں پڑھنا مکروہ ہے۔ آپ کے پاس اس کے لیے کیا سند جواز ہے؟
جواب۔ اس اضافے کو جو بزرگ مکروہ قرار دیتے ہیں وہ غالباً مسئلے کی نوعیت سے اچھی طرح واقف نہیں ہیں اس کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ تشہد کے پورے مسئلے کی تحقیق کی جائے۔
تشہد کے متعلق صحیح ترین روایت وہ ہے جو حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے منقول ہوتی ہے اس کو بیس سے زیادہ سندوں کے ساتھ محدثین نے نقل کیا ہے، اور تمام راویوں نے التَّحِیَّاتُ سے لے کر عَبْدُهُ وَ رَسُولُهُ تک پوری عبارت یکساں نقل کی ہے کسی روایت کے الفاظ دوسری روایت کے الفاظ سے مختلف نہیں ہیں۔ اس کے باوجود یہ فیصلہ نہیں کیا گیا کہ نماز میں صرف یہی تشہد پڑھا جائے۔ امام شافعیؒ ابن عباسؓ کے تشہد کو، اور امام مالکؒ حضرت عمرؓ کے تشہد کو افضل قرار دیتے ہیں، حالانکہ ان کے الفاظ باہم بھی مختلف ہیں اور ابن مسعودؓ کی روایت سے بھی مختلف۔ ان کے علاوہ تشہد کی بہت سی مختلف عبارتیں حضرت جابرؓ بن عبداللہ، حضرت عبداللہ بن عمرؓ، حضرت علیؓ، حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ، حضرت عائشہؓ، حضرت سمرہؓ بن جُندُب، حضرت عبداللہ بن زبیرؓ، حضرت ابو حُمَیدؓ، حضرت ابو بکرؓ، حضرت حسینؓ بن علیؓ، حضرت طلحہؓ بن عبیداللہ، حضرت انسؓ بن مالک، حضرت ابوہریرہؓ، حضرت ابو سعیدؓ خُدری، اور دوسرے صحابہ کرام سے احادیث میں روایت ہوئی ہیں۔ ان میں سے جس تشہد کو بھی آدمی پڑھے اس کی نماز صحیح ہو جاتی ہے۔ ابن عبدالبرؒ اور ابن تیمیہؒ کہتے ہیں کہ یہ مُباح میں اختلاف ہے یعنی ان مختلف تشہدات میں سے کوئی بھی غیر مباح نہیں ہے۔ ابن حجرؒ کہتے ہیں کہ علماء کی ایک بڑی جماعت ہر اُس تشہد کے پڑھنے کو جائز قرار دیتی ہے جو احادیث سے ثابت ہو۔
لیکن بات صرف یہیں تک نہیں رہتی کہ جو تشہدات حدیث سے ثابت ہیں اُن میں سے کسی ایک کو پڑھ لینا جائز ہے بلکہ اس سے آگے بڑھ کر ایک جلیل القدر صحابی حضورؐ سے تشہد کی ایک عبارت خود نقل کرتے ہیں اور پھر فرماتے ہیں کہ میں نے اس میں دو جگہ اضافہ کیا ہے۔ یہ حضرت عبداللہؓ بن عمر ہیں۔ ابوداؤد اور دارقطنی میں ان کا یہ ارشاد موجود ہے کہ اَلسَّلَامُ عَلَیْكَ اَیُّهَا النَّبِیُّ وَرَحْمَةُ اللهِ کے بعد میں نے وَبَرَكَاتُهُ کا، اور اَشْهَدُ اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ کے بعد وَحْدَهُ لَا شَرِیْكَ لَهُ کا اضافہ کر دیا۔ مگر یہ بات میرے علم میں نہیں ہے کہ کسی نے حضرت عبداللہ بن عمرؓ کے اس فعل کو قابل اعتراض ٹھہرایا ہو۔
