مرکزی مواد پر جائیں
ماہنامہ ترجمان القرآن کی طرف واپس

ماہنامہ ترجمان القرآن، مئی 2026

ماہنامہ شمارہ

مجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (مئی 2026) کا شمارہ ہے، جس کا نمایاں مضمون حج کی حقیقت اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اسوہ پر تفصیلی گفتگو پر مشتمل ہے۔

شمارے میں مسلم عائلی قوانین میں مجوزہ تبدیلیوں پر تنقیدی جائزہ، خواتین کے مسجد سے تعلق، اور اللہ تعالیٰ کے وجود پر عقلی دلائل جیسے موضوعات شامل ہیں۔ حالاتِ حاضرہ میں لبنان کی صورتحال، کشمیر میں جبری گمشدگیوں اور راشد الغنوشی کی سزا پر بھی رپورٹیں دی گئی ہیں۔

یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

’شادی کے اثاثوں‘ میں حصہ داری

اسلام آباد ہائی کورٹ کے میں فاضل جج نے یہ بات تسلیم کی ہے کہ اسلامی قانون کی رُو سے شوہر اور بیوی الگ الگ قانونی شخصیت رکھتے ہیں اور شوہر کو بیوی کے مال پر، یا بیوی کو شوہر کے مال پر مالکانہ حقوق حاصل نہیں ہوتے۔ انھوں نے شوہر پر بیوی کے حقِ مہر اور نفقہ کی ذمہ داری کا بھی ذکر کیا اور یہ بھی لکھا کہ ’’کسی باقاعدہ معاہدے کی عدم موجودگی میں دونوں کے درمیان شراکت بھی فرض نہیں کی جاسکتی‘‘۔ اس کے باوجود یہ قرار دے کر کہ ’’ہر وہ چیز جائز ہے جس سے روکا نہیں گیا‘‘، انھوں نے حکومت کو یہ سفارش دے دی! جس اصول کا انھوں نے حوالہ دیا اس کا اطلاق ’چیزوں‘ سے ’فائدہ اٹھانے‘ پر ہوتا ہے، نہ کہ کسی شخص کےلیے ’حق‘ یا ’استحقاق‘ قائم کرنے پر، اور ’چیزوں‘ پر بھی اس اصول کے اطلاق سے بہت ساری استثنائی صورتیں ہیں۔

حیرت کا مقام ہے کہ ملکیت اور شراکت کے متعلق اسلامی قانون کے واضح اصولوں کی موجودگی میں فاضل جج کیسے یہ کہہ سکتے تھے کہ ’’اسلامی قانون بیوی کو شوہر کے مال میں شریک قرار دینے سے نہیں روکتا‘‘۔ کیا اسی طرح شوہر کو بیوی کے مال کا شریک مالک قرار دیا جاسکتا ہے؟ بین الاقوامی معاہدات کی دفعات کا حوالہ دیتے ہوئے فاضل جج نے یہ بات بھی نظر انداز کی کہ بین الاقوامی معاہدات کو پاکستان کی عدالتیں اس وقت تک نافذ نہیں کرسکتیں، جب تک انھیں باقاعدہ قانون سازی کے ذریعے پاکستان کے قانون کا حصہ نہ بنایا جائے۔ انھوں نے اس پہلو سے بھی تجزیہ نہیں کیا کہ جن دیگر ممالک نے ایسی قانون سازی کی ہے، کیا ان کا قانونی نظام انھی اصولوں پر قائم ہے، جو پاکستان کے قانونی نظام کی بنیاد ہیں؟

اُوپر ہم نے اس موضوع پر سینیٹر علی ظفر کے مسودے کا ذکر کیا ہے۔ اس مسودے کو ’اسلامی نظریاتی کونسل‘ نے دو پہلوؤں سے اسلامی احکام کے خلاف قرار دیا تھا: ایک یہ کہ اس سے شوہر کے حقِ ملکیت کی خلاف ورزی ہوتی ہے، اور دوسرا یہ کہ یہ وراثت کے قانون کے خلاف ہے۔ یہ اصول مسلّم ہے کہ کسی شخص کی مرضی کے بغیر کسی دوسرے شخص کو اس کے مال میں شریک قرار نہیں دیا جاسکتا۔ بالکل اسی طرح شوہر کی وراثت میں بیوی کے لیے، اور بیوی کی وراثت میں شوہر کے لیے شریعت نے مخصوص حصہ مقرر کیا ہے، جس میں کمی بیشی جائز نہیں ہے۔

