مرکزی مواد پر جائیں
ماہنامہ ترجمان القرآن کی طرف واپس

ماہنامہ ترجمان القرآن، مئی 2026

ماہنامہ شمارہ

مجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (مئی 2026) کا شمارہ ہے، جس کا نمایاں مضمون حج کی حقیقت اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اسوہ پر تفصیلی گفتگو پر مشتمل ہے۔

شمارے میں مسلم عائلی قوانین میں مجوزہ تبدیلیوں پر تنقیدی جائزہ، خواتین کے مسجد سے تعلق، اور اللہ تعالیٰ کے وجود پر عقلی دلائل جیسے موضوعات شامل ہیں۔ حالاتِ حاضرہ میں لبنان کی صورتحال، کشمیر میں جبری گمشدگیوں اور راشد الغنوشی کی سزا پر بھی رپورٹیں دی گئی ہیں۔

یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

لبنان: جنگ بندی کے باوجود شعلے

لبنان میں عارضی جنگ بندی کے باجود اسرائیل کے زیرقبضہ علاقوں میں عسکری کارروائیاں جاری ہیں۔ اس ہفتے جنوبی لبنان میں کم ازکم چار گاؤں خالی کراکر اسرائیلی فوج نے مکانوں اور فصلوں کو آگ لگادی۔

اسرائیلی جریدے Haaretz کے مطابق لبنان پر اسرائیلی حملوں میں اب تک ۱۷۲ بچے جان کی بازی ہار چکے ہیں، جب کہ ۲۴۵۴ شہری شہید ہوئے ہیں اور ۷۶۵۸ زخمی۔ نیتن یاہو اور صدر ٹرمپ کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائیاں ایران کے حامی عسکری گروہوں کے خلاف ہیں۔ پارکوں اور میدانوں میں کھیلتے یہ گیارہ بارہ سال کے معصوم بچے آخر کس ’دہشت گردی‘ میں ملوث تھے؟ سچ ہے کہ جنگ کا سب سے بڑا بوجھ ہمیشہ عام شہری ہی اٹھاتے ہیں۔

دوسری طرف غرب اردن میں فلسطینیوں پر حملے، فصلیں اجاڑنے اورگھروں پر قبضے کاسلسلہ جاری ہے۔ رام اللہ کے قصبے ترمسعیا پر قبضہ گردوں نے مکانات اور گاڑیوں کو آگ لگادی، جاتے ہوئے یہ لوگ دیواروں پر 'انتقام ' کے نعرے لکھ گئے۔ معلوم نہیں مظلوموں سے کس بات کا انتقام لیا جارہا ہے؟۲۱؍ اپریل کو رام اللہ کے المغیر اسکول پر قبضہ گردوں نے حملہ کیا، جس میں ایک ۱۴ سالہ طالب علم حمدی نسان اور استاد ابو نعیم گولی لگنے سے موقع پر دم توڑ گئے۔ سات سال قبل حمدی کا باپ بھی اسرائیلی فوج کی درندگی کی نذر ہوچکا ہے۔ جاتے جاتے غارت گرد دیواروں پر 'عرب مُردہ باد کے نعرے لکھ گئے۔

صہیونی قبضہ گردوں نے فلسطینی بچوں کے خلاف اب تشدد کا ایک نیا انداز اختیار کرلیا ہے۔ کھیل کے میدانوں اور اسکولوں میں پانی کی گن سے بچوں کی آنکھوں میں سرخ مرچ کے محلول کی پچکاری ماری جاتی ہے۔ بیت الحم کے گاؤں تقوع اور وادی اردن کے شہر عین الحلوہ میں بچوں کو گھیر کر مرچ کے پانی کے علاوہ کچھ کی آنکھوں میں سرخ مرچیں جھونک دی گئیں۔ جس سے درجنوں بچوں کی آنکھوں میں زخم آگئے۔ کچھ کی بینائی متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔

القدس شریف میں دراندازی :مسجد اقصیٰ کے دروازے کھلتے ہی دراندازی کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوگیا ہے۔ اسرائیل نے ۱۹۶۷ءمیں القدس پر قبضے کے فوراً بعد اقوام عالم کو یقین دلایا تھا کہ مسجد اقصیٰ و القدس شریف کی اسلامی حیثیت برقرار رکھی جائے گی اور دیوار گریہ کے سوا کسی بھی جگہ غیرمسلموں کا داخلہ اوقاف کی تحریری اجازت سے مشروط ہوگا، مگر یہ سب خواب ہے!

ایمسٹرڈیم کی خاموش گواہی:نازی مظالم کا نشانہ بننے والے یہودیوں کی یاد میں ۱۴؍اپریل کو ’یومِ ہولوکاسٹ‘ منایا جاتاہے جسے عبرانی میں’یومِ ہاشوہ‘ کہتے ہیں ۔اس مناسبت سے ہالینڈ کے شہر ایمسٹرڈیم کے مرکزی ’ڈیم اسکوائر‘ پر درندگی کا شکار ہونے والے نونہالانِ غزہ کی یاد میں ننھے جوتوں کی ایک علامتی قطار سجائی گئی۔یہ منظر اس بات کی یاد دہانی تھا کہ تاریخ کے زخم صرف ماضی کا قصہ نہیں، بلکہ حال کے دکھوں میں بھی جھلکتے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا انھی یہودیوں کے مظالم کا شکار عرب بچوں کا کوئی دُکھ اور کوئی یاد نہیں؟ یقینا دُنیا بھر کے لوگ انھیں یاد کرتے ہیں اور یاد رکھیں گے۔