ماہنامہ ترجمان القرآن، مئی 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (مئی 2026) کا شمارہ ہے، جس کا نمایاں مضمون حج کی حقیقت اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اسوہ پر تفصیلی گفتگو پر مشتمل ہے۔
شمارے میں مسلم عائلی قوانین میں مجوزہ تبدیلیوں پر تنقیدی جائزہ، خواتین کے مسجد سے تعلق، اور اللہ تعالیٰ کے وجود پر عقلی دلائل جیسے موضوعات شامل ہیں۔ حالاتِ حاضرہ میں لبنان کی صورتحال، کشمیر میں جبری گمشدگیوں اور راشد الغنوشی کی سزا پر بھی رپورٹیں دی گئی ہیں۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
وجودِ باری تعالٰی کے واضح شواہد
ایک صاحبِ شعور انسان کی حیثیت سے ’نظریۂ الحاد‘ ، یعنی انسان اور کائنات کے خودبخود ’تخلیق‘ ہونے کا جب بھی جائزہ لیا، سچی بات ہے کہ عقل کو بالکل ہی اپیل نہیں کرتا۔ جسم کا ہر عضو انتہائی حسّاس اور پیچیدہ قسم کے فرائض سرانجام دے رہا ہے۔ جگر، دل ، دماغ یا آنکھ کے کام اور وظائف کا جائزہ لیا جائے تو عقل دنگ رہ جاتی ہے اور ہر صاحبِ عقل پکار اُٹھتا ہے کہ ان اعضا کی تخلیق کسی عظیم ترین خالق کے حسنِ تخلیق کا نتیجہ ہے۔ کسی خالق کی حکیمانہ سوچ کے بغیرایسی حیرت انگیز فیکٹریوں کی تخلیق کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ دوسری جانب تمام شواہد، وقت کے سب سے سچّے اور امین انسان حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے نظریۂ تخلیق کی صداقت کو تسلیم کرنے پر مجبور کردیتے ہیں۔
فرض کریں کہ کسی انسان نے اللہ خالق کائنات کا تصوّر تخلیق کرنا ہو تو وہ اسے کسی شہنشاہ کے طور پر پیش کرے گا۔ وہ اس قسم کی بات کرے گا کہ آسمانوں پر رہنے والے ہزاروں فرشتے اللہ کے بیٹے ہیں۔ ہندو مذہبیات (Mythology)میں دیوی دیوتائوں کا تصوّر ایسے ہی انسانی تصوّر وخیال کا نتیجہ ہے۔ ماہرینِ نفسیات کہتے ہیں کہ انسانی ذہن اگر خالق کا تصوّر خود تراشتا تو اسے بے اولاد کبھی نہ دکھاتا اور ہزاروں سال پہلے مرے ہوئے انسانوں کا زندہ ہونا اور دربارِ الٰہی میں پیش ہوکر اپنے ہر عمل کا حساب دینے کا تصوّر آج سے ہزاروں سال قبل انسان کے خواب و خیال میں بھی نہیں آسکتا تھا۔ مگر اصل خالق کے بارے میں آسمانوں سے اُترنے والے تعارقی فقروں میں بتایا گیا کہ وہ واحد خالق و مالک ہے یعنی زمین وآسمان اور کائناتوں کی سلطنت چلانے میں اس کا کوئی پارٹنر یا شریک ِکار نہیں۔ اس کا کوئی باپ نہیں اور نہ اس کا کوئی بیٹا یا بیٹی ہے۔ وہ ہر چیز سے باخبر ہے، جو ہرانسان کو اس کے ہر اچھے اور بُرے کام کا اجر اور سزا دے گا۔ ہماری عقل نے فوراً کہا کہ وہ عظیم الشان ہستی ایسی ہی ہونی چاہیے، جو انسانی جذبات، ضروریات اور جبلّتوں سے پاک اور بلند ہو اور وہ اتنا طاقت ور ہو کہ ہرشخص کو اس کے کیے کی سزا یا جزا دینے کی قدرت رکھتا ہو۔
