مرکزی مواد پر جائیں
ماہنامہ ترجمان القرآن کی طرف واپس

ماہنامہ ترجمان القرآن، مئی 2026

ماہنامہ شمارہ

مجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (مئی 2026) کا شمارہ ہے، جس کا نمایاں مضمون حج کی حقیقت اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اسوہ پر تفصیلی گفتگو پر مشتمل ہے۔

شمارے میں مسلم عائلی قوانین میں مجوزہ تبدیلیوں پر تنقیدی جائزہ، خواتین کے مسجد سے تعلق، اور اللہ تعالیٰ کے وجود پر عقلی دلائل جیسے موضوعات شامل ہیں۔ حالاتِ حاضرہ میں لبنان کی صورتحال، کشمیر میں جبری گمشدگیوں اور راشد الغنوشی کی سزا پر بھی رپورٹیں دی گئی ہیں۔

یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

انقلابی حکمت عملی: اہم پہلو

پروفیسر غلام اعظم اپنے جھونپڑے نما گھر کے ایک چھوٹے سے ڈرائنگ روم میں اپنے سیاسی اور تحریکی سفر کی یہ داستان سنارہے تھے۔اس رُوداد میں وہ مرحلے سامنے آئے، جن کے تحت انھوں نے اپنی دوراندیشی اور مستقبل بینی سے جماعت اسلامی اور جمعیت کے بالکل درہم برہم تنظیمی ڈھانچے کے تنکے تنکے کو جمع کیا اور نئے حالات کے تقاضوں کے مطابق اس کو ایک نئی شکل میں منظم کیا۔

بنگلہ دیش واپس جاتے ہی سب سے پہلے انھوں نے غداری کے اس الزام کا دفاع کیا کہ جب علاحدگی کی تحریک چل رہی تھی، اس وقت یہ صوبہ مشرقی پاکستان ہمارا وطن تھا جو اسلام کے نام پر قائم ہوا تھا۔ اس کا دفاع کرنا عین حب الوطنی اور اسلامی نظریے کے تحفظ کا تقاضا تھا۔ لیکن جب وہ پاکستان سے الگ ہوگیا ، تو اب بنگلہ دیش ہی ہمارا وطن ہے اور اس کا دفاع، اس کی ترقی اور اس سے محبت ہم ایمان کا حصہ سمجھتے ہیں۔ اس طرح انھوں نے بنگلہ دیش کی سیاست میں خود کو نہ صرف شامل کیا بلکہ اپنی قدآور سیاسی شخصیت، علم و حکمت، بزرگی اور تدبر کی وجہ سے سیاست دانوں میں اپنے لیے امتیازی مقام بھی پیدا کرلیا۔

اس مقصد کے حصول کے لیے انھوں نے جماعت کے نظام کو بدلنے کا ارادہ کیا۔ اس لیے کہ وہ سمجھتے تھے کہ جماعت کے نظام اور تنظیمی ڈھانچے کو بدلے بغیر ہم ملک کے نظام کو نہیں بدل سکتے۔ چنانچہ جماعت اور جمعیت کی قیادت سے طویل مشوروں کے بعد بنیادی فیصلے کیے گئے جو بڑے مفید ثابت ہوئے۔