مرکزی مواد پر جائیں
ماہنامہ ترجمان القرآن کی طرف واپس

ماہنامہ ترجمان القرآن، مئی 2026

ماہنامہ شمارہ

مجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (مئی 2026) کا شمارہ ہے، جس کا نمایاں مضمون حج کی حقیقت اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اسوہ پر تفصیلی گفتگو پر مشتمل ہے۔

شمارے میں مسلم عائلی قوانین میں مجوزہ تبدیلیوں پر تنقیدی جائزہ، خواتین کے مسجد سے تعلق، اور اللہ تعالیٰ کے وجود پر عقلی دلائل جیسے موضوعات شامل ہیں۔ حالاتِ حاضرہ میں لبنان کی صورتحال، کشمیر میں جبری گمشدگیوں اور راشد الغنوشی کی سزا پر بھی رپورٹیں دی گئی ہیں۔

یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

کیا اُمت اللہ کے شعائر کی تعظیم کرتی ہے؟

پھر، یہ امت اللہ تعالیٰ کے شعائر کی تعظیم کے لیے حج کرتی ہے۔ وہ کعبہ (بیت اللہ) کی تعظیم کرتی ہے، سعی، طواف، قربانی اور دیگر مناسک کی تعظیم کرتی ہے، تاکہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تعمیل ہو سکے:

<<ذٰلِكَ۝۰ۤ وَمَنْ يُّعَظِّمْ شَعَاۗىِٕرَ اللہِ فَاِنَّہَا مِنْ تَقْوَي الْقُلُوْبِ۝۳۲(الحج۲۲:۳۲)>> اور جو اللہ کے شعائر کی تعظیم کرتا ہے، تو یہ دلوں کا تقویٰ ہے۔

مسلمان حج اس لیے کرتے ہیں تاکہ اپنے دین کے ساتھ بیعت کی تجدید کریں اور مسلمانوں کی صفوں میں شامل ہو کر مؤمنوں سے دوستی اور دشمنوں سے بیزاری کا اظہار کریں۔

میں اس امت سے پوچھتا ہوں جو اللہ کے شعائر کی تعظیم کرتی ہے، کیا اللہ کے ان شعائر میں سے، جن کی تعظیم واجب ہے، مسجدِ اقصیٰ کی حفاظت اور اسے غاصب صہیونیوں سے آزاد کرانا شامل نہیں؟ کیا یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفر معراج کا نقطۂ قیام نہیں ہے؟ کیا یہ مسلمانوں کا قبلہ اول نہیں ہے؟ اگر امت اپنے رب کے شعائر کی تعظیم نہیں کرتی، تو وہ حج کے مفاہیم کو کیسے پاسکتی ہے؟

یقیناً شعائر کی تعظیم صرف اس کنکری کی جسامت تک محدود نہیں جو ہم شیطان کو مارتے ہیں، اور نہ اس بال تک محدود ہے جو حاجی کے سر سے اتفاقاً گر جائے، اور نہ اس چیونٹی کے خون کی نازک ذمہ داری تک محدود ہے جو حاجی کے پاؤں تلے آ جائے! بلکہ اللہ کے شعائر کی تعظیم مسلمانوں کے خون کی حفاظت میں مضمر ہے۔

وہ مسلمان جسے قتل کیا جاتا ہے، جس پر بمباری ہوتی ہے، جس کی عزت و قدر پامال کی جاتی ہے اور جسے اس کے گھر سے بے دخل کیا جاتا ہے، وہ اس کعبہ سے زیادہ عظیم ہے جس کا تم طواف کرتے ہو۔ یہی وہ بات ہے جو ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھائی تھی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ سے مخاطب ہو کر فرمایا تھا:

<<مَا أَعْظَمَكِ وَأَعْظَمَ حُرْمَتَكِ، وَلَحُرْمَةُ الْمُسْلِمِ أَعْظَمُ عِنْدَ اللهِ مِنْكِ (ترمذی: ۲۰۳۲، ابن ماجہ:۳۹۳۲، ابن حبان:۵۷۶۳)>> تُو کتنا عظیم ہے اور تیری حُرمت کتنی عظیم ہے! لیکن ایک مسلمان کی حرمت اللہ کے نزدیک تجھ سے بھی زیادہ عظیم ہے!