اب رہا تشہد کے بعد کا مضمون، تو اس کے متعلق سب سے پہلے یہ جان لینا چاہیے کہ اس کا پڑھنا سرے سے لازم ہی نہیں ہے۔ ابوداؤد، مسند احمد، ترمذی اور دارقطنی میں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی روایت ہے کہ حضورؐ نے عبدہ و رسولہ تک تشہد کی تعلیم دینے کے بعد فرمایا <<اِذَا قُلْتَ هٰذَا (او قَضَيْتَ هٰذَا) فَقَدْ قَضَيْتَ صَلٰوتَكَ، اِنْ شِئْتَ اَنْ تَقُوْمَ فَقُمْ وَ اِنْ شِئْتَ اَنْ تَقْعُدَ فَاقْعُدْ>>۔ جب تم نے یہ پڑھ لیا (یا اس کو پورا کر لیا) تو تم اپنی نماز سے فارغ ہو گئے۔ اس کے بعد اُٹھنا چاہو تو اُٹھ جاؤ اور بیٹھنا چاہو تو بیٹھے رہو۔ یہ ارشاد اس باب میں بالکل صریح ہے کہ عبدہ و رسولہ پر نماز مکمل ہو جاتی ہے اس کے بعد آدمی کچھ نہ پڑھے تب بھی اس کی نماز میں کوئی نقص واقع نہیں ہوتا، اور دُرود و دُعا تشہد میں داخل نہیں ہے بلکہ اس سے زائد ایک چیز ہے۔
اس زائد چیز کا پڑھنا یقیناً مستحب ہے، لیکن اس کے لیے شارع علیہ الصلوٰۃ والسلام نے کوئی عبارت مخصوص نہیں کی ہے جس کے الفاظ مقرر ہوں اور ان میں کوئی کمی بیشی جائز نہ ہو۔ بخاری و مسلم اور مسند احمد میں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی جو روایت منقول ہوئی ہے اس میں تشہد کی عبارت بیان کرنے کے بعد وہ حضورؐ کا یہ ارشاد نقل کرتے ہیں کہ `<<ثُمَّ یَتَخَیَّرُ مِنَ الْمَسْئَلَةِ مَا شَاءَ>>` پھر آدمی جو دُعا چاہے مانگے۔ ”مُسند احمد اور نسائی کی ایک روایت میں حضورؐ کے الفاظ یہ ہیں کہ `<<ثُمَّ لِیَتَخَیَّرْ اَحَدُکُم مِنَ الدُّعَاءِ اَعْجَبَهٗ اِلَیْهِ فَلْیَدْعُ بِهٖ رَبَّهٗ عَزَّ وَجَلَّ>>` ”پھر تم میں سے ایک شخص کوئی دُعا انتخاب کر لے جو اُسے سب سے زیادہ پسند ہو، اور وہی اپنے ربّ عزیز وجلیل سے مانگ لے“۔ اسی سے ملتے جُلتے الفاظ بخاری اور ابوداؤد کی روایات میں آتے ہیں۔ ان ارشادات سے یہ بات صاف ظاہر ہو رہی ہے کہ حضورؐ یہ تو پسند فرماتے ہیں کہ تشہد کے بعد آدمی اللہ تعالیٰ سے دُعا مانگے (جس میں دُرود شامل ہے کیونکہ وہ بھی ایک دُعا ہی ہے)، لیکن اس کے الفاظ کا انتخاب خود دُعا مانگنے والے پر چھوڑ دیتے ہیں۔
اب دُرود شریف کے مسئلے کو لیجیے۔ معترض کا کہنا یہ ہے کہ حضورؐ سے اُس کے جو الفاظ ماثور ہیں ان میں کوئی کمی بیشی کرنا مکروہ ہے لیکن کیا واقعی فقہاء کے درمیان یہ مسئلہ متفق علیہ ہے؟
امام ابوبکر بن مسعود کاشانی جن کی کتاب ’بدائع الصنائع‘ فقہ حنفی کی معتبر ترین کتابوں میں شمار ہوتی ہے، اس مسئلے پر کلام کرتے ہوئے لکھتے ہیں `<<وَلَا یَكْرَهُ اَنْ یَّقُوْلَ فِیْهَا وَارْحَمْ مُحَمَّدًا عِنْدَ عَامَةِ الْمَشَائِخِ، وَبَعْضُهُمْ کَرِهُوْا ذَلِكَ..... وَالصَّحِیْحُ اَنَّهُ لَا یُكْرَهُ>>`
