ماہنامہ ترجمان القرآن، مئی 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (مئی 2026) کا شمارہ ہے، جس کا نمایاں مضمون حج کی حقیقت اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اسوہ پر تفصیلی گفتگو پر مشتمل ہے۔
شمارے میں مسلم عائلی قوانین میں مجوزہ تبدیلیوں پر تنقیدی جائزہ، خواتین کے مسجد سے تعلق، اور اللہ تعالیٰ کے وجود پر عقلی دلائل جیسے موضوعات شامل ہیں۔ حالاتِ حاضرہ میں لبنان کی صورتحال، کشمیر میں جبری گمشدگیوں اور راشد الغنوشی کی سزا پر بھی رپورٹیں دی گئی ہیں۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
جماعت اسلامی بنگلہ دیش کی حکمت کار
[عارف الحق عارف | مئی ۲۰۲۶ | تحریک اسلامی] برسوں پر محیط ظالم ڈکٹیٹر حسینہ واجد کے آمرانہ دور میں جماعت اسلامی کے لیڈروں کو پھانسی کے پھندوں پر لٹکانے، ہزاروں نوجوانوں کی گم شدگی، ہزاروں کارکنوں کو برسوں جیل میں رکھنے اور ان پر شدید ترین مظالم ڈھانے کے باوجود آج کل جماعت اسلامی اپنی تاریخ میں مقبولیت کی بلندترین سطح پر ہے۔ اس کے لیڈروں اور کارکنوں کی ان قربانیوں اور صبر و استقامت کے نتائج اب ملک بھر میں جماعت کی ہر سطح پر پذیرائی اور مقبولیت کی صورت میں نکل رہے ہیں۔
جماعت اسلامی کو بنگلہ دیش میں اس مقام پر لانے میں یوں تو وہاں کی مجموعی قیادت کی سوچ اور پالیسیوں کا دخل ہے، لیکن اگر کسی ایک قائد اور راہ نما کا نام لیا جائے تو وہ پروفیسر غلام اعظم ہیں، جو ۱۹۷۱ء میں مشرقی پاکستان میں جماعت اسلامی کے امیر تھے۔ یہ انھی کی ذمہ داری تھی کہ وہ اس جماعت کو بنگلہ دیش بن جانے کے بعد ۱۹۷۱ء کے دوران پاکستان کو انڈیا کی سازش سے بچانے اور ملک کو دو ٹکڑے ہونے سے بچانے کے لیے دی جانے والی قربانیوں کی وجہ سے غداری کے الزام سے خود کو بری کریں اور اس کو قومی دھارے کی سیاست میں دوبارہ فعال کریں۔ انھوں نے چند سال جلاوطن رہ کر اور پھر واپس جا کر اپنی دور اندیشی اور تدبر سے جماعت اور جمعیت کو ایک جدید اور قابل عمل نظام دیا، جس نے نہ صرف جماعت کو مضبوط نظریاتی بنیادوں پر کھڑا کردیا بلکہ ان دونوں کو نظم کے ایک بندھن میں پرو دیا۔ اس طرح جماعت کو نوجوانوں خاص طور پر تعلیمی اداروں ( یونی ورسٹیوں، کالجوں اور اسکولوں اور دینی مدارس ) کے طلبہ اور طالبات کی افرادی قوت بھی میسر آ گئی۔
یہ نظام کیا ہے؟ اور اس کو کس طرح پروفیسر غلام اعظم نے رائج کیا؟ اس کا جائزہ پیش ہے:
مغربی پاکستانی اشرافیہ ( سیاسی، خاکی اور نوکر شاہی) کی اپنی سیاسی بے بصیرتی اور اقتدار سے چمٹے رہنے کی ہوس کی وجہ سے ۱۶ دسمبر ۱۹۷۱ء کو مشرقی پاکستان پاکستان سے الگ ہوگیا اور سقوطِ ڈھاکہ ہوگیا۔اس وقت پروفیسر غلام اعظم اور سابق امیر جماعت اسلامی مشرقی پاکستان مولانا عبد الرحیم جماعت کی مرکزی شوریٰ کے اجلاس میں شرکت کےلیے لاہور میں موجود تھے اور انھوں نے لاہور میں ملک کو دو ٹکڑے ہوتے ہوئے دیکھا۔وہ اس سے قبل ۲۱نومبر ۱۹۷۱ء کو مغربی پاکستان سے مشرقی پاکستان (بعد میں بنگلہ دیش) جارہے تھے کہ ان کا طیارہ کولمبو سے واپس مغربی پاکستان بھیج دیاگیا۔ اس کے بعد وہ ۱۹۷۴ء تک پاکستان میں رہے۔ یہ دونوں رہنما کچھ دنوں بعد کراچی آگئے۔
