مرکزی مواد پر جائیں
ماہنامہ ترجمان القرآن کی طرف واپس

ماہنامہ ترجمان القرآن، مئی 2026

ماہنامہ شمارہ

مجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (مئی 2026) کا شمارہ ہے، جس کا نمایاں مضمون حج کی حقیقت اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اسوہ پر تفصیلی گفتگو پر مشتمل ہے۔

شمارے میں مسلم عائلی قوانین میں مجوزہ تبدیلیوں پر تنقیدی جائزہ، خواتین کے مسجد سے تعلق، اور اللہ تعالیٰ کے وجود پر عقلی دلائل جیسے موضوعات شامل ہیں۔ حالاتِ حاضرہ میں لبنان کی صورتحال، کشمیر میں جبری گمشدگیوں اور راشد الغنوشی کی سزا پر بھی رپورٹیں دی گئی ہیں۔

یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

راشد الغنوشی کو ۲۰ سال قید کی نئی سزا

[ڈاکٹر ارشاد الرحمان | مئی ۲۰۲۶ | تحریک اسلامی] تیونس کی ایک عدالت نے ۱۴؍ اپریل ۲۰۲۶ء کو النہضہ تحریک تیونس کے سربراہ ۸۴سالہ راشد الغنوشی کو ’رمضان سازش‘ کے نام سے مشہور مقدمہ میں ۲۰ سال قید کی سزا سنائی ہے۔ نجی ریڈیو اسٹیشن ’موزائیک‘ نے رپورٹ کیا ہے کہ تیونس کی ابتدائی عدالت کے کرمنل چیمبر نے نہضہ کے رہنماؤں یوسف النوری اور احمد المشرقی، جو تمام زیرحراست ہیں، کو بھی ۲۰، ۲۰سال قید کی سزا کا فیصلہ سنایا ہے۔عدالت نے اسی مقدمے میں آزادانہ حیثیت سے مقدمہ لڑنے والے ملزمان کو تین سال قید کی سزا بھی سنائی ہے، جن میں تحریک کے رہنما محمد القومانی، بلقاسم حسن اور دیگر ملزمان شامل ہیں۔

راشد غنوشی سمیت درجنوں افراد کو ’سازش ۲‘ مقدمے میں بھی سخت سزائیں دی گئی ہیں۔ جہاں تک ملک سے باہر موجود ملزمان کا تعلق ہے، ان میں سابق وزیر خارجہ رفیق بوشلاکہ اور اپوزیشن رکن پارلیمنٹ ماہر زید شامل ہیں۔۱۲ ملزمان پر ریاست کی سلامتی کے خلاف سازش کرنے اور ریاست کی ہیئت کو بدلنے کی غرض سے حملے کی منصوبہ بندی کرنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔

’رمضان سازش کیس‘ کی کہانی فروری ۲۰۲۳ء سے جوڑی جاتی ہے، جب کئی سیاسی مخالفین، وکلا، سول سوسائٹی کے کارکنوں اور کاروباری شخصیات کو ’امنِ عامہ کو نقصان پہنچانے اور ریاست کی سلامتی کو کمزور کرنے‘ کے الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔۱۷؍اپریل ۲۰۲۳ء کو سکیورٹی فورسز نے سابق اسپیکر راشد الغنوشی کے گھر پر چھاپہ مارا اور انھیں گرفتار کر لیا اور ابتدائی عدالت نے ’افراتفری پھیلانے‘کے الزام میں انھیں جیل بھیجنے کا حکم دیا۔ میڈیا میں اس مقدمے کو ’رمضان سازش‘ کا نام دیا گیا ہے، کیونکہ راشد الغنوشی نے ۲۰۲۳ء میں رمضان کے دوران ’نیشنل سالویشن فرنٹ‘ کی جانب سے سیاسی قیدیوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے منعقدہ ایک تقریب میں بیان دیا تھا۔

راشد الغنوشی کی دفاعی ٹیم نے واضح کیا کہ تحریکِ نہضۃ کے سربراہ نے اپنی گرفتاری کے بعد سے عدالت کی تمام کارروائیوں کا بائیکاٹ کر رکھا ہے۔ انھوں نے عدالتی فیصلے کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے اسے ’سیاسی انتقام‘ قرار دیا، جس کا مقصد اظہارِ رائے کی آزادی اور قانون کے مطابق سیاسی سرگرمیوں کے حق کو نشانہ بنانا ہے۔ دفاعی ٹیم نے اس بات پر زور دیا کہ رمضان کے اس احتجاج میں جو کچھ کہا گیا وہ ’مشترکہ بقائے باہمی اور تفرقہ بازی کے خاتمے کی دعوت‘ تھی، جس میں راشد الغنوشی نے مطالبہ کیا تھا کہ ’’تیونس تمام تیونسیوں کے لیے ہونا چاہیے‘‘۔

اپوزیشن اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ مقدمات سرتاپا ’سیاسی نوعیت‘ کے ہیں اور سیاسی مخالفین کو ختم کرنے اور صدر قیس سعید کے ناقدین کی آواز دبانے کے لیے ٹھونسے گئے ہیں