ماہنامہ ترجمان القرآن، مئی 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (مئی 2026) کا شمارہ ہے، جس کا نمایاں مضمون حج کی حقیقت اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اسوہ پر تفصیلی گفتگو پر مشتمل ہے۔
شمارے میں مسلم عائلی قوانین میں مجوزہ تبدیلیوں پر تنقیدی جائزہ، خواتین کے مسجد سے تعلق، اور اللہ تعالیٰ کے وجود پر عقلی دلائل جیسے موضوعات شامل ہیں۔ حالاتِ حاضرہ میں لبنان کی صورتحال، کشمیر میں جبری گمشدگیوں اور راشد الغنوشی کی سزا پر بھی رپورٹیں دی گئی ہیں۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
حج کی روح اور تقاضے
[ڈاکٹر جمال عبدالستار | مئی ۲۰۲۶ | تزکیہ و تربیت] حج ہر سال ہمیں ہماری پہچان یاد دلانے، ہمیں اپنی فطرت کی طرف لوٹانے، ہمارے تعلقات میں حقیقی بھائی چارہ پیدا کرنے، ہر حال میں اللہ تعالیٰ کے حکم پر لبیک کہنے، اپنے پروردگار اور خالق کے شعائر کی تعظیم میں صدق پیدا کرنے اور شیطان اور اس کے گروہ سے دشمنی کا درس دینے آتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ اگر امت ان مقاصد کو حاصل نہیں کر پاتی، تو پھر وہ حج کیوں کرتی ہے؟ جب کہ اس کے اہم ترین مقاصد میں اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرنا ہے، اس کے احکامات پر عمل کرنے میں جلدی کرنا، اور جن چیزوں سے اس نے روکا ہے ان سے بچنا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
<<يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِيْبُوْا لِلہِ وَلِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيْكُمْ۰ۚ (الانفال۸:۲۴)>> اے ایمان لانے والو، اللہ اور اس کے رسول کی پکار پر لبیک کہو، جب کہ رسُول تمھیں اس چیز کی طرف بُلائے جو تمھیں زندگی بخشنے والی ہے۔
حج میں اللہ کے حکم کی تعمیل طواف، سعی، رمی اور قیامِ منٰی کی صورت میں نظر آتی ہے۔ ان شرعی ضوابط سے ایک مسلمان اللہ کے حکم کے سامنے مکمل تسلیم و رضا کا درس سیکھتا ہے۔ کسی منطقی نظریے یا فلسفیانہ بحث میں پڑے بغیر وہ ان تمام مناسک سے اللہ تعالیٰ کی مکمل اطاعت سیکھتا ہے۔
میں یہاں اُمت مسلمہ سے سوال کرتا ہوں، جو حج کا شوق رکھتی ہے اور اس کے لیے اپنی قیمتی ترین پونجی خرچ کرتی ہے: کیا وہ واقعی اللہ کے حکم پر لبیک کہتی ہے؟ کیا ہماری امت اپنے چھوٹے بڑے تمام معاملات میں اللہ کی شریعت کو حاکم مانتی ہے؟ تاکہ اللہ کے اس فرمان کی تعمیل ہو سکے:
<<وَاَنِ احْكُمْ بَيْنَہُمْ بِمَآ اَنْزَلَ (المائد ہ۵:۴۹)>> اور اس کے نازل کردہ قانون کے مطابق ان کے درمیان فیصلہ کرو۔
اور اس کے اس حکم کی اطاعت ہو:
<<اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلہِ۰ۭ (یوسف۱۲:۴۰)>> اور حکم صرف اللہ ہی کا ہے۔
اور اللہ کے اس حکم کی نافرمانی سے بچا جا سکے:
<<وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللہُ فَاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْكٰفِرُوْنَ۴۴ (المائدہ۵:۴۴)>> اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی اصل کافر ہیں۔
حج ہمیں ہماری شناخت یاد دلانے، ہمیں ہماری فطرت کی طرف لوٹانے، اور ہمارے اندر سچا بھائی چارہ (اخوت) اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کا جذبہ بیدار کرنے کے لیے آتا ہے۔
کیا ہماری امت اللہ تعالیٰ کے اس حکم پر لبیک کہہ رہی ہے جس میں اسے جہاد کا حکم دیا گیا ہے، اگر اس کے دین، مال، جان، عزت یا نسل پر حملہ کیا جائے؟ حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے کسی ایک کا دفاع کرتے ہوئے مرنے والے کو شہادت کا رُتبہ دیا ہے۔ آپ ؐ نے فرمایا: <<مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ، وَمَنْ قُتِلَ دُونَ نَفْسِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ، وَمَنْ قُتِلَ دُونَ أَهْلِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ (ابوداؤد: ۴۷۷۲، نسائی:۴۰۹۵، احمد:۱۶۵۲)>> ’’جو اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے مارا گیا وہ شہید ہے، جو اپنی جان کی حفاظت کرتے ہوئے مارا گیا وہ شہید ہے، اور جو اپنے اہل و عیال کی حفاظت کرتے ہوئے مارا گیا وہ شہید ہے‘‘۔
اُمت مسلمہ کے دشمنوں نے اس پر دھاوا بول دیا اور ان تمام ضروریات (جان، مال، عزّت) پر حملہ کیا، تو کیا امت نے اللہ کے حکم کی تعمیل میں جہاد کا فریضہ سرانجام دیا؟ کیا امت اپنے مقدسات کے لیے کھڑی ہوئی؟ کیا اس نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سر زمینِ اسرا (مسجد ِ اقصیٰ) کا دفاع کیا؟