مرکزی مواد پر جائیں
رسائل ومسائل کی طرف واپس

رسائل ومسائل – جلد پنجم

مجموعہ: رسائل ومسائل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

رسائل ومسائل کی جلد پنجم۔ اس جلد میں 82 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «کیا حرام مہینوں کی حرمت کا حکم اب بھی باقی ہے؟»، «درایت حدیث»، «حضرت ابراہیم علیہ السلام کا دَورِ تفکّر»، «بشریتِ خضرؑ کا مسئلہ»، «خدائی وعدوں کا مفہوم»، «اللہ کے رازق ہونے کا مطلب» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

مفتی محمد یوسف صاحب کی کتاب کے متعلق ایک سوال

سوال: مفتی محمد یوسف صاحب کی کتاب جس میں آپ پر اعتراضات کا علمی جائزہ لیا گیا ہے، ابھی ابھی شائع ہوئی ہے اور میں نے اس کا مطالعہ کیا ہے۔ ماشاء اللہ کتاب ہر لحاظ سے مدلل ہے جن لوگوں کو واقعہ کچھ غلط فہمی ہو گی وہ تو دُور ہو جائے گی، لیکن جو ضدی اور عنادی ہیں ان کا علاج مشکل ہے۔ میں نے کئی دوستوں کو مطالعہ کے لیے دی چنانچہ وہ مطمئن ہو گئے لیکن ایک مولانا صاحب نے کتاب پڑھنے کے بعد یہ کہا کہ مجھے تسلی ہو گئی ہے لیکن ایک اشکال ہے۔ وہ یہ کہ مفتی صاحب نے جو توجیہات کی ہیں خود مولانا مودودی نے ان کا انکار کیا ہے اور اسی واسطے اس کتاب کی تقریظ اور تصدیق انہوں نے نہیں کی۔ میں نے کہا اگر ان کو اختلاف تھا تو ان کی کتابوں کے ناشر نے اسے کیوں شائع کیا اور اس پر کیوں دیباچہ لکھا؟ مزید برآں ترجمان القرآن ایشیا آئین میں اس کتاب کا اشتہار کیوں دیا گیا ہے؟ لیکن وہ صاحب مُصر ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ ان کے اختلاف کے باوجود ہے اور جماعت کے بعض آدمیوں کی مرضی سے ہوا ہے، خود مولانا مودودی صاحب ایسا نہیں چاہتے تھے، ان مولوی صاحب کا اصرار ہے کہ اگر آپ کی بات درست ہے تو خود خط کے ذریعہ معلوم کرکے دیکھ لو۔ چنانچہ اسی خاطر یہ منتشر سطور تحریر کرکے ارسال خدمت ہیں کہ آپ اپنے قلم سے اس قسم کے لوگوں کی تسلی کی خاطر چند سطور لکھ دیں۔

جواب۔ جن مولوی صاحب نے آپ سے یہ کہا کہ مولانا مفتی محمد یوسف صاحب نے اپنی کتاب میں میری عبارتوں کی جو توجیہات کی ہیں، ان کا خود میں نے انکار کیا ہے اور اسی بنا پر میں نے اس کتاب کی تقریظ و تصدیق نہیں کی، اور یہ کہ ’’اس کتاب کی اشاعت میری مرضی کے خلاف ہوئی ہے‘‘، انہوں نے بالکل جھوٹی بات آپ سے کہی۔ حیرت ہوتی ہے کہ ایسے صریح اور سفید جھوٹ بولنے والے لوگ بھی مدارس عربیہ میں موجود ہیں اور اگر وہ علماء میں شمار ہوتے ہیں۔ ان سے دریافت کیجیے کہ یہ باتیں اُن کو آخر کس ذریعہ علم سے معلوم ہوئی ہیں۔

