ماہنامہ ترجمان القرآن، مئی 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (مئی 2026) کا شمارہ ہے، جس کا نمایاں مضمون حج کی حقیقت اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اسوہ پر تفصیلی گفتگو پر مشتمل ہے۔
شمارے میں مسلم عائلی قوانین میں مجوزہ تبدیلیوں پر تنقیدی جائزہ، خواتین کے مسجد سے تعلق، اور اللہ تعالیٰ کے وجود پر عقلی دلائل جیسے موضوعات شامل ہیں۔ حالاتِ حاضرہ میں لبنان کی صورتحال، کشمیر میں جبری گمشدگیوں اور راشد الغنوشی کی سزا پر بھی رپورٹیں دی گئی ہیں۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
کیا اُمت اپنا فرض ادا کر رہی ہے؟
ج ہمیں یہ یاد دلانے آتا ہے کہ ہم ایک امت ہیں، محض خطے، جھنڈے، قبیلے، رنگ اور نسلیں نہیں ہیں۔ بلکہ ہم ایک امت ہیں، اور کوئی عام امت نہیں، بہترین امت ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
<<كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ۰ۭ (اٰل عمٰرن۳:۱۱۰)>> تم وہ بہترین امت ہو جو لوگوں کے لیے نکالی گئی ہے، تم نیکی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔
ہم ایک گواہ امت ہیں، پوری انسانیت پر تہذیبی گواہی دینے والی امت، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
<<وَكَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُہَدَاۗءَ عَلَي النَّاسِ وَيَكُـوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَہِيْدًا۰ۭ (البقرہ۲:۱۴۳)>> اور اسی طرح ہم نے تمھیں ایک معتدل امت بنایا تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور رسول تم پر گواہ ہو۔
امت کی اس عظمت اور اس کے مقام کے بارے میں، جسے ہم حج کے دوران سیکھتے اور ذہن نشین کرتے ہیں، میں بڑی تکلیف کے ساتھ اپنے آپ سے یہ سوال کرتا ہوں: کیا ہم اُمت کے حقیقی اجزا کے طور پر نظر آ رہے ہیں؟ کیا ہم امت کی ذمہ داریاں پوری کر رہے ہیں؟ اور کیا ہم امت کے اخلاق، اس کی اقدار، باہمی رحم دلی اور ہمدردی کی تصویر بنے ہوئے ہیں؟
نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ تعلقات منقطع ہیں، جھنڈے جُدا جُدا ہیں، ناموں کی بھرمار ہے، اور لوگ آپس میں دست و گریبان ہیں۔ امت نے اپنے ہی کچھ حصوں کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ رکھا ہے۔ ان کا خون بہایا جا رہا ہے، ان کا مال لوٹا جا رہا ہے، اور انھیں ان کے گھروں سے نکالا جا رہا ہے، اور یہ سب پوری دنیا کی آنکھوں کے سامنے ہو رہا ہے، جب کہ خیر اور بھائی چارے کی حامل یہ اُمت لہو و لعب، تفریح گاہوں، تقریبوں اور سیر و سیاحت میں مگن ہے۔
بلاشبہ امت حج کے حقیقی معانی سے غافل ہو چکی ہے۔ اسے ضرورت ہے کہ وہ پلٹ کر آئے اور امت مسلمہ ہونے کی اپنی پہچان حاصل کرے۔ تب ہی حج کا اثر مختلف ہوگا، اور عبادات کے نتائج ظاہر ہوں گے۔ لیکن اگر ہم حج کے مقاصد اور اہداف کو نہ سمجھیں، اور اس عظیم عبادت کی روح کو نہ اپنائیں، تو ہم اب تک یہ نہیں سمجھ سکے کہ ہم حج کیوں کرتے ہیں، اور اللہ نے حج کیوں فرض کیا ہے؟