جب اس جیسا کلام تخلیق کرنے کا چیلنج دیا گیا تو عرب کے سب فصیح وبلیغ گنگ رہ گئے۔ اب کہا گیا کہ یہ پیغام اور یہ ہدایات چونکہ اَزل تک تمام انسانوں کے لیے ہیں، اس لیے میں اس میں ایک لفظ کی بھی تحریف نہیں ہونے دوں گا اور اس کی حفاظت خود کروںگا۔ پندرہ سو سال بیت گئے مگر تحریف کی سب کوششیں اور سازشیں ناکام ہوئیں اور پیغامِ حق اپنی اصل صورت میں کاغذ پر بھی اور کروڑوں حفّاظ کے سینوں میں بھی بالکل محفوظ ہے۔ جو خود اپنی جگہ ایک غیر معمولی معجزہ ہے۔
جب پیغام بھیجنا شروع کیا تویہ نہیں کہا کہ بس تم نے سن لیا تو اسی وقت آنکھیں بند کرکے اسے قبول کرو ورنہ سزا کے لیے تیار ہوجائو، بلکہ بار بار کہا گیا کہ تمھارے آس پاس زمین اور آسمان میں سورج، چاند اور ستاروں میں واضح نشانیاں ہیں۔ ان پر غور کرو، تفکّر اور تدبّر کرو۔ تم ہر چیز میں حیرت انگیز توازن، ربط اور درجۂ کمال کی کاملیّت (Perfection) کا مشاہدہ کروگے، تو تمھارا دل اور دماغ پکار اُٹھے گا کہ یہ خودبخود تخلیق نہیں ہوسکتا، یہ واقعی کسی عظیم الشان ہستی کی تخلیق ہے۔
پھر خالق نے اپنے تخلیقی شاہکار کے بارے میں چیلنج دے دیا، فرمایا:’’ تم رحمان کی تخلیق میں کسی قسم کی بے ربطی نہ پائو گے۔ پھر پلٹ کر دیکھو ، کہیں تمھیں کوئی خلل نظر آتا ہے؟ بار بار نگاہ دوڑائو۔ تمھاری نگاہ تھک کر نامراد پلٹ آئے گی‘‘ (الملک ۶۷:۳-۴)۔ دنیا بھر کے سائنس دان طاقت ور ترین دوربینوں سے مشاہدہ کرچکے، مگر وہ اس عظیم الشّان تخلیق میں کوئی خامی اور کوئی معمولی سا بھی نقص (Infirmity) نہیں ڈھونڈ سکے۔ اللہ کی تخلیق کردہ اس کائنات میں ایسا توازن اور تناسب ہے کہ آج تک کوئی کہیں معمولی سا بھی جھول، بدنظمی، بے ترتیبی یا بے ربطی تلاش نہیں کرسکا۔ کیا کوئی انسانی تخلیق ایسی ہوسکتی ہے، جس میں ہزاروں برس بعد بھی تخریب نہ ہو؟ کائنات کی تخلیق اور خالق کے بارے میں صاحبانِ عقل ودانش کے لیے کیا یہی ثبوت کافی نہیں ہے!
پھر اگر کسی انسان نے طریقۂ ٔ تخلیق تراشنا ہوتا تو ممکن ہے وہ اس قسم کی کہانی گھڑتا کہ ’’اللہ نے ہزاروں فرشتوں اور جنوں کو اس کام پر لگایا اور پھر یہ دنیا، سورج اور چاند وغیرہ تخلیق ہوئے‘‘۔ مگر آسمانوں سے جواب آتا ہے:’’اس کی شان یہ ہے کہ جب کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اسے فرمادیتا ہے کہ ہوجاؤ، تو وہ ہوجاتی ہے‘‘ (مریم ۱۹:۳۵)۔ بے شک ربّ ِ کائنات کی یہی شان ہونی چاہیے۔
اتنی طاقت ور ہستی نے ایک کامل (perfect) کائنات اور دنیا بنائی، تو ساتھ ہی اس کی فطرت میں (کششِ ثقل کی طرح کے) ایسے قوانین ڈال دیئے ہیں اور اس کے مختلف اجزا (گیسوں وغیرہ) میں اس طرح کا توازن پیدا کردیا ہے، جو انسانی بقاء اورنشوونما کے لیے ضروری ہے۔ یہ سب خالق کی نعمتیں ہیں۔ اب مجھے دیکھنا ہے کہ کیا یہ طاقت ور ترین ہستی انسانوں کو پیدا کرکے ان سے بے نیاز ہوکر بیٹھ گئی ہے کہ وہ جیسے چاہیں زندگی گزاریں؟ نہیں، ایسا ہوتا تو طاقت ور، کمزور کو بھیڑیوں کی طرح چیر پھاڑ دیتا اور کمزور کی عورتوں اور جائیدادوں پر قبضہ کرلیتا۔ اس عظیم الشّان خالق نے ایک خوش گوار اور متوازن معاشرہ تشکیل دینے کے لیے اصول بتائے ہیںاور بڑے واضح اور سخت احکامات جاری کیے ہیں۔
