ماہنامہ ترجمان القرآن، مئی 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (مئی 2026) کا شمارہ ہے، جس کا نمایاں مضمون حج کی حقیقت اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اسوہ پر تفصیلی گفتگو پر مشتمل ہے۔
شمارے میں مسلم عائلی قوانین میں مجوزہ تبدیلیوں پر تنقیدی جائزہ، خواتین کے مسجد سے تعلق، اور اللہ تعالیٰ کے وجود پر عقلی دلائل جیسے موضوعات شامل ہیں۔ حالاتِ حاضرہ میں لبنان کی صورتحال، کشمیر میں جبری گمشدگیوں اور راشد الغنوشی کی سزا پر بھی رپورٹیں دی گئی ہیں۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
عدالتی فیصلوں کے اثرات
راشد الغنوشی کو سنائی جانے والی سزائوں پر مبنی فیصلے ان کی زندگی میں قید و بند اور جلاوطنی کے اس طویل سلسلے کا تسلسل ہیں، جو صدر حبیب بورقیبہ کے دور سے شروع ہوا اور پھر معزول صدر زین العابدین بن علی کے دور میں بھی جاری رہا۔تیونسی عدلیہ کے یہ احکامات اب صرف النہضہ تحریک تک محدود نہیں رہے، بلکہ ۱۴؍ اپریل کو ایک جج نے انسدادِ بدعنوانی اتھارٹی کے سابق سربراہ شوقی طبیب اور وکلا کی یونین کے سابق صدر کو بھی حراستی مرکز بھیجنے کا حکم دیا ہے۔ اسی طرح’الحوار التونسی‘ چینل کے مالک سامی الفہری کو مالیاتی مقدمات میں پانچ سال قید، اور وکیل و میڈیا پرسن سنیہ الدہمانی کو میڈیا بیانات کی وجہ سے ۱۸ ماہ قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
تیونس کے صحافیوں کی قومی یونین نے کہا: ’’یہ فیصلہ آزادیِ اظہار کے معاملات سے نمٹنے میں ایک خطرناک عدالتی انحراف کی عکاسی کرتا ہے۔ اس قسم کے مقدمات اس حکم نامے کے ذریعے چلائے جا رہے ہیں جو صدر قیس سعید نے ۲۰۲۲ء میں مواصلاتی نظام اور معلومات سے متعلق جرائم کو کنٹرول کرنے کے لیے جاری کیا تھا، جو کئی صحافیوں، کارکنوں اور وکلا کی گرفتاری کا سبب بنا ہے۔یاد رہے گذشتہ ماہ ایک اور عدالت نے صحافی غسان بن خلیفہ کو دو سال قید کی سزا سنائی تھی، جو آزادیِ اظہار پر منظم ریاستی حملہ ہے‘‘۔
یہ تمام واقعات ایک ایسے وقت میں ہوئے ہیں، جب ۲۰۲۴ء سے زیرِ حراست معروف میڈیا شخصیات مراد الزغیدی اوربرہان بسیس کے وکلا نے ان کی رہائی کا مطالبہ کیا۔
انسانی حقوق کی تنظیموں نے ایک مشترکہ بیان میں مطالبہ کیا ہے کہ بنیادی حقوق اور آزادیوں کو نقصان پہنچانے والے فرامین کے ’سیاسی استعمال سے گریز‘ کیا جائے، جن کے تحت سیکڑوں مقدمات قائم کیے گئے ہیں۔
اقوام متحدہ سے وابستہ ماہرین نے تیونس میں عدالتی عمل کے طریقۂ کار پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سب کچھ عدل کے منافی ہے۔اسی طرح ہیومن رائٹس واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل جیسی عالمی تنظیموں نے بھی آزادیوں میں کمی اور ناقدین کے خلاف عدلیہ کے استعمال پر بات کی ہے۔
اقوام متحدہ کے ایک فیصلے نے تیونس کے منظرنامے کی حقیقت کو کھول کر رکھ دیا ہے، جس میں راشد غنوشی کو ایک ’ملزم‘ سے بین الاقوامی سطح پر ’مظلوم‘ قرار دیا گیا ہے۔ آمرمطلق صدر قیس سعید اب سوالات کی زد میں ہیں۔