مرکزی مواد پر جائیں
ماہنامہ ترجمان القرآن کی طرف واپس

ماہنامہ ترجمان القرآن، مئی 2026

ماہنامہ شمارہ

مجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (مئی 2026) کا شمارہ ہے، جس کا نمایاں مضمون حج کی حقیقت اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اسوہ پر تفصیلی گفتگو پر مشتمل ہے۔

شمارے میں مسلم عائلی قوانین میں مجوزہ تبدیلیوں پر تنقیدی جائزہ، خواتین کے مسجد سے تعلق، اور اللہ تعالیٰ کے وجود پر عقلی دلائل جیسے موضوعات شامل ہیں۔ حالاتِ حاضرہ میں لبنان کی صورتحال، کشمیر میں جبری گمشدگیوں اور راشد الغنوشی کی سزا پر بھی رپورٹیں دی گئی ہیں۔

یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

خالق کائنات کا وجود

ملحدین کے ان سطحی دلائل کو میں بے وزن اور کھوکھلا سمجھ کر کیوں مسترد کر رہا ہوں اور کیوں اللہ کے وجود کو اور اس کی صفات کو دل کی گہرائیوں سے تسلیم کرتا ہوں؟ اس کی وجہ بتائے دیتا ہوں۔ دُنیا کے مسلّمہ معیارات کے مطابق بہرحال میں ایک پڑھا لکھا شخص ہوں۔ میرے گھر کے صحن میں علی الصبح سورج کی روشنی پڑتی ہے، جب کہ رات کو وہی سورج کہیں اوجھل ہوجاتا ہے اور آسمان پر چاند اور ستارے نمودار ہوجاتے ہیں۔ یہ دیکھ کر میرے ذہن میں تجسّس پیدا ہوتا ہے کہ یہ سورج، چاند، ستارے کیسے وجود میں آئے؟

کالج اور یونی ورسٹی میں مجھے ایک دو ایسے اساتذہ ملے، جو اسلام کا مذاق اڑاتے تھے۔ دوتین بار وقت لے کر میں ان کے دفتر گیا اور ان سے پوچھا:’’استادِ محترم، مذہبی لوگوں میں ہزار خامیاں ہوں گی، مگر یہ سورج، چاند اور یہ زمین کیسے وجود میں آئے، ذرا اس کی وضاحت فرما دیجیے؟‘‘ ایک نے ڈارون کی تھیوری کا ذکر کیا۔ میں نے ایک دو سوال کیے، تو انھوں نے فرمایا: ’’میں نے ابھی مکمل تھیوری نہیں پڑھی۔ مکمل پڑھ کر جواب دوں گا‘‘۔ میں نے کہا کہ ’’سائنس دان خود کہتے ہیں کہ ابھی تک کوئی ایک بھی شہادت ایسی نہیں ملی، جو انسان کی تخلیق کے بارے میں ڈارون کے نظریے کو ثابت کرے یا اس کی تصدیق کرے۔ یہ تو صرف ایک قیاس ہے‘‘۔ اس پر وہ خاموش رہے اور انھوں نے مولویوں کے خلاف کچھ لطیفے سنا کر بات ختم کردی۔

دوسرے پروفیسر صاحب کے پاس جاکر پوچھا: ’’سر! یہ سورج، چاند، زمین، اور یہ انسان، اُس کے حیرت انگیز اعضا اور اس کا شعور کس نے تخلیق کیا ہے؟‘‘ وہ فرمانے لگے: ’’دیکھیں ہر چیز ذرّے سے پیدا ہوتی ہے اور خلیے نے ہی پھیل کر یہ شکلیں اختیار کرلی ہیں‘‘۔ میں نے پوچھا: ’’ذرّے یا خلیے میں جان یا زندگی کیسے پیدا ہوئی ہے؟‘‘ انھوں نے فرمایا: ’’فی الحال سائنس کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں‘‘۔ میں نے پوچھا: ’’آپ کائنات کا خالق کس کو سمجھتے ہیں؟‘‘کہنے لگے: ’’ہم سمجھتے ہیں ہر چیز خودبخود نیچر (فطرت) کے زور پر پیدا ہوئی ہے‘‘۔ پھر میں نے پوچھا: ’’دنیا کے کسی کونے میں کوئی ایک پل یا کسی عمارت کا ایک کمرہ خودبخود وجود میں آیا ہے تو بتادیجئے‘‘۔ وہ خاموش رہے تو میں نے پوچھا: ’’سر! کیا نیچر یا فطرت شعور رکھتی ہے؟‘‘ اس کا انھوں نے دیانت دارانہ جواب دیا :’’نہیں، فطرت شعور کی حامل نہیں ہے‘‘۔

