مرکزی مواد پر جائیں
ماہنامہ ترجمان القرآن کی طرف واپس

ماہنامہ ترجمان القرآن، مئی 2026

ماہنامہ شمارہ

مجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (مئی 2026) کا شمارہ ہے، جس کا نمایاں مضمون حج کی حقیقت اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اسوہ پر تفصیلی گفتگو پر مشتمل ہے۔

شمارے میں مسلم عائلی قوانین میں مجوزہ تبدیلیوں پر تنقیدی جائزہ، خواتین کے مسجد سے تعلق، اور اللہ تعالیٰ کے وجود پر عقلی دلائل جیسے موضوعات شامل ہیں۔ حالاتِ حاضرہ میں لبنان کی صورتحال، کشمیر میں جبری گمشدگیوں اور راشد الغنوشی کی سزا پر بھی رپورٹیں دی گئی ہیں۔

یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

تاریخ کی گواہی

صدیوں کی انسانی تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ خالق کی موجودگی کے منکروں نے جب بھی کوئی علاقہ یا خطہ فتح کیا، تو وہاں وحشیانہ شیطانی کھیل کھیلے۔ انسانی کھوپڑیوں کے مینار بنائے، عورتوں کی آبروریزی کی اور عمارتیں جلا کر راکھ کر ڈالیں اور کتب خانوں کو نذرِآتش کردیا۔ مگر اس کے برعکس جب خدا کو ماننے والے فتح یاب ہوئے اور جب مکّہ ان کے قدموں میں تھا، تو اُٹھی ہوئی تلواروں کو روک دیا گیا اور پھر مکہ کی وادیوں میں اسلامی لشکر کے سالارِ اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز گونجی: <<لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ۝۰ۭ يَغْفِرُ اللہُ لَكُمْ۝۰ۡ>>، بے پناہ ظلم کرنے والے اپنے جانی دشمنوں سے کہا گیا:’’جائو آج تم پر کچھ ملامت نہیں، اللہ تمھیں معاف کرے‘‘۔(سیرۃ ابن ہشام)

فلسطین فتح ہوا تو کسی ایک خاتون کی بھی بے حرمتی نہ کی گئی اور کسی ایک مفتوح کو بھی قتل نہ کیا گیا۔ وہاں بھی فاتح فوج کے سپریم کمانڈر فاروقِ اعظم عمر بن الخطابؓ نے پہلا اعلان یہی کیا کہ ’’آج سے غیر مسلموں کا تحفظ بھی ہماری ذمہ داری ہے‘‘۔ حضرت عمرؓ نے بیت المقدس کے معاہدے میں تحریر کیا: ’’یہ وہ امان ہے جو اللہ کے غلام امیرالمومنین عمر نے ایلیا کے لوگوں کو دی ہے۔ یہ امان اُن کی جان، مال، گرجا، صلیب، تندرست، بیمار اور ان کے تمام مذہب والوں کے لیے ہے۔ اس طرح کہ ان کے گرجائوں میں نہ سکونت کی جائے، نہ ڈھائے جائیں، نہ ان کی صلیبوں اور ان کےمال میں کچھ کمی کی جائے گی۔ مذہب کے بارے میں ان پر جبر نہیں کیا جائے گا… جو کچھ اس تحریر میں ہے، اس پر خدا کا، اس کے رسولؐ، خدا کے خلیفہ کا اور مسلمانوں کا ذمہ ہے، ۱۵ ہجری‘‘۔

قسطنطنیہ (استنبول) فتح ہوا تو سلطان محمدفاتح سفید گھوڑے پر شہر میں داخل ہوا، مگر اس کی گردن اپنے خالق ومالک کے آگے عجز و انکسار سے جھکی ہوئی تھی، نہ استنبول کی گلیاں خون سے سرخ ہوئیں اور نہ کسی مفتوح پر تلوار اٹھائی گئی۔ بھلا یہ کن تعلیمات کا کرشمہ تھا، یہ اُسی خالق کائنات کے احکامات (Divine guidence) کا نتیجہ تھا، جس نے انسانوں کو رحم اور انسانی جان کی حُرمت کا حکم دیا ہے، جنگ اور فتح کے آداب سکھائے ہیں اور مخالفین پر بھی ظلم کرنے سے منع کیا ہے۔

خالق کائنات کی طرف سے انسانوں کے لیے اُترنے والا سب سے قیمتی تحفہ جس نے انسانی معاشروں کو رہنے کے قابل بنایا، وہ عدل اور انصاف کا تصوّرہے۔ تم جس ہستی کے بارے میں ہرزہ سرائی کرتے ہو کہ دنیا میں اتنا ظلم ہورہا ہے اور وہ دیکھ رہا ہے۔ جانتے ہو اُس ہستی نے انسانوں کو کس معیار کا انصاف کرنے کے احکامات دیئے ہیں؟ نہیں جانتے تو سنو، وہ انسانوں کو حکم دیتا ہے کہ ’’انصاف پر قائم رہنے والے بنو (یعنی ہر حال میں انصاف کرو) چاہے اس کی زدتمھارے عزیز واقارب پر یا تمھارے والدین پر یا تمھاری اپنی ذات پر ہی کیوں نہ پڑتی ہو؟‘‘ یعنی اپنے والدین کے خلاف بھی فیصلہ کرنے سے گریز نہ کرو اور انصاف کا تقاضا ہو تو اپنے خلاف بھی فیصلہ کردو مگر کسی صورت انصاف کا پرچم سرنگوں نہ ہونے دو۔ پھر یہاں تک حکم دیا کہ ’’کسی گروہ کی دشمنی تمھیں انصاف کی راہ سے نہ ہٹادے‘‘۔ (المائدہ ۵:۸)

اس معیار کا انصاف کرنے کا تصور کیا کوئی انسان دے سکتا ہے؟ کیا انسانی تاریخ میں کسی انسان نے ایسا تصوّر دیا ہے؟ کیا کوئی ملحد، تاریخ انسانی کے کسی بھی دور میں گزرے ہوئے کسی بھی فلسفی یا دانش ور مثلاً ارسطو، افلاطون، مارکس یا روسو کی کسی تحریر سے انصاف، رحم یا انسانی مساوات کے بارے میں ایسی تلقین کی کوئی معمولی سی جھلک بھی دکھا سکتا ہے، جو قادرِمطلق کی آخری کتاب میں اور آخری نبیؐ کی تعلیمات میں جگہ جگہ ملتی ہے؟ جی نہیں، آپ لوگ انصاف کے ایسے معیار کی کوئی بھی مثال پیش نہیں کر سکتے، جس کا تصوّر زمین وآسمان کے مالک نے دیا اور جس کی عملی تعبیر رسالت مآبؐ کی اپنی شخصیّت تھی، جنھوں نے یہ کہہ کر کہ ’’میری بیٹی فاطمہ بھی ایسا کرتی تو اسے بھی ایک عام آدمی کی طرح وہی سزا ملتی‘‘، قانون کی نظر میں سب کے لیے برابری (Equality before law) کا اصول ہمیشہ ہمیشہ کے لیے طے کردیا۔