مرکزی مواد پر جائیں
ماہنامہ ترجمان القرآن کی طرف واپس

ماہنامہ ترجمان القرآن، مئی 2026

ماہنامہ شمارہ

مجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (مئی 2026) کا شمارہ ہے، جس کا نمایاں مضمون حج کی حقیقت اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اسوہ پر تفصیلی گفتگو پر مشتمل ہے۔

شمارے میں مسلم عائلی قوانین میں مجوزہ تبدیلیوں پر تنقیدی جائزہ، خواتین کے مسجد سے تعلق، اور اللہ تعالیٰ کے وجود پر عقلی دلائل جیسے موضوعات شامل ہیں۔ حالاتِ حاضرہ میں لبنان کی صورتحال، کشمیر میں جبری گمشدگیوں اور راشد الغنوشی کی سزا پر بھی رپورٹیں دی گئی ہیں۔

یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

سابقہ فیصلے اور سزائیں

راشد الغنوشی کے خلاف دیگر مقدمات میں بھی کئی فیصلے سنائے جا چکے ہیں، جن میں ’جاسوسی‘ کے مقدمے میں ۲۲ سال قید، ’غیر ملکی فنڈنگ‘ کے مقدمے میں تین سال، اور ’ریاستی سلامتی کے خلاف سازش‘ (کیس ۲) میں ۱۴ سال قید شامل ہے۔ اس طرح ان کے خلاف اب تک سنائی گئی کُل سزائوں کی مدت ۷۰ سال سے تجاوز کر چکی ہے۔

اس سے قبل تحریکِ نہضہ کے سربراہ راشد غنوشی کو ۱۴ سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ مگر تیونس کی اپیل کورٹ نے حکومت کی اپیل پر سزا ۱۴ سال سے بڑھا کر ۲۰ سال کر دی ہے۔

صدر قیس سعید کے دفتر کی سابق ڈائریکٹر نادیہ عکاشہ، راشد غنوشی کے داماد اور سابق وزیرخارجہ رفیق عبدالسلام کو غیر حاضری میں ۳۵ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ ان پر ’ریاست کی اندرونی سلامتی پر حملہ کرنے کی سازش‘ اور ’ایک تنظیم اور اتحاد بنانے‘ جیسے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

یاد رہے ۲۷فروری ۲۰۲۶ء کو راشد غنوشی کو ایک اور مقدمے میں تین سال قید کی سزا سنائی گئی۔ اسی طرح مالی بدعنوانی کی ایک خصوصی عدالت نے تین سال قید اور تحریک پر ۱۵ ہزار ڈالر جرمانے کا فیصلہ بھی سنا رکھا ہے۔

تحریکِ نہضت کا کہنا ہے کہ اس طرح کے خانہ زاد مقدمات منصفانہ سماعت کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی ہیں اور عدلیہ کو سیاسی انتقام کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔انھیں روکا جائے جو عدلیہ کی آزادی اور قانون کی حکمرانی کو مجروح کرتے ہیں۔

اس سے قبل، ابتدائی عدالت نے ۵فروری کو اس مقدمے میں ملوث ۴۱ سیاست دانوں، صحافیوں، بلاگرز اور کاروباری شخصیات کو ۵ سے ۵۴ سال تک قید کی سزائیں سنائی تھیں۔ ان میں بھی راشد الغنوشی شامل ہیں۔ملزمان نے اپنے خلاف تمام الزامات کو بے بنیاد اور غلط قرار دیا ہے۔

۲۵ جولائی ۲۰۲۱ء کو قیس سعید نے غیر معمولی اقدامات کا آغاز کیا، جس میں پارلیمنٹ کی تحلیل، صدارتی احکامات کے ذریعے قانون سازی، نئے آئین کی منظوری کے لیے ریفرنڈم، اور قبل از وقت پارلیمانی انتخابات کا انعقاد شامل تھا۔

صدرقیس سعید کا کہنا ہے کہ میرے اقدامات ’ریاست کو لاحق خطرے سے بچائو کے لیے ہیں۔ تاہم ۲۰۱۱ء کا انقلاب درست تھا‘‘۔ جس میں صدر زین العابدین بن علی کا تختہ اُلٹا گیا تھا۔

صدر کی جانب سے تیونس میں غیر معمولی اقدامات کو تقریباً پانچ سال گزرنے کے باوجود تیونسی حلقوں میں تقسیم برقرار ہے۔ صدر کے مخالفین کا خیال ہے کہ ملک استبداد اور آزادیوں پر پابندیوں کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اسی تناظر میں، شہری آزادیوں کا خاتمہ ہوچکا ہے، جس میں جیلوں کا تمام سیاسی مکاتب فکر کے سیاسی قیدیوں سے بھر جانا بھی شامل ہے۔ دوسری طرف قیس سعید کے حامی ان کو قومی خودمختاری کی علامت اور قومی فیصلوں کی بحالی کا علَم بردار سمجھتے ہیں۔