اس نے سب سے پہلے انسانی جان کی حرمت قائم کی ہے اور واضح طور پر کہہ دیا ہے : اگر ایک بے گناہ انسان کو ہلاک کروگے تو ہم تمھیں پوری انسانیت کا قاتل سمجھیں گے اور ایک قتل کی نہیں پوری انسانیت کے قتل کی سزا دیں گے: <<مَنْ قَتَلَ نَفْسًۢا بِغَيْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِي الْاَرْضِ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيْعًا۰ۭ وَمَنْ اَحْيَاہَا فَكَاَنَّمَآ اَحْيَا النَّاسَ جَمِيْعًا۰ۭ (المائدہ ۵:۳۲)>>۔ اس سے دنیا کے کروڑوں انسانوں کی جانیں محفوظ ہوگئیں۔ کیا دنیا کا کوئی مفکر یا ماہرِ سماجیات انسانی جان کے تحفظ کے لیے اس سے بہتر الفاظ یا قانون تخلیق کرسکتا تھا یا کرسکا ہے؟ بالکل بھی نہیں۔
انسانی معاشرے اور معاشرے کو رہنے کے قابل بنانے کے لیے جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ عدل اور انصاف ہے، اور انسانیت کو یہ گراں قدر تحفہ بھی انسانوں سے نہیں آسمانوں سے ملا ہے۔ کیونکہ پتّوں سے تن ڈھانپنے والے انسانوں سے لے کر آج کے سب سے ترقی یافتہ ملک کے صدر تک سب کی فطرت اور سوچ یکساں ہے۔ ان کی سرشت میں عدل نہیں غلبہ ہے، انصاف نہیںکمزور انسان یا ملک کے وسائل پر قبضہ اور مخالف کا خاتمہ ہے۔
آج کے نام نہاد ’مہذّب ترین‘ انسان اپنے جیسے لاکھوں بے گناہ انسانوں کو بے شرمی اور دیدہ دلیری سے ہلاک کررہے ہیں اور ان کے وسائل پر زبردستی قبضہ کررہے ہیں۔ نہ ان کا تمدّن ان کا گریبان پکڑتا ہے، نہ ان کی تہذیب اور قوانین ان کے ہاتھ روکتے ہیں۔ یہ نام نہاد مہذّب انسان نہیں ،انسانوں کا خالق ہی ہے جو انسانوں کو ظلم اور زیادتی سے روکتا ہے۔ ہر چیز پر اختیار رکھنے والے خالق اور مالک کا حکم ہے کہ ہرقیمت پر اور ہر حال میں انصاف کرو، چاہے تمھیں اپنے والدین یا اپنی ذات کے خلاف ہی کیوں نہ فیصلہ کرنا پڑے۔ قرآن کریم ہی میں یہ فرمایا گیا: <<وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَـنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰٓي اَلَّا تَعْدِلُوْا۰ۭ اِعْدِلُوْا۰ۣ ہُوَاَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى۰ۡ(المائدہ ۵:۸)>> ’’اور کسی قوم کی دشمنی تمھیں اس بات پر آمادہ نہ کردے کہ تم عدل و انصاف چھوڑ دو۔ عدل کیا کرو، یہی تقویٰ کے زیادہ قریب ہے‘‘۔
انصاف کا یہ معیار اللہ نے مقرر کیا ہے، جس کی عملی تفسیر اللہ کے آخری نمائندے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلمتھے۔ ایسا معیار تو دُور کی بات ہے اسرائیل اور مظلوم فلسطینیوں کے درمیان کیا کبھی کسی امریکی یا یورپی حکمران نے اللہ کے قائم کردہ معیار سے سو گنا کم درجے کا بھی انصاف روا رکھا ہے؟ بالکل نہیں۔ ظاہر ہے کہ میرا شعور پکار اُٹھے گا کہ کمزور کو ہلاک کرنے والوں کا نظریہ جھوٹ اور باطل ہے اور عدل و انصاف کا حکم دینے والا ہی اصل خدا ہے۔
اب ذرا اس سوال کا جواب سوچیے:
