مرکزی مواد پر جائیں
ماہنامہ ترجمان القرآن کی طرف واپس

ماہنامہ ترجمان القرآن، مئی 2026

ماہنامہ شمارہ

مجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (مئی 2026) کا شمارہ ہے، جس کا نمایاں مضمون حج کی حقیقت اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اسوہ پر تفصیلی گفتگو پر مشتمل ہے۔

شمارے میں مسلم عائلی قوانین میں مجوزہ تبدیلیوں پر تنقیدی جائزہ، خواتین کے مسجد سے تعلق، اور اللہ تعالیٰ کے وجود پر عقلی دلائل جیسے موضوعات شامل ہیں۔ حالاتِ حاضرہ میں لبنان کی صورتحال، کشمیر میں جبری گمشدگیوں اور راشد الغنوشی کی سزا پر بھی رپورٹیں دی گئی ہیں۔

یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

قرآنِ حکیم کی رہنمائی

قرآنِ مجید میں کسی مقام پر بھی عورتوں کو نماز کے لیے مسجد میں آنے سے منع نہیں کیا گیا۔ اقامتِ صلوٰۃ (نماز قائم کرنے) کے فریضہ کی دونوں اصناف یکساں طور پر مکلف ہیں۔ <<وَاَقِيْمُوا الصَّلٰوۃَ>> (اور تم سب نماز کو قائم کرو) کا قرآنی حکم مرد و زن کے درمیان کوئی تفریق نہیں کرتا بلکہ دونوں اصناف کو یکساں طور پر مخاطب کرتا ہے۔اذان کے الفاظ <<حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃ ،حَیَّ عَلَی الفَلَاح>>، یعنی ’’آؤ نماز کی طرف، آؤ فلاح کی طرف‘‘ کی صدا بھی ہر مومن، خواہ مرد ہو یا عورت کو مخاطب کرتی ہے کہ وہ اس ندا پر لبیک کہے۔

فقہاء و مفسرین کے مطابق جو چیز واضح طور پر حرام نہ ہو، وہ شرعاً مباح شمار ہوتی ہے۔ چنانچہ جب قرآن کریم عورتوں کے مسجد جانے کو ممنوع قرار نہیں دیتا تو یہ ایک ’مباح (جائز) امر ہے۔

علاوہ ازیں، قرآنِ کریم مریم علیہا السلام کا ذکر بڑے اعزاز و اکرام کے ساتھ کرتا ہے اور انھیں مومنین کے لیے ایک بہترین نمونہ قرار دیتا ہے (التحریم ۶۶:۱۲)۔ اللہ ربّ العزت نے مریم علیہا السلام کی ولادت سے قبل ان کی والدہ کا اپنے رحم میں موجود بچّے کو اللہ کے دین کی خدمت کے لیے وقف کرنے کی منت ماننے اور ولادت پر والدہ کی طرف سے مریم نام رکھنے اور مریم اور اس کی ذُریت کو شیطان رجیم سے اللہ سبحانہٗ تعالیٰ کی پناہ میں دینے کا ذکر فرماتے ہوئے فرمایا: <<فَتَقَبَّلَہَا رَبُّہَا بِقَبُوْلٍ حَسَنٍ وَّاَنْۢبَتَہَا نَبَاتًا حَسَـنًا۝۰ۙ وَّكَفَّلَہَا زَكَرِيَّا۝۰ۭۚ (اٰلِ عمٰرن ۳:۳۷)>> ’’پس اس کے رب نے اسے حسنِ قبولیت کے ساتھ قبول فرمایا اور اس کی نشو و نما بھی بڑی خوبی سے کی۔اس کی کفالت (سرپرستی) زکریاؑ کے سپرد ہوئی‘‘۔

مریم علیہا السلام کا زیادہ وقت محراب (مسجد سے ملحق تخلیہ میں اللہ کی یاد کے لیے جگہ) میں گزرتا۔ قرآن کریم اس حقیقت کا بھی ذکر فرماتا ہے کہ مریم علیہا السلام کو اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کی طرف سے ہدایت دی گئی: <<يٰمَرْيَمُ اقْنُتِىْ لِرَبِّكِ وَاسْجُدِيْ وَارْكَعِيْ مَعَ الرّٰكِعِيْنَ۝۴۳ (اٰل عمرٰن ۳:۴۳)>> ’’اے مریمؑ یکسوئی اور عاجزی سے اپنے ربّ کی اطاعت کرتی رہو، اور سجدہ و رکوع کرنے والوں کے ساتھ سجدہ و رکوع کرتی رہو‘‘ (یعنی باجماعت نماز کا اہتمام رکھو)۔

احادیثِ نبویہؐ کی روشنی میں

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے:’’اپنی عورتوں کو مسجدوں میں آنے سے نہ روکو، البتہ ان کے لیے ان کا گھر بہتر ہے‘‘۔ (ابو داؤد، کتاب الصلوٰۃ، حدیث: ۴۸۵)

یہ ایک حکیمانہ ارشاد ہے۔ افسوس کہ آج اس حدیثِ مبارکہ کے صرف آدھے حصے کو بنیاد بنا کر رائے قائم کی جاتی ہے۔ جو حضرات عورتوں کو مسجد جانے کا حق دینا چاہتے ہیں، وہ صرف ’مت روکو‘ کا پہلو اُجاگر کرتے ہیں، اور جو اس کے خلاف ہیں، وہ ’گھر بہتر ہے‘ کو اپنے لیے حجت بناتے ہیں۔حالانکہ ’گھر بہتر ہے‘ کا مطلب یہ نہیں کہ مسجد عورت کے لیے نا موزوں یا مضر جگہ ہے۔ بہت سی عبادات کے بارے میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ’یہ تمھارے لیے افضل ہے‘ فرمایا، مگر اس سے دوسرے اعمال کی نفی مقصود نہیں تھی۔