آپ نے اگر مفتی صاحب کی کتاب کو بغور پڑھا ہوتا تو آپ کو مجھ سے پوچھنے کی ضرورت بھی نہ ہوتی بلکہ آپ خود ہی سمجھ لیتے کہ یہ بالکل ایک من گھڑت بات ہے جو ان مولوی صاحب نے آپ سے کہی ہے، اور آپ کو یہ بھی معلوم ہو جاتا کہ اس کتاب پر میری کسی تصدیق کی سرے سے کوئی حاجت ہی نہ تھی۔ مفتی صاحب نے میری کسی عبارت کی توجیہ بھی بطورِ خود نہیں کر دی ہے۔ ہر توجیہ کے ثبوت میں انہوں نے خود میری ہی عبارتوں اور ان کے سیاق و سباق سے استدلال کیا ہے اور وہ عبارتیں پوری پوری نقل کر دی ہیں جن سے میرا اصل مدعا خود ہی آئینے کی طرح واضح ہو جاتا ہے۔ اس ثبوت اور ان دلائل کے بعد میری تصدیق کی ضرورت صرف دو ہی قسم کے آدمی محسوس کر سکتے ہیں یا تو وہ جو کسی علمی بحث کو سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ یا پھر وہ جو صریح دلیل و ثبوت سامنے آجانے کے بعد بھی حق بات کو نہیں ماننا چاہتے اور فتنہ پردازی کے لیے بہانے ڈھونڈتے ہیں۔

ان مولوی صاحب کا یہ کہنا کہ اگر میرے نزدیک یہ کتاب درست تھی تو میں نے اس پر تقریظ کیوں نہیں لکھی، ان کے ذہن کی پستی کو ظاہر کرتا ہے۔ ان سے کہہ دیجیے کہ اپنی حمایت اور منقبت میں کتابیں لکھوانا اور خود ان پر تقریظیں لکھنا چھوٹے لوگوں کا کام ہے۔ میں نے مفتی صاحب سے یا کسی دوسرے صاحب سے کبھی یہ خواہش نہیں کی کہ وہ میری حمایت میں کوئی کتاب لکھیں مفتی صاحب نے خود ہی اپنی دیانت اور حق پسندی کے تقاضے سے یہ کتاب لکھی ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ ان کی بات اگر دلیل کے اعتبار سے وزنی ہے تو وہ خود اہل علم کے حلقوں میں اپنا اثر پیدا کر لے گی۔ میری کسی تقریظ کی وہ محتاج نہیں ہے۔

اصل صورت معاملہ یہ ہے کہ مفتی صاحب کی اس کتاب سے اُن بہت سے حضرات کی دیانت مشتبہ ہو گئی ہے جو جان بوجھ کر میری عبارتوں کو توڑنے مروڑنے اور زبردستی ان کے اندر کفر و الحاد اور ضلالت کے معنی بھرنے میں مشغول رہے ہیں۔ میں نے کبھی ان کی ان زیادتیوں کی پروا نہیں کی، کیونکہ مجھے یقین تھا کہ جھوٹ کی ناؤ زیادہ دیر تک چل نہیں سکتی، اور اللہ تعالیٰ ایک روز ان کی پردہ دری کر کے رہے گا۔ اب جب انہی کے حلقے کے ایک انصاف پسند آدمی کے ہاتھوں اللہ نے یہ پردہ دری کرا دی ہے تو وہ اس پر چراغ پا ہو رہے ہیں، حالانکہ یہ حرکاتِ مذبوحی ان کو اور زیادہ رُسوا کر دیں گی۔ سوال یہ ہے کہ اگر بالفرض میری طرف سے مفتی صاحب کی توجیہات کی کوئی تصدیق یا تردید نہ ہو اور مفتی صاحب نے بھی میری عبارتوں کا میرا مدعا واضح کرنے کے بجائے خود اپنی طرف سے ہی میرے اقوال کی ایسی توجیہ کر دی ہو جس سے وہ اعتراضات رفع ہو جاتے ہوں جو مخالفین کی طرف سے مجھ پر وارد کیے جاتے ہیں، تو آخر شریعت کے کس قاعدے کی رو سے ایک دیانتدار انسان یہ رویہ اختیار کر سکتا ہے کہ ایک مسلمان کے قول کی جہاں دو توجیہیں ممکن ہوں، جن میں سے ایک کی بنا پر اسے مطعون نہ کیا جا سکتا ہو اور دوسری کی بنا پر وہ ملزم قرار پاتا ہو، تو وہ پہلی توجیہ کو قبول کرنے سے انکار کر دے اور دوسری توجیہ ہی پر اصرار کرتا رہے؟ اس کا یہ اصرار تو خود اس بات کی علامت ہوگا کہ وہ للہ فی اللہ اس مسلمان سے اختلاف نہیں رکھتا بلکہ عناد اور کینہ کی بنا پر مخالفت کر رہا ہے جس کے متعلق حدیث میں خبر دی گئی ہے کہ ھی الحالقۃ۔ (ترجمان القرآن، جنوری ۱۹۵۸ء)