ماہنامہ ترجمان القرآن، مئی 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (مئی 2026) کا شمارہ ہے، جس کا نمایاں مضمون حج کی حقیقت اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اسوہ پر تفصیلی گفتگو پر مشتمل ہے۔
شمارے میں مسلم عائلی قوانین میں مجوزہ تبدیلیوں پر تنقیدی جائزہ، خواتین کے مسجد سے تعلق، اور اللہ تعالیٰ کے وجود پر عقلی دلائل جیسے موضوعات شامل ہیں۔ حالاتِ حاضرہ میں لبنان کی صورتحال، کشمیر میں جبری گمشدگیوں اور راشد الغنوشی کی سزا پر بھی رپورٹیں دی گئی ہیں۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
پراڈو میں دہشت
مایا، تل ابیب میں رہتی ہے اور فلسفے کی تعلیم حاصل کرتی ہے۔ غزہ جنگ کے دوران اس نے ریزرو فوجی کی ڈیوٹی کے طور پر ایک آرمرڈ کور بٹالین میں ایچ آر (HR) افسر کے طور پر کام کیا۔ وہ کہتی ہے: ’’میری روزمرہ کی زندگی اور میری ریزرو ڈیوٹی کے درمیان کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ دو الگ الگ دنیائیں ہیں، جن میں بسنے والے مختلف لوگ ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ میں نے بھی مختلف طریقے سے برتاؤ کیا تھا۔
مایا کو ایک واقعہ بہت پریشان کرتا ہے، جو جنوبی غزہ میں ایک چوکی پر پیش آیا۔ مایا کہتی ہے:’’ہم وہاں کمانڈ روم میں بیٹھے تھے۔ اچانک فوجیوں نے پانچ فلسطینیوں کو دیکھا، جو اس لائن کو عبور کر رہے تھے جسے عبور کرنے کی اجازت نہیں تھی۔وہاں ایک کتا بھی تھا۔ بٹالین کمانڈر نے انھیں قتل کرکے ایک گڑھے میں ڈالنے کا حکم دیا، حالانکہ وہ بالکل مسلح نہیں تھے۔ بہرحال ایک ٹینک پہ لگی مشین گن سے ان پر فائرنگ شروع کر دی، سینکڑوں گولیاں۔ پانچ میں سے چار فلسطینی مارے گئے۔کچھ گھنٹوں بعد، ایک ڈی-۹ (بلڈوزر) نے انھیں وہیں مٹی میں دبا دیا۔ جب میں نے پوچھا کہ ہم یہ کیوں کر رہے ہیں؟ تو انھوں نے کہا کہ ایسا اس لیے کر رہے ہیں تاکہ کتے انھیں کھا نہ سکیں اور ان کی لاشوں کی بدبُو سے بیماری نہ پھیلے‘‘۔
’’تب مجھے اپنے آپ سے گھن آنے لگی۔میں نے محسوس کیا کہ میں ایک منافق اور گھٹیا عورت ہوں۔ اس احساس کو کم کرنے کے لیے میں دن میں تین بار نہاتی مگر میری بے بسی کی تصویر مجھے نہیں چھوڑتی تھی۔ میرے ذہن میں خیالات مسلسل گھومتے رہتے ،میں وہاں کھڑی کیسے رہ سکتی تھی؟ میں، جو اخلاقیات اور انسانی حقوق کی بات کرتی ہوں، وہاں احتجاج کرنے یا کچھ کرنے کے بجائے وہاں کیسے کھڑی رہی؟ میں نے ان سے کچھ بھی کیوں نہیں کہا؟ میرے پاس کوئی جواب نہیں ہے‘‘۔