مرکزی مواد پر جائیں
ماہنامہ ترجمان القرآن کی طرف واپس

ماہنامہ ترجمان القرآن، مئی 2026

ماہنامہ شمارہ

مجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (مئی 2026) کا شمارہ ہے، جس کا نمایاں مضمون حج کی حقیقت اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اسوہ پر تفصیلی گفتگو پر مشتمل ہے۔

شمارے میں مسلم عائلی قوانین میں مجوزہ تبدیلیوں پر تنقیدی جائزہ، خواتین کے مسجد سے تعلق، اور اللہ تعالیٰ کے وجود پر عقلی دلائل جیسے موضوعات شامل ہیں۔ حالاتِ حاضرہ میں لبنان کی صورتحال، کشمیر میں جبری گمشدگیوں اور راشد الغنوشی کی سزا پر بھی رپورٹیں دی گئی ہیں۔

یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

فہمِ دین اور سماجی و سیاسی شعور کی ترقی

مسجد مسلمانوں کے اجتماعی و انفرادی معاملات و مسائل پر غوروخوض کرکے ان کا حل تلاش کرنے کے لیے مشاورت کا اسلامی عوامی مقام ہے۔ اگر عورتیں تربیت یافتہ ہوں گی تو پورے معاشرے میں تربیت کے لیے ماحول سازگار ہوجائے گا جو اگلی نسل کی تربیت اور ان کی معاشرتی شمولیت میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ جس سے اسلام کے جامع فہم کی روشنی میں سماجی ہم آہنگی بھی فروغ پاتی ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمی و تربیتی مجالس میں خواتین بھی شریک ہوتی تھیں۔ اُم المومنین عائشہؓ نے انصار کی خواتین کے بارے میں فرمایا: ’’انصار کی عورتیں کتنی بہترین ہیں! ان کی شرم و حیا اسلامی طرزِ زندگی (کے احکام) سیکھنے میں ان کے آڑے نہیں آتی‘‘۔(صحیح بخاری، کتاب العلم، حدیث:۱۲۹)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صرف خواتین کی تعلیم و تربیت کے لیے علیحدہ وقت بھی مقرر فرمایا کرتے، تاکہ وہ دین اسلام کی تعلیم اور شعور حاصل کر سکیں۔ ایک موقع پر عورتیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرنے لگیں: مرد آپ سے سارا وقت لے لیتے ہیں، ہمارے لیے آپ کوئی دن مقرر فرما دیجیے۔ آپؐ نے ان سے ایک دن کا وعدہ فرمایا۔ اس دن ان سے ملاقات کی، انھیں وعظ کیا اور نصیحتیں فرمائیں‘‘۔ (صحیح بخاری، کتاب العلم، حدیث:۱۰۱)

عید کے موقع پر ایک دفعہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے محسوس کیا کہ خواتین خطبہ صحیح طرح سے نہیں سن پائیں، تو آپؐ ان کے پاس تشریف لے گئے اور انھیں وعظ فرمایا، متعدد اسلامی تعلیمات کی یاد دہانی کرائی جن میں صدقے کی تلقین بھی شامل تھی‘‘۔(صحیح بخاری، کتاب العلم، حدیث: ۹۸)