”اور درود میں وارحم محمداً کہنا اکثر اکابر علماء کے نزدیک مکروہ نہیں ہے اور بعض اسے مکروہ کہتے ہیں..... مگر صحیح یہ ہے کہ وہ مکروہ نہیں۔“
دُرود میں سیّدنا کا لفظ بڑھانے کے متعلق مشہور شافعی فقیہ شمس الدین الرّملی، جو چھوٹے شافعی کہلاتے تھے، اپنی کتاب نہایۃ المحتاج الیٰ شرح المنہاج میں لکھتے ہیں الافضلُ <<الاتیان بلفظ السیادة .... لان فیہ الاتیان بما اُمرنا بہ وزیادۃ الاخبار بالواقع الذی ہو ادب، فہو افضل من ترکہ>> اور افضل یہ ہے کہ (درود میں) لفظ سیادت لایا جائے .... کیونکہ یہ ایسی چیز کا لانا ہے جس کے لیے ہم مامور ہیں اور اس میں اُس امر واقعی کا مزید بیان ہے جو ادب ہے، لہٰذا اس کو چھوڑنے سے اس کا ادا کرنا افضل ہے۔“ صرف درود ہی نہیں، تشہد تک میں شوافع نے لفظ سیدنا کے اضافے کو نہ صرف جائز رکھا ہے بلکہ اسی پر ان کا عمل بھی ہے۔ چنانچہ الفقہ علی المذاہب الاربعہ میں شافعی مذہب کا جو تشہد درج کیا گیا ہے وہ ان الفاظ پر ختم ہوتا ہے واشہد ان سیدنا محمداً رسول اللہ، حالانکہ ابن عباسؓ کے جس تشہد کو امام شافعیؒ نے اختیار کیا ہے اس میں لفظ سیدنا نہیں پایا جاتا۔
علامہ ابن عابدین شامی کی کتاب رد المحتار فقہ حنفی کی مستند کتابوں میں سے ہے۔ اس میں وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے رحمت کی دعا کے بارے میں لکھتے ہیں کہ بعض علماء نے اللھم ارحم محمداً کہنے کو ناجائز کہا ہے اور بعض نے اسے جائز قرار دیا ہے، اور اسی دوسرے قول کو امام سرخسی نے ترجیح دی ہے۔ پھر درود میں لفظ سیّدنا کے استعمال پر گفتگو کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اس پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ یہ ہمارے (یعنی حنفیہ کے) مسلک کے خلاف ہے اور اس کی دلیل یہ دی جاتی ہے کہ امام ابوحنیفہؒ نے تشہد میں کمی بیشی کو مکروہ قرار دیا ہے۔ لیکن یہ اعتراض کمزور ہے، کیونکہ درود و تشہد پر زائد ایک چیز ہے، اُس میں شامل نہیں ہے۔ اگر کوئی شخص تشہد میں اشہد ان سیدنا محمداً عبدہ ورسولہ کہے تو یہ ضرور مکروہ ہے، لیکن تشہد کے بعد جو درود پڑھا جاتا ہے اس میں یہ لفظ بڑھایا جا سکتا ہے۔
اِس بحث سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ نماز میں جو درُود پڑھا جاتا ہے اس کا درُود کے ماثور الفاظ ہی میں پڑھا جانا لازم نہیں ہے، اور ان ماثور الفاظ میں کمی بیشی کی جا سکتی ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر درُود میں اللّٰھم ارحم محمداً، اور اللّٰھم صلّ علیٰ سیّدنا محمد کہنا مکروہ نہیں ہے تو سیّدنا کے ساتھ مولانا کہہ دینے میں کراہت کی کیا معقول وجہ ہو سکتی ہے؟ (ترجمان القرآن، مارچ ۱۹۷۵ء)