ماہنامہ ترجمان القرآن، مئی 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (مئی 2026) کا شمارہ ہے، جس کا نمایاں مضمون حج کی حقیقت اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اسوہ پر تفصیلی گفتگو پر مشتمل ہے۔
شمارے میں مسلم عائلی قوانین میں مجوزہ تبدیلیوں پر تنقیدی جائزہ، خواتین کے مسجد سے تعلق، اور اللہ تعالیٰ کے وجود پر عقلی دلائل جیسے موضوعات شامل ہیں۔ حالاتِ حاضرہ میں لبنان کی صورتحال، کشمیر میں جبری گمشدگیوں اور راشد الغنوشی کی سزا پر بھی رپورٹیں دی گئی ہیں۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
سورج گرہن اور چاند گرہن کی نماز میں عورتوں کی شرکت
فاطمہؓ بنت منذر روایت کرتی ہیں کہ اسماء بنت ابی بکرؓ نے فرمایا:میں سورج گرہن کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجۂ مطہرہ عائشہؓ کے پاس گئی۔ لوگ اس وقت نماز میں مشغول تھے اور وہ بھی نماز پڑھ رہی تھیں۔ میں نے ان سے پوچھا: ’لوگوں کو کیا ہوگیا ہے؟‘ انھوں نے آسمان کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: ’سبحان اللہ‘۔ میں نے کہا: ’کیا کوئی نشانی ظاہر ہوئی ہے؟‘ انھوں نے اثبات میں اشارہ کیا۔اسماءؓ کہتی ہیں:میں بھی نماز میں کھڑی ہوگئی یہاں تک کہ بے ہوش ہوگئی، پھر میں نے اپنے سر پر پانی ڈالا۔
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی تو اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا: میں نے اس جگہ وہ کچھ دیکھا ہے جو اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا، جنت اور دوزخ بھی دیکھی (بخاری، کتاب الوضوء، حدیث: ۱۸۱)
اُم المومنین عائشہؓ کا یہ قول کہ:’’اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کے بعد کے حالات دیکھ لیتے تو یقیناً انھیں مسجدوں میں جانے سے روک دیتے‘‘ (بخاری)،دراصل خواتین کو اپنے معاملات اسلامی تعلیمات کے مطابق ڈھالنے کے لیے تنبیہ ہے، نہ کہ عورتوں کے مسجد آنے پر پابندی کی دلیل۔ اُم المومنین عائشہؓ کا مقصد یہ نہیں تھا کہ وہ عورتوں کو مسجد آنے سے روکیں بلکہ ان کا مدعا یہ تھا کہ وہ عورتوں کو مسجد میں جانے کے آداب یاد دلائیں، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھائے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے دی گئی تنبیہ کی ایک مثال قبیلہ مزینہ کی ایک عورت کے بن ٹھن کر اِتراتے ہوئے مسجد نبویؐ میں داخل ہونے پر آپؐ کے ارشادگرامی کی صورت میں اُوپر بیان ہوچکی ہے۔ حضرت عائشہؓ خود بھی مسجد جاتی تھیں اور ان سے کبھی کسی خاتون کو مسجد جانے سے روکنے کی کوئی روایت منقول نہیں ہے۔
’فتنے‘ کا اندیشہ خواتین کو مسجد جانے سے روکنے کا ایک سبب بتایا جاتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں فتنوں کے امکانات کہیں زیادہ تھے، اس کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو مسجد آنے سے نہیں روکا۔
آج صورتِ معاملہ یہ ہے کہ عورتیں بازار، شاپنگ مال، سڑکوں اور تفریح گاہوں میں تو کھلے عام جا سکتی ہیں، لیکن مسجد میں نہیں۔ خاص طور پر مغرب کی نماز کے وقت بازاروں میں دیکھا گیا ہے کہ مرد تو قریب کی مسجد میں نماز پڑھنے چلے جاتے ہیں،اور عورتیں بازار کی گلیوں میں گھومتی رہتی ہیں، یہ ہے کہ مغرب کا وقت مختصر ہوتا ہے، اور نماز کے فوت ہوجانے کا اندیشہ زیادہ ہوتا ہے۔
اگر مساجد میں عورتوں کے لیے نماز ادا کرنے کی باپردہ جگہ کی سہولت ہو تو ایسے موقع پر وہ نہ صرف نماز ادا کرسکتی ہیں بلکہ ان کے دل میں اللہ اور رسولؐ کے احکام پر عمل کی اہمیت کا احساس تازہ ہو سکتا ہے اور خریداری میں بھی اعتدال اور تقویٰ آ سکتا ہے۔اگرچہ بعض بازاروں میں عورتوں کے لیے مسجد میں الگ جگہ فراہم کی گئی ہے مگر ایسی سہولتیں بہت کم ہیں۔
بعض صحابہ کرامؓ کو عورتوں کے مسجد میں جانے سے اختلاف تھا، ان میں امیرالمومنین عمرؓ بن الخطاب بھی شامل تھے۔ لیکن اس کے باوجود ان کی اہلیہ عاتکہؓ بنت زید مسجد جایا کرتی تھیں۔ کسی نے ان (عاتکہ) سے پوچھا:’’جب آپ کے شوہر پسند نہیں کرتے تو آپ مسجد کیوں جاتی ہیں؟‘‘ انھوں نے بڑے خوب صورت انداز میں جواب دیا:’’تو پھر وہ مجھے روکتے کیوں نہیں؟‘‘ سائل نے کہا:’’کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی ہے‘‘۔
عاتکہ بنت زیدؓ فجر کی نماز کے وقت مسجد میں موجود تھیں، جب امیرالمومنین عمرؓ پر قاتلانہ حملہ ہوا (بخاری)۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ عورتیں صرف جمعہ یا عید کی نماز کے لیے نہیں بلکہ پانچ وقت کی فرض نمازوں کے لیے بھی مسجد آیا کرتی تھیں۔