اس پر میں نے کہا:’’جو نیچر خود شعور سے محروم ہے، وہ انسان کو بھلا شعور کیسے بخش سکتی ہے؟‘‘ اس پر وہ فرمانے لگے: ’’ہاں ٹھیک کہتے ہو، کائنات اور انسان کی تخلیق کی کچھ گتھیاں ابھی سلجھنے والی ہیں اور سائنس دان جنھوں نے ایٹم بم، جہاز اور کمپیوٹر بنالیے ہیں، وہ یہ بھی سلجھالیں گے‘‘۔ میں نے کہا: ’’ابھی تک سائنس دان انسانی خون کا ایک قطرہ تخلیق نہیں کرسکے۔ سائنس کے جتنے بھی کارنامے ہیں وہ اہلِ تحقیق اور اہلِ سائنس نے فطرت میں سے discover کیے ہیں۔ یعنی انھوں نے ریسرچ کے ذریعے فطرت کے کچھ اصول اور کچھ صلاحیتیں دریافت کی ہیں اور ان کی بنیاد پر بہت سی (مفید اور مضر) چیزیں بنالی ہیں۔ بلاشبہ یہ سب ایجادات بڑی زبردست ہیں، مگر کیا آپ یہ فرماسکتے ہیں کہ فطرت کے وہ اصول یا قوانین مثلاً: کششِ ثقل کا اصول کس سائنس دان نے بنایا ہے؟‘‘ کہنے لگے: ’’کسی سائنس دان نے نہیں بنایا، مگر سائنس دان نے تحقیق کے بعد دریافت کیا ہے‘‘۔ میں نے پوچھ لیا:’’پھر یہ بتادیں کہ کششِ ثقل سمیت فطرت اور کائنات کے قوانین کو تخلیق کس نے کیا ہے؟‘‘ کہنے لگے:’’ہاں ،کچھ سائنس دان اب یہ کہتے ہیں کہ ہوسکتا ہے کہ کوئی Metaphysical Force (مافوق الفطرت قوت) موجود ہو‘‘۔

اُن کے بعد بھی میں بہت سے ملحد پروفیسر صاحبان سے ملتا رہا اور کچھ سائنس دانوں سے بھی ملاقاتیں ہوئیں۔ ان کے ہاں یا تو قیاس اور گمان کی بنیاد پر کھڑی کی گئی تھیوریاں ہیں، جن کی صداقت کا کوئی ثبوت موجود نہیں، یا پھر بے یقینی کی صورتِ حال ہے۔ مگر اب وہ کسی مابعدالطبیعاتی قوت یا ہستی (Metaphysical Force)کے امکان کو تسلیم کرتے ہیں،لیکن کچھ ابھی تک وسوسوں اور گمانوں کے اندھیروں میں ہی ٹامک ٹوئیاں مار رہے ہیں۔ اُن کی یہ بات کہ یہ دنیا اور پوری کائنات خودبخود پیدا ہوگئی یا اسے فطرت نے تخلیق کیاہے، عقل اور شعور کو بالکل ہی اپیل نہیں کرتی ، اور کوئی بھی عقل اور شعور رکھنے والا شخص خود بخود پیدا ہونے والی بات کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔

مجھے سورج، چاند، زمین، کائنات کے اصولوں اور انسانی جسم کے اندر چلنے والی حیرت انگیز فیکٹریوں کی تخلیق کے بارے میں ملحد دانش وروں کی جانب سے کوئی واضح جواب نہیں مل سکا، یعنی ملحدانہ نظریۂ حیات ایسی تھیوریاں پیش کرتا ہے جو نہ ثابت ہوسکیں، اور نہ انسانی عقل انھیں ماننے کے لیے تیار ہے۔