ماہنامہ ترجمان القرآن، مئی 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (مئی 2026) کا شمارہ ہے، جس کا نمایاں مضمون حج کی حقیقت اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اسوہ پر تفصیلی گفتگو پر مشتمل ہے۔
شمارے میں مسلم عائلی قوانین میں مجوزہ تبدیلیوں پر تنقیدی جائزہ، خواتین کے مسجد سے تعلق، اور اللہ تعالیٰ کے وجود پر عقلی دلائل جیسے موضوعات شامل ہیں۔ حالاتِ حاضرہ میں لبنان کی صورتحال، کشمیر میں جبری گمشدگیوں اور راشد الغنوشی کی سزا پر بھی رپورٹیں دی گئی ہیں۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
مجھے لگا جیسے میں کوئی درندہ ہوں!
[ٹام لیونسن | مئی ۲۰۲۶ | اخبار اُمت] یوول (Yuval) اپنے ناخن چباتے ہوئے بیٹھا ہے، اس کی ٹانگیں بے چینی سے ہل رہی ہیں۔ تل ابیب میں دوپہر کا وقت ہے اور سڑک لوگوں سے بھری ہوئی ہے۔ کبھی کبھی وہ گھبرا کر اِدھر اُدھر دیکھتا ہے، اور پاس سے گزرنے والے لوگوں پر نظر ڈالتا ہے۔ وہ کہتا ہے: ’’معذرت، میرا سب سے بڑا خوف’انتقام‘ ہے‘‘۔
یوول کسی جرائم پیشہ خاندان میں پیدا نہیں ہوا تھا، اور نہ وہ کوئی مجرم ہے۔ وہ ۳۴سال کا نوجوان ہے۔ تل ابیب کے مضافاتی علاقے رمت ہشارون میں پلا بڑھا اور کمپیوٹر پروگرامر بنا۔ حال ہی میں وہ دنیا کی ایک بڑی ہائی ٹیک کمپنی میں سے ایک میں کام کر رہا تھا، لیکن وہ مہینوں سے وہاں نہیں گیا۔ وہ کہتا ہے:’’میں جہنم میں تھا، لیکن مجھے اس کا احساس نہیں تھا‘‘۔ وہ جس جہنم کی بات کر رہا ہے وہ دسمبر ۲۰۲۳ء میں جنوبی غزہ کے علاقے خان یونس میں پیش آیا، جب وہ ایک فوجی کی حیثیت سے تعینات تھا۔’’وہاں ہر وقت فضائی حملے ہو رہے تھے۔ ایک ٹن وزنی بم آپ سے تھوڑی ہی دُور گرتا ہے اور آپ کا دل اچھل کر حلق میں آ جاتا ہے‘‘۔
اس کا یونٹ شہر کے مرکز کی طرف مغرب کی جانب بڑھ رہا تھا۔’’وہاں شدید لڑائی ہو رہی تھی… اور میں ایک آٹو پائلٹ (مشین) کی طرح کام کر رہا تھا، سوال نہیں پوچھ سکتا تھا، بس حکم کی تعمیل‘‘۔
مگر سوالات اسے مہینوں بعد ستانے لگے:’’میرے پاس اس کے جوابات نہیں ہیں، میرے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔ میں نے جو کیا ہے اس کی کوئی معافی نہیں۔ کوئی کفارہ نہیں‘‘۔
