ماہنامہ ترجمان القرآن، مئی 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (مئی 2026) کا شمارہ ہے، جس کا نمایاں مضمون حج کی حقیقت اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اسوہ پر تفصیلی گفتگو پر مشتمل ہے۔
شمارے میں مسلم عائلی قوانین میں مجوزہ تبدیلیوں پر تنقیدی جائزہ، خواتین کے مسجد سے تعلق، اور اللہ تعالیٰ کے وجود پر عقلی دلائل جیسے موضوعات شامل ہیں۔ حالاتِ حاضرہ میں لبنان کی صورتحال، کشمیر میں جبری گمشدگیوں اور راشد الغنوشی کی سزا پر بھی رپورٹیں دی گئی ہیں۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
عائلی قوانین کے نظام کا بنیادی مسئلہ
پاکستان میں عائلی نظام کی ’عدالتی انجینئرنگ‘ اتنی آسانی سے کیوں ممکن ہوجاتی ہے؟ اس سوال کے جواب کےلیے ذرا پیچھے جا کر یہ دیکھنا ضروری ہے کہ دورِ غلامی میں انگریزوں نے یہ نظام کن بنیادوں پر قائم کیا تھا اور اُن کے چلے جانے کے تقریباً ۸۰ برس بعد اب یہ نظام کیسے کام کرتا ہے؟
انگریزوں نے جب برصغیر میں اپنا قانونی نظام رائج کیا، تو آغاز انھوں نے محصولات کے قانون میں تبدیلیوں سے کیا، پھر دیوانی قانون اور فوجداری قانون کی طرف توجہ کی۔ تاہم مسلمانوں کے عائلی قانون میں انھوں نے عمومی طور پر عدم مداخلت کی پالیسی اختیار کی۔ چنانچہ ابتدا میں عائلی تنازعات کے فیصلے دورِ سلاطین اور مغل عہد سے فرائض انجام دیتے چلے آنے والے مسلمان قاضی ہی کرتے رہے۔ بعد میں ان قاضیوں کی جگہ جج مقرر کیے گئے، لیکن چونکہ ان ججوں کو اسلامی قانون کا علم نہیں تھا، اس لیے ان کی معاونت کےلیے ’مفتی‘ مقرر کیے گئے۔ پھر کچھ عرصے بعد مسلمانوں کی اہم فقہی کتابوں کے انگریزی تراجم کیے گئے تو مفتیوں پر انحصار بھی ختم ہوگیا۔ اسی طرح انگریزوں کے دور میں ججوں نے بطورِ اصول یہ طے کیا تھا کہ مقدمے کا فیصلہ کرنے کےلیے وہ اپنا ’فہمِ شریعت‘ نافذ کرنے کے بجائے مقدمے کے فریقوں کے ’فقہی مذہب‘ کی پابندی کریں گے۔ چنانچہ سُنّی مسلمانوں کے فیصلوں کےلیے ہدایہ اور فتاویٰ عالمگیریہ اور اہلِ تشیع کے فیصلوں کےلیے شرائع الاسلام میں حکم دیکھا جاتا۔ اگر فریقین کا تعلق الگ فقہی مذاہب سے ہوتا، تو یہ اصول طے کیا گیا تھا کہ ایسے معاملے میں مدعا علیہ کے فقہی مذہب پر فیصلہ کیا جاتا۔ (مسماۃ عزیزہ بانو بنام علی محمد ابراہیم (AIR ۱۹۲۵، الٰہ آباد ۷۲۰))۔
فقہی کتابوں کے تراجم میں بھی مسائل تھے اور بعض اوقات ان کتابوں میں مذکور قانونی اصولوں کے فہم میں ججوں سے بھی غلطیاں ہوئیں، لیکن عمومی طور پر وہ متعلقہ فقہی مذہب کی پابندی کی کوشش کرتے رہے، اور اس وجہ سے عموماً کوئی بڑا مسئلہ پیدا نہیں ہوا، سوائے ان صورتوں کے جن میں ججوں نے اسلامی قانون کے کسی حکم کو اپنے ’تصورِ انصاف‘ کے خلاف سمجھ کر اسے موڑنے کی کوشش کی۔ ’وقف علی الاولاد‘ کے متعلق پریوی کونسل کا فیصلہ اس کی ایک مثال ہے، (ابو الفتح محمداسحاق بنام رسمایہ دھر چودھری ، (۱۸۹۴) IA، جلد۲۲، ص۷۶)۔ جس کے بعد قائد اعظم کی کوششوں سے ۱۹۱۳ء میں ’وقف ایکٹ‘ نے مسلمانوں کے اوقاف کو تحفظ دیا۔
انگریزوں کی اس پالیسی کا نتیجہ یہ تھا کہ آزادی سے قبل نکاح و طلاق اور دیگر متعلقہ امور پر ’قانون سازی‘ بہت کم کی گئی۔ عام طریقہ یہی رہا کہ عدالتیں ’شریعت‘ پر فیصلے کرتی تھیں اور ’شریعت‘ سے مراد مقدمے کے فریقوں کا ’فقہی مذہب‘ ہوتا تھا۔
