ماہنامہ ترجمان القرآن، مئی 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (مئی 2026) کا شمارہ ہے، جس کا نمایاں مضمون حج کی حقیقت اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اسوہ پر تفصیلی گفتگو پر مشتمل ہے۔
شمارے میں مسلم عائلی قوانین میں مجوزہ تبدیلیوں پر تنقیدی جائزہ، خواتین کے مسجد سے تعلق، اور اللہ تعالیٰ کے وجود پر عقلی دلائل جیسے موضوعات شامل ہیں۔ حالاتِ حاضرہ میں لبنان کی صورتحال، کشمیر میں جبری گمشدگیوں اور راشد الغنوشی کی سزا پر بھی رپورٹیں دی گئی ہیں۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
ظالم کی مغفرت
[سیّد ابوالاعلیٰ مودودی | مئی ۲۰۲۶ | رسائل ومسائل] سوال : ایک شخص کسی پر بڑے ظلم ڈھاتا ہے، اس کی حق تلفی کرتا ہے، اسے ہر طریقے سے نقصان پہنچاتا ہے۔ اس کے باوجود جب یہ ظالم مرجاتا ہے تو مظلوم اس کے جنازے میں شریک ہوتا ہے، نمازِ جنازہ پڑھتا ہے اور دُعائے مغفرت کرتا ہے۔ کیا یہ صحیح طرزِعمل ہے؟ کیا اس طرح ظالم کے گناہ بخش دیئے جائیں گے؟
جواب:اس کے گناہ بخشے جائیں یا نہ بخشے جائیں، مظلوم کو اپنے طرزِعمل کا اجر ضرور ملے گا کہ اس نے اس حد تک درگزر سے کام لیا ہے۔
سوال: اگر میں کسی مرنے والے کو اپنا حق معاف کردوں تو کیا اسے معاف نہیں کردیا جائے گا اور بخش نہیں دیا جائے گا؟
جواب: اگر کوئی شخص آپ سے قرض لیتا ہے اور واپس کرنے کی خواہش اور کوشش کے باوجود اپنے حالات کے باعث واپس نہیں کرسکتا اور اس حالت میں وہ مرجاتا ہے اور آپ اس کے ذمے اپنا قرض معاف کر دیتے ہیں، تو خدا بھی اسے معاف کر دے گا۔ لیکن اگر صورت یہ ہو کہ وہ واپس کرنے کی طاقت رکھتا ہو، اس کے باوجود جان بوجھ کر واپس نہ کرے اور قرض دبا کر خوش ہو، تو آپ چاہیں معاف کر دیں، خدا کے ہاں وہ اپنے اس طرزِعمل اور ظلم و بددیانتی کی سزا پائے گا۔
سوال:ہمارے قصبے میں ایک صاحب کہتے ہیں کہ سزا اور تعذیب کی یہ سب باتیں محض ڈرانے کے لیے ہیں، خدا سب کو معاف کردے گا، چاہے گناہ کی کوئی شکل بھی ہو؟
جواب:شاید وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ خدا نے صرف جنّت بنائی ہے، دوزخ کا کوئی وجود نہیں ہے؟