پروفیسر غلام اعظم اور مولانا عبد الرحیم کو پاکستان سے الگ ہونے کا بڑا رنج و ملال تھا اور وہ اکثر اس سانحہ کے اسباب و علل پر بھی اظہار خیال کرتے اور پاکستان کی حکومت کی غلط پالیسیوں کو بھی زیر بحث لاتے تھے۔تھوڑے عرصے بعد یہ دونوں بزرگ کراچی سے دوبئی چلے گئے۔
اس کے بعد پروفیسر صاحب دوبئی اور لندن میں قیام پذیر رہے۔ پھر ۱۸؍اپریل ۱۹۷۳ء کو مجیب حکومت نے اُن کی شہریت منسوخ کردی۔ اس کے باوجود لاہور، کراچی ، دوبئی اور لندن میں جلا وطنی کا کچھ عرصہ گزارا۔ پھر خبر ملی کہ وہ اگست ۱۹۷۸ء کے دوسرے ہفتے واپس ڈھاکہ چلے گئے ہیں اور اپنی شہریت کی بحالی کےلیے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا۔لیکن تحریک اسلامی کی غیر علانیہ قیادت سنبھال لی۔وہ جماعت کے رہبر تھے۔ اس طرح پہلے مولانا عباس خاں اور پھر مطیع الرحمٰن نظامی امیر جماعت بنے۔
ہماری ان سے ۱۹۸۴ء کو اس وقت ملاقات ہوئی جب روزنامہ جنگ کی طرف سے ہمیں اور اخبار جہاں کے ایڈیٹر نثار احمد زبیری کو اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی ( Organization of Islamic Countries) کے وزرائے خارجہ کے تین روزہ اجلاس کی کوریج کےلیے ڈھاکہ بھیجا گیا۔اس وقت بنگلہ دیش کے قیام کو صرف ۱۲ سال ہی گزرے تھے۔کانفرنس تو تین دن میں ختم ہوگئی اور پاکستان سمیت اسلامی ممالک سے آئے ہوئے صحافی واپس چلے گے لیکن ہم تحریک اسلامی سے تعلق رکھنے والے تین صحافی ،راقم ، نثار زبیری اور لندن سے نکلنے والے انگریزی ماہ نامہ Arabia کے نمائندہ خصوصی اسلم عبداللہ ( اب لاس اینجلس، امریکا کے ایک بڑے دینی اسکالر و امام) مزید ایک ہفتے کےلیے وہیں رُک گئے۔
پروفیسر غلام اعظم صاحب سے آخری بار ملاقات ۲۰۰۳ء میں کراچی میں ہوئی، جب وہ بنگلہ دیش بننے کے بعد پہلی بار پاکستان آئے اور انھوں پاکستان کے مختلف شہروں کے دورے کے بعد کراچی کا بھی دورہ کیا، اور ایک بڑے استقبالیہ سے خطاب بھی کیا۔ اس موقع پر ان سے کراچی کے قیام اور ڈھاکہ میں ملاقاتوں کا تذکرہ رہا۔
ہماری ان سے بھر پور، متاثر کن اور یاد گار ملاقات ۱۹۸۴ء کی ہے، جس میں ان کو قریب سے دیکھنے، ان کے تحریک اسلامی کے بارے میں وژن اور اس کی نئے ملک بنگلہ دیش کے حالات کے مطابق تنظیم نو کی حکمت عملی اور ان کی دور اندیشانہ سوچ کو سمجھنے کا موقع ملا۔
یہاں اختصار کے ساتھ ان اقدامات کا ذکر کریں گے، جو پروفیسر غلام اعظم صاحب نے جماعت اور جمعیت کی قیادت کے باہمی مشورے کے بعد جماعت کے نظم میں کیے تھے اور جن کی وجہ سے جماعت اسلامی ایک بدترین آمرانہ دور دیکھنے اور اپنے قائدین کی پھانسیوں اور ہزاروں لیڈروں اور کارکنوں کی قید وبند کی صعوبتوں کے باوجود اس وقت بنگلہ دیش کی ایک بڑی قوت کی حیثیت سے ابھر کر سامنے آئی ہے۔