تاہم، قیامِ پاکستان کے بعد عائلی قوانین کے نظام میں ’اصلاحات‘ کےلیے جو کمیشن قائم کیا گیا، اس میں صرف ایک عالم دین تھے مولانا احتشام الحق تھانوی (م:۱۹۸۰ء) اور اس کمیشن کے دیگر ارکان کو اسلامی قانون کے مبادیات کا بھی علم نہیں تھا۔ چنانچہ جب اس کمیشن کی رپورٹ آئی، تو اس پر علمی حلقوں کی جانب سے شدید تنقید ہوئی اور اسے سرد خانے میں ڈال دیا گیا۔ تاہم، کچھ عرصے بعد جنرل ایوب خان نے مارشل لا کے دوران ۱۹۶۱ء میں ایک آرڈی نینس کے ذریعے عائلی قوانین کے بعض امور میں ایسی تبدیلیاں کیں، جن کی کوئی بنیاد اسلامی قانون میں موجود نہیں تھی۔ پھر ۱۹۶۷ء میں سپریم کورٹ کا مشہور فیصلہ ’خورشید بی بی بنام بابو محمد امین‘ آیا جس میں قرار دیا گیا کہ عدالت کےلیے فقہی مذاہب کی پابندی ضروری نہیں اور وہ براہِ راست قرآن و سنت کی تعبیر کےلیے ’اجتہاد‘ کرسکتی ہے۔ (دیکھیے مسماۃ خورشید بی بی بنام بابو محمد امین، PLD ۱۹۶۷ سپریم کورٹ ۹۷ )۔ اس کے بعد عدالتی فیصلوں میں ’اجتہاد‘ کے نام پر اسلامی قانون کے اصولوں کو نظرانداز کرکے براہِ راست قرآن و سنت کی آزادانہ اور بے مہار تعبیر کا ایسا سلسلہ شروع ہوا کہ ’نے ہاتھ باگ پر ہے، نہ پا ہے رکاب میں‘ والی صورت بن گئی۔
پس، اصل مسئلہ یہ ہے کہ عائلی قوانین پر ہمارے ہاں تفصیلی قانون سازی کی عدم موجودگی میں ججوں کےلیے ’اجتہاد‘ کے نام پر میدان خالی چھوڑ دیا گیا ہے۔ اگر نکاح، طلاق، وراثت اور دیگر متعلقہ اُمور پر ہمارے ہاں تفصیلی قوانین موجود ہوتے، تو مرضی کے فیصلوں کی گنجائش کم ہوتی۔ تاہم، یہ سوال اس کے بعد بھی رہتا کہ یہ کیسے یقینی بنایا جائے کہ قانون سازی اسلامی اصولوں کے مطابق ہو؟
ہم نے قانون سازی کے معاملے میں بھی دیکھا ہے کہ سیکولر طبقے کی جانب سے باقاعدہ منظّم جدوجہد کی جاتی ہے،جب کہ مذہبی طبقہ اس منظرنامے سے عموماً لاتعلق رہتا ہے اور اس وقت ہوش میں آتا ہے جب قانون سازی ہوچکی ہوتی ہے، اور اس کے بعد اس کی توجہ صرف ان دفعات کے منسوخ کرانے کی مہم اور احتجاج پر ہوتی ہے جو اسلامی اصولوں سے ’متصادم‘ ہوں۔ اس کےلیے بھی طویل جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔ ’ماوراے صنف اشخاص‘ کے متعلق قانون ٹرانس جینڈر پرسنز ایکٹ ۲۰۱۸ء اس کی ایک بڑی واضح مثال ہے۔ تینوں بڑی سیاسی اور پارلیمانی جماعتوں (پیپلز پارٹی، نون لیگ،تحریک انصاف) کے ارکانِ پارلیمنٹ کو باقاعدہ لابنگ کے ذریعے اس قانون سازی کےلیے تیار کیا گیا، جب کہ مذہبی سیاسی جماعتوں کی جانب سے کوئی خاص منظم، مربوط اور مسلسل مزاحمت نہیں ہوسکی (تفصیل دیکھیے: محمد مشتاق احمد، ’ٹرانس جینڈر اشخاص کے تحفظ کا قانون: ایک تجزیاتی مطالعہ‘، مجلۂ تعلیم و تحقیق، ۴ (۲۰۲۲ء)، ص۲۱-۴۷ )۔
قانون بن چکنے کے بعد جماعتِ اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد خان نے اس میں ترامیم، اور پھر اس کی مکمل منسوخی، کےلیے بھرپور جدوجہد کی، لیکن اس کا بھی کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا۔ عدالتی محاذ پر ۲۰۲۳ء میں کامیابی یوں ملی کہ وفاقی شرعی عدالت نے اس قانون کی بعض دفعات کو اسلامی احکام سے متصادم قرار دیا، لیکن اس فیصلے کے خلاف اپیلیں چونکہ سپریم کورٹ کے شریعت اپیلیٹ بنچ میں معلق ہیں، اس لیے یہ فیصلہ مؤثر نہیں ہے اور یہ قانون بدستور ملک میں نافذ ہے۔