یہ واقعہ غزہ کی مرکزی شاہراہ صلاح الدین روڈ کے قریب پیش آیا۔ ڈرون کا استعمال کرتے ہوئے، ایک پلاٹون نے کچھ مشکوک افراد کو دیکھا۔ میرے یونٹ نے حملہ کر دیا۔میں ایک پاگل آدمی کی طرح گولیاں چلا رہا تھا، جیسا کہ ہمیں بنیادی تربیت میں پلاٹون کی مشقوں کے دوران میں سکھایا گیا تھا‘‘۔وہ کہتا ہے: ’’جب ہم اپنی منزل پر پہنچے، تو مجھے احساس ہوا کہ لوگ جن کو نشانہ بنایا گیا ہے، یہ کوئی دہشت گرد نہیں تھے۔ یہ ایک بوڑھا آدمی اور تین نوعمر لڑکے تھے۔ ان میں سے کوئی بھی مسلح نہیں تھا۔ لیکن ہم نے ان کے جسم گولیوں سے چھلنی کر دیے تھے، ان کے اعضا کے ٹکڑے بکھرے ہوئے تھے۔ میں نے کبھی اتنے قریب سے ایسی کوئی چیز نہیں دیکھی تھی‘‘۔
’’مجھے یاد ہے اس کارروائی کے بعد وہاں مکمل سناٹا تھا، کسی نے ایک لفظ نہیں بولا تھا۔ پھر بٹالین کمانڈر اپنے لوگوں کے ساتھ آیا۔ اس کے ساتھ آنے والوں میں سے ایک نے لاشوں پر تھوکا اور چلّایا،ایسا سلوک ہراُس فرد کے ساتھ ہوتا ہے جو اسرائیل سے الجھتا ہے، تم کمینوں کی کمینی اولاد۔ میں صدمے میں تھا، لیکن میں خاموش رہا کیونکہ میں ایک بزدل ہوں، صرف ایک بے ہمت بزدل‘‘۔
اس ذہنی دبائو کی کیفیت کے سبب یوول کو تقریباً تین ماہ بعد فارغ کر دیا گیا۔ اس نے دو ہفتے کی چھٹی لی اور واپس اپنے کام پر چلا گیا۔ وہ کہتا ہے:’’جب میں فارغ ہوا تو انھوں نے میرے لیے ایک پارٹی رکھی، میرے لیے تالیاں بجائیں اور مجھے ہیرو کہا۔ لیکن مجھے لگا جیسے میں ایک درندہ ہوں۔ میں ان باتوں کو برداشت نہیں کر سکا، جو انھوں نے مجھ سے کہیں۔ مجھے لگا کہ انھیں احساس ہی نہیں ہے کہ میں کوئی اچھا انسان نہیں ہوں‘‘۔
کچھ مہینوں تک اس نے اپنی ملازمت برقرار رکھنے کی کوشش کی، تاکہ اپنے دل پر بوجھ کم کرسکے، لیکن آخر کار ہمت ہار دی۔ وہ کہتا ہے: ’’میرے اندر کی شرمندگی اب بدتر ہو چکی ہے‘‘۔
وہ کہتا ہے:’’میں گھر سے باہر نکلنے کی کوشش نہیں کرتا، اور اگر نکلتا ہوں تو ہڈ (Hood) پہن لیتا ہوں تاکہ لوگ مجھے پہچان نہ سکیں۔ میں اب بھی آئینے میں خود کو نہیں دیکھ سکتا۔ مجھے اپنے آپ سے نفرت ہے۔ مجھے ایک گہرا خوف ہے کہ کوئی مجھ سے اس بات کا بدلہ لے گا جو میں نے وہاں کیا ہے۔ اگرچہ مجھے یہ بات معلوم ہے کہ ایسا ہونا ممکن نہیں ہے، غزہ کے بچ رہنے والوں میں سے کون مجھے ڈھونڈ سکتا ہے؟ ‘‘
’’اس عافیت کے واہمے کے باوجود، میں زندہ نہیں رہنا چاہتا۔ میں کسی طرح مرنا چاہتا ہوں، تاکہ اس سب سے چھٹکارا پا سکوں۔ میں خودکشی نہیں کروں گا کیونکہ میں نے اپنی ماں سے وعدہ کیا ہے، لیکن میں یہ بات نہیں جانتا کہ میں کب تک یہ بوجھ اٹھا سکوں گا‘‘۔