مرکزی مواد پر جائیں
ماہنامہ ترجمان القرآن کی طرف واپس

ماہنامہ ترجمان القرآن، مئی 2026

ماہنامہ شمارہ

مجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (مئی 2026) کا شمارہ ہے، جس کا نمایاں مضمون حج کی حقیقت اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اسوہ پر تفصیلی گفتگو پر مشتمل ہے۔

شمارے میں مسلم عائلی قوانین میں مجوزہ تبدیلیوں پر تنقیدی جائزہ، خواتین کے مسجد سے تعلق، اور اللہ تعالیٰ کے وجود پر عقلی دلائل جیسے موضوعات شامل ہیں۔ حالاتِ حاضرہ میں لبنان کی صورتحال، کشمیر میں جبری گمشدگیوں اور راشد الغنوشی کی سزا پر بھی رپورٹیں دی گئی ہیں۔

یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

کیا کرنا چاہیے؟

پاکستان اپنے آئین کی ’دفعہ۱‘کی رُو سے ’اسلامی جمہوریہ‘ ہے اور

’دفعہ۲‘ کے تحت اس کا ’ریاستی مذہب‘ اسلام ہے۔

یہاں کے نظام کا اصل الاصول (بمطابق دیباچہ اور دفعہ ۲-الف) یہ ہے کہ کائنات پر حاکمیت صرف اللہ تعالیٰ کو حاصل ہے اور پاکستان کے عوام کو عطا کردہ اختیارات ایک مقدس امانت ہیں، جنھیں اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود کے اندر رہ کر استعمال کرنا ہے۔

یہاں رائج تمام قوانین کو اسلامی احکام سے ہم آہنگ کرنا اور ان قوانین سے تمام ایسے امور ختم کرنا لازم ہے جو اسلامی احکام سے متصادم ہوں (دفعہ ۲۲۷)۔ lیہاں آئین اور تمام قوانین کی ایسی تعبیر لازم ہے جو آئین اور قوانین کو اسلامی احکام سے ہم آہنگ کرے (قانونِ نفاذِ شریعت ۱۹۹۱ء، دفعہ ۴)۔

راجا عامر خان بنام وفاقِ پاکستان(PLD ۲۰۲۳ سپریم کورٹ ۳۹۹) میں سپریم کورٹ کے ’فل کورٹ بنچ‘ نے سماعت کی، اور اکثریتی فیصلہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے لکھتے ہوئے اس اصول کا ذکر کیا کہ آئینی دفعات کی تعبیر میں بھی وہ تعبیر اختیار کرنا لازم ہے، جو اسلامی احکام سے ہم آہنگ ہو۔ آٹھ دیگر ججوں نے ان کے ساتھ اتفاق کیا۔ چھ ججوں نے فیصلے کے بعض دیگر پہلوؤں سے تو اختلاف کیا، لیکن اس اصول سے کسی نے بھی اختلاف نہیں کیا۔ یوں نو ججوں کی تصریح اور چھ ججوں کی خاموشی نے اس اصول کو ایسی قطعی حیثیت دے دی ہے کہ اس سے انحراف اب ناممکن حد تک مشکل ہوگیا ہے۔ حیرت ہے کہ ہمارے جج اور وکلا اس فیصلے کے بعد اس اجماعی اصول کو کیسے نظر انداز کرسکتے ہیں؟ اور بالخصوص نکاح، طلاق، وراثت اور دیگر ’شخصی اُمور‘ میں ’شریعت‘ ہی کو ’فیصلے کے قانون‘ کی حیثیت حاصل ہے (مسلم شخصی قانون ۱۹۶۲ء، دفعہ ۲)، نیز شخصی امور میں مختلف فرقوں کے فہمِ شریعت کو آئینی تحفظ حاصل ہے (آئین کی دفعہ ۲۲۷ کی توضیح) اور وفاقی شرعی عدالت سمیت کوئی عدالت ان امور میں مداخلت نہیں کرسکتی۔ (ڈاکٹر محمود الرحمٰن فیصل بنام وفاقِ پاکستان (PLD ۱۹۹۴ سپریم کورٹ ۶۰۷) )۔

ان اصولوں کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ ہمارے فاضل جج حضرات اور وکلا کو اسلامی احکام کی تفصیلی تعلیم دی جائے اور ججوں اور وکلا کی ٹریننگ میں اسلامی قانون اور اس کے اصولوں کو مرکزی حیثیت حاصل ہو۔ ہمارے جج اگر براہِ راست قرآن و سنت کی تعبیر کرنا چاہتے بھی ہیں، تو اس کےلیے اسلامی قانون کے اصولوں میں مہارت ضروری ہے۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ قانون کی تدریس کا نصاب وہی ہے جو انگریزوں کے دور سے چلا آرہا ہے ۔

اس کے علاوہ ضرورت اس امر کی ہے کہ نکاح و طلاق اور دیگر متعلقہ امور پر صوبائی اسمبلیوں اور پارلیمان کے ذریعے تفصیلی قانون سازی کےلیے بھرپور اور منظّم جدوجہد کی جائے۔ کچھ عرصہ قبل میں نے محترم مفتی محمد تقی عثمانی صاحب سے ملاقات میں درخواست کی تھی کہ وہ شریعت اور قانون کے ماہرین سے ایسے قانون کا مسودہ بنوانے اور پھر مذہبی سیاسی جماعتوں کے ذریعے اسے باقاعدہ قانون کی صورت دینے میں اپنا کردار ادا کریں۔ انھوں نے خوش خبری دی کہ وہ پہلے ہی سے اس سمت میں کام کررہے ہیں اور قانون کا مسودہ تقریباً تیار ہوچکا ہے۔

دینی رہنمائی فراہم کرنے والے افراد اور اداروں کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ ہمارے معاشرے میں خاندانی نظام پہلے ہی بگڑ چکا ہے اور خاندان کا بنیادی ادارہ بڑی تیزی سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوچکا ہے۔ اس لیے ہمارے معاشرے میں خواتین کو درپیش حقیقی مسائل کا حل اگر دین کی رہنمائی میں نہیں دیا جائے گا، تو اس خلا کو اجنبی تصورات کے ذریعے پُر کرنے کی جو منظّم کوشش پہلے ہی سے جاری ہے وہ مزید برگ و بار لائے گی ؎

دریچوں تک چلے آئے تمھارے دور کے خطرے

ہم اپنی کھڑکیوں سے جھانکنے کا حق بھی کھو بیٹھے!