تاہم، اس مسئلے کے کئی دیگر پہلوؤں پر بھی بحث ضروری ہے۔ مثلاً یہ کہ ’شادی کے اثاثوں‘ میں میاں بیوی کو ’شریک‘ قرار دینا اس مفروضے پر مبنی ہے کہ یہ اثاثے دونوں نے مل کر بنائے ہیں۔ اس پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایسی ’شراکت‘ کسی ’عقد‘ کے بغیر وجود میں آسکتی ہے؟ ملک میں انگریزوں کے وقت سے رائج ’قانونِ شراکت ۱۹۳۲ء‘ میں ہی دیکھ لیجیے کہ شراکت کسی عقد کے بغیر، محض ’حیثیت‘ (status) سے وجود میں نہیں آتی، یہاں تک ’ہندو مشترکہ خاندان کا کاروبار‘ بھی شراکت نہیں ہے۔ پھر اگر ایسی شراکت فرض بھی کی جائے، تو ایسی شراکت صرف میاں بیوی تک ہی کیوں محدود رہے؟ اس شراکت میں شوہر کے ماں باپ اور بہن بھائی کیوں شامل نہیں؟ والد کے متعلق تو حدیث مبارک میں تصریح بھی ہے کہ ’’تم اور تمھارا مال ،تمھارے والد کا ہے‘‘۔ (سنن ابن ماجہ، کتاب التجارات)

جہاں تک میاں بیوی کے رشتے کا تعلق ہے، تو اس کی بنیاد اس تصور پر ہے کہ شوہر ’قوّام‘ (Protector, Maintainer, Sustainer)ہے۔ اس وجہ سے اس پر بیوی کا ’نفقہ‘ بھی واجب ہوتا ہے (سورۃ النساء۴:۳۴) اور ’مہر‘ بھی (سورۃ النساء ۴: ۲۴)، یہاں تک کہ جب صرف نکاح ہوا ہو اور ازدواجی تعلق قائم کرنے سے قبل ہی ’طلاق‘ ہوجائے تب بھی اس پر ’نصف مہر‘ کا ادا کرنا واجب ہوتا ہے (سورۃ البقرۃ ۲: ۲۳۱)، بلکہ اگر ’مہر‘ مقرر نہ کیا گیا ہو اور نکاح کے بعد اَزدواجی تعلق قائم کرنے سے قبل طلاق ہوجائے، تب بھی اس پر واجب ہوتا ہے کہ اپنی مالی وسعت کے مطابق اس خاتون کو کچھ تحفے تحائف (متاع) دے کر رخصت کرے(سورۃ البقرۃ ۲:۲۳۰)۔ اس تعلق کو شوہر کی ’قوّامیت‘ کے بجائے میاں بیوی کے درمیان کاروباری شراکت کے اصولوں پر قائم کرنے سے خاندانی نظام کا پورا تصور ہی تبدیل ہوجاتا ہے۔

اس پیوندکاری کا ایک نتیجہ یہ بھی ہوتا ہے کہ بعض اوقات ہماری عدالتیں بیوی کی جائیداد پر شوہر کے لیے مالکانہ تصرف مان لیتی ہیں۔ مثلاً ایک مقدمے میں مسئلہ یہ تھا کہ خاتون کے لیے ’حق مہر‘ کے طور پر جائیداد اس کے سسر کی جانب سے لکھی گئی تھی، حالانکہ وہ اس کی ساس کی ملکیت میں تھی، اور اس کے باوجود پشاور ہائی کورٹ نے اسے نافذ قرار دیا تھا۔ اپیل میں جب معاملہ سپریم کورٹ میں آیا، تو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فیصلے میں لکھا کہ ’’یہ تو انگریزی قانون کا اصول ہے کہ میاں بیوی ایک ہی قانونی وجود رکھتے ہیں اور یہ کہ شادی کے بعد بیوی کی شخصیت شوہر کی شخصیت میں گم (coverture) ہوجاتی ہے،جب کہ اسلامی قانون کی رو سے بیوی اور شوہر الگ الگ قانونی حیثیت اور شخصیت رکھتے ہیں اور اس وجہ سے اپنے اپنے مال پر الگ الگ ملکیت رکھتے ہیں، جیساکہ سورۃ النساء، آیت ۳۲ میں تصریح بھی ہے‘‘۔ انھوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ ’’ہمارے بعض جج لاشعوری طور پر انگریزی قانون کے اصولوں سے متاثر ہوتے ہیں‘‘۔ (فواد اسحاق بنام مسماۃ مہرین منصور ( PLD ۲۰۲۰ سپریم کورٹ ۲۶۹) )۔

کیا اسلام آباد ہائی کورٹ کے موجودہ فیصلے سے بھی یہی مذکورہ بالا تاثر نہیں ملتا؟

ہمارے فاضل ججوں کو اس پہلو پر بھی غور کرنا چاہیے کہ شادی کے بندھن پر کاروبار، نوکری اور پنشن کے اصول لاگو کرنے کے نتائج کیا ہوسکتے ہیں؟ اور اس سے ہمارا پورا خاندانی نظام کیسے درہم برہم ہوسکتا ہے؟ بلاشبہہ خواتین کو درپیش مسائل حقیقی ہیں اور ان کا حل بھی ضروری ہے، لیکن اس کے لیے شریعت کے دوسرے احکام کی خلاف ورزی کیسے جائز قرار دی جاسکتی ہے؟ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان مسائل کا حل اسلامی اصولوں کی روشنی میں ہی متعین کیا جائے۔