مرکزی مواد پر جائیں
ماہنامہ ترجمان القرآن کی طرف واپس

ماہنامہ ترجمان القرآن، مئی 2026

ماہنامہ شمارہ

مجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (مئی 2026) کا شمارہ ہے، جس کا نمایاں مضمون حج کی حقیقت اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اسوہ پر تفصیلی گفتگو پر مشتمل ہے۔

شمارے میں مسلم عائلی قوانین میں مجوزہ تبدیلیوں پر تنقیدی جائزہ، خواتین کے مسجد سے تعلق، اور اللہ تعالیٰ کے وجود پر عقلی دلائل جیسے موضوعات شامل ہیں۔ حالاتِ حاضرہ میں لبنان کی صورتحال، کشمیر میں جبری گمشدگیوں اور راشد الغنوشی کی سزا پر بھی رپورٹیں دی گئی ہیں۔

یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

تحریکاتِ اسلامی اور عصری تناظر

[پروفیسر ڈاکٹر انیس احمد | مئی ۲۰۲۶ | دعوت وتحریک] دنیا کے مختلف خطوں میں اسلام کو بحیثیت نظامِ زندگی اور نظامِ حیات پیش کرنے والی تحریکات اسلامی میں ایک عالمی فکری یگانگت اور یک جہتی پائی جاتی ہے ۔ مثلاً تحریکات اسلامی اپنی جدوجہد کو کسی خاص خطہ ٔ ارض میں اعلائے کلمۃ الحق تک محدود نہیں سمجھتیں، بلکہ دُنیا میں جہاں بھی دعوتِ دین اور اقامت دین کی جدوجہد ہورہی ہو، وہ اسے اپنی جدوجہد کا حصہ شمار کرتی ہیں۔

ظاہر ہے کلمۂ حق کا اولین قیام کسی ایک خطۂ ارض پر ہی ہوگا اور وہاں سے دعوت کی شعاعیں دیگر مقامات کو روشن کریں گی ۔گویا کسی ایک ملک میں اقامت دین کی بھرپور جدوجہد کے ساتھ ساتھ تحریکاتِ اسلامی دیگر مقامات پر امت اور تحریک کو درپیش مسائل و مشکلات سے لاتعلق یا غیرمتعلق نہیں رہ سکتیں۔ قرآن کریم کا واضح حکم ہے: <<وَمَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللہِ وَالْمُسْتَضْعَفِيْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاۗءِ وَالْوِلْدَانِ الَّذِيْنَ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ اَخْرِجْنَا مِنْ ھٰذِہِ الْقَرْيَۃِ الظَّالِمِ اَہْلُھَا۝۰ۚ وَاجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ وَلِيًّا۝۰ۚۙ وَّاجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ نَصِيْرًا۝۷۵ (النساء۴:۷۵)>> ’’آخر کیا وجہ ہے کہ تم اللہ کی راہ میں اُن بے بس مردوں، عورتوں اور بچوں کی خاطر نہ لڑو جو کمزور پاکر دبا لیے گئے ہیں، اور فریاد کر رہے ہیں کہ خدایا، ہم کو اس بستی سے نکال جس کے باشندے ظالم ہیں، اور اپنی طرف سے ہمارا کوئی حامی ومددگار پیدا کردے‘‘۔ اس صریح حکم ربانی کی روشنی میں اپنے علاقوں اور بستیوں میں ضعیف اور مظلوم بنادیے جانے والے لوگوں کی امداد اور نجات کے لیے سر گرم ہونا بھی تحریکات اسلامی کا فرضِ منصبی ہے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو غزہ و فلسطین اور ایران پر صہیونی اور امریکی جارحیت، دہشت گردی اور دھونس کو عالمی سطح پر نہ صرف مسلم بلکہ غیرمسلم عوام الناس نے بھی مکمل طور پر رَدّ کردیا ہے۔ گو امریکا پر اعتماد اور بھروسا کرنے والے ممالک کا موقف ان کے عوام سے مختلف ہے۔ تحریکات اسلامی اپنے اصولی موقف کی بنا پر ظلم و استحصال کو رد کرتی ہیں لیکن تحریکی موقف کو واضح اور اصولی بنیادوں پر استوار کرنے کے ساتھ ساتھ اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ رائے عامہ کو ہموار کرتے ہوئے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر حق کی اصولی حمایت کے موقف کو حکمت اور تدبر کے ساتھ ملک و ملّت کے اجتماعی موقف اور پالیسی میں ڈھالنے کی جدوجہد کی جائے۔ ایسے ممالک جہاں تحریکات اسلامی کو سانس لینے کی آزادی ہے وہاں کی تحریکات کی یہ بنیادی ذمہ داری ہے کہ امت کے اجتماعی مسائل اور مفادات کے تحفظ کے لیے قائدانہ کردار ادا کریں۔