مرکزی مواد پر جائیں
ماہنامہ ترجمان القرآن کی طرف واپس

ماہنامہ ترجمان القرآن، مئی 2026

ماہنامہ شمارہ

مجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (مئی 2026) کا شمارہ ہے، جس کا نمایاں مضمون حج کی حقیقت اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اسوہ پر تفصیلی گفتگو پر مشتمل ہے۔

شمارے میں مسلم عائلی قوانین میں مجوزہ تبدیلیوں پر تنقیدی جائزہ، خواتین کے مسجد سے تعلق، اور اللہ تعالیٰ کے وجود پر عقلی دلائل جیسے موضوعات شامل ہیں۔ حالاتِ حاضرہ میں لبنان کی صورتحال، کشمیر میں جبری گمشدگیوں اور راشد الغنوشی کی سزا پر بھی رپورٹیں دی گئی ہیں۔

یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

حکمت عملی کے نتائج

پروفیسر صاحب کے نزدیک ان فیصلوں اور ان پر کامیابی کے ساتھ عمل درآمد کا نتیجہ یہ ہے کہ جمعیت کے ۹۸ فی صد افراد اور کارکن نہ صرف تحریک اسلامی ہی میں شامل رہتے ہیں، بلکہ اپنی پسند کے شعبوں میں جا کر اور اچھے عہدوں پر فائز ہو کر بھی اپنے کام کے ساتھ ساتھ تحریک اسلامی کا کام بھی زیادہ بہتر انداز میں انجام دیتے ہیں۔رضائے الٰہی کا حصول ہمیشہ ان کی نگاہ میں رہتا ہے۔ اس طریقۂ کار پر عمل کے یہ ابتدائی سال تھے اور پروفیسر صاحب نے اس طرح مقابلے کے امتحانات اور دیگر شعبوں میں کامیاب ہونے والوں کے اعداد و شمار بتا کر ہمیں ورطۂ حیرت میں ڈال دیا۔

ان نتائج اور جماعت کی خستہ مالی حالت کے باوجود سیاست سمیت ہر شعبے میں شاندار کامیابیاں دیکھ کر دل خوش ہوگیا کہ یہاں پر جماعت نے نوجوان خون کو اپنا حصہ بنانے کے لیے کیا شان دار حکمت عملی اپنائی ہے۔لیکن اس کے برعکس جب جماعت اور جمعیت کا نظریاتی طور پر ایک ہی فکر اور نظریے سے وابستگی کا دعویٰ رہا، اور علی الاعلان دونوں کہتے ہیں کہ ہمارا ایک دوسرے سے کوئی تعلق نہیں، جو قانونی طور پر بالکل درست کہتے تھے، لیکن اس طرح کارکنوں کے ذہنوں میں قانونی چیز کا روحانی طور پر ذہنوں میں راسخ ہوجانا کہ ہم دو علاحدہ علاحدہ جماعتیں ہیں۔اس کا نتیجہ یہ نکلتا کہ جب وہ طالب علم جمعیت سے فارغ ہوتے تو عام معاشرے میں کہیں گم ہوجاتے اور ان کی بہت ہی تھوڑی تعداد جمعیت سے جماعت میں آتی ہے۔

پروفیسر صاحب کی اس بات میں کتنی سچائی تھی کہ ’’ہمیں نئی حکمت عملی بنانے اور اپنانے کا راستہ ملا‘‘۔