دنیا میں ایک شخص سو آدمیوں کی جان بچاتا ہے یا مالی امداد کے ذریعے سینکڑوں گھرانوں کی کفالت کرتا ہے۔ دوسری جانب ایک ظالم اور قاتل فرد، ہزاروں انسانوں کو ہلاک کردیتا ہے۔ کیا دنیا میں ان دونوں کو انصاف کے مطابق جزا اور سزا دی جاسکتی ہے؟ نہیں، کبھی نہیں۔ قادرِ مطلق کی شانِ ربوبیّت کا تقاضا ہے کہ تمام فریقوں کے ساتھ کامل انصاف ہو۔ ایسے کامل انصاف کا تقاضا صرف عادلِ مطلق ہی پورا کرسکتا ہے اور وہ یومِ حساب کو پورا کرکے دکھا دے گا۔ ایسا کامل انصاف کرنا نہ دُنیا میں ممکن ہے اور نہ کسی انسان کے اختیار میں ہے۔
خالق نے اپنی جو صفات بتائی ہیں، انسانی ذہن توان کا احاطہ ہی نہیں کر سکتا تھا۔ اب جن صفات کا علم ہوا ہے تو دل پکار اُٹھتا ہے کہ واقعی خالقِ کائنات ایسی ہی صفات کا حامل ہونا چاہیے۔
ہر وہ انسانی عمل جو انسانی تمدّن میں زہر گھولتا ہے، اس سے منع کردیا گیا۔ جھوٹ، بدعہدی، قتل، زنا، غیبت، تجارت میں بددیانتی، بہتان، حتیٰ کہ دوسروں کو برے القاب سے پکارنے اور تکبّر سے اکٹر کر چلنے تک سے منع کردیا گیا اور انسانوں پر رحم کرنے، والدین سے، عورتوں سے نرم رویّہ رکھنے اور غریبوں، مسکینوں اور حق داروں پر دل کھول کر خرچ کرنے کا حکم دیا گیا۔ پھر اُس زمانے میں عورتوں کو وراثت کا حق دار قرار دے دیا جب عورت کو زندہ گاڑ دیا جاتا تھا۔ کیا خالق کے سوا کوئی اور صدیوں پہلے والدین اور عورتوں کے حقوق کے بارے میں ایسا سوچ سکتا تھا اور انسانوں کو ایسے اعلیٰ اخلاق سکھا سکتا تھا؟ کیا انسانی عقل انصاف اور مساوات کے اتنے اعلیٰ معیار قائم کرسکتی تھی؟ ہرگز نہیں۔
پھر کیا کوئی انسان پورے اعتماد کے ساتھ ایسا کہہ سکتا ہے کہ کوئی پتّا بھی میرے علم کے بغیر نہیں ہلتا۔ کسی شخص میں یہ طاقت نہیں کہ اللہ کے حکم کے بغیر مرجائے۔ اس نے موت کا وقت مقرر کررکھا ہے۔ میں جسے چاہتا ہوں رزق دیتا ہوں اور جسے چاہتا ہوں نہیں دیتا۔ اگر ایسی طاقت ور ہستی جو خود انسان کی محدود عقل کے ادراک سے باہر ہے، یہ کہتی ہے: میں نے یہ دنیا آزمائش کے لیے پیدا کی ہے۔ میں نے انسان کو سب کچھ کرنے کا ارادہ اور اختیار دیا ہے۔ مگر اس کے عمل کے مطابق اسے جزا اور سزا دوں گا___ تو ہر صاحبِ عقل کا دل گواہی دیتا ہے کہ اُس عظیم الشان شہنشاہ کو ایسا کرنے کا اختیار ہے۔
حیرت ہے کہ ہم جو مقامی حاکم سے اس کے غیر قانونی احکامات کے بارے میں پوچھنے تک کی ہمّت نہیں رکھتے، مگر خالقِ کائنات سے انسانوں کی آزمائش کی حکمت پوچھنے پر اصرار کرتے رہتے ہیں؟ ہر انسان کا فرض ہے کہ اس عظیم الشان ہستی کا مقامِ ربّانی تسلیم کرے اور اپنے آپ کو اس کی غلامی میں دے دے۔ مگر اس کی شانِ کریمی ملاخطہ کریں کہ وہ بار بار کہتا ہے کہ لاتعداد گناہ کرنے والا شخص بھی اگر سچّے دل سے توبہ کرکے اس سے معافی مانگ لے تو وہ اسے معاف کردے گا۔ یہ کسی انسان کی نہیں صرف رحمان کی صفت ہی ہوسکتی ہے۔
اس موضوع پر ہزاروں کتابیں لکھی جاسکتی ہیں، یہ تحریر سمندر کا ایک قطرہ بھی نہیں۔ مگر مجھے یقین ہے کہ اگر کوئی شخص بلاتعصّب، خالی ذہن کے ساتھ کلامِ الٰہی کا مطالعہ کرے تو وہ ملحد رہ ہی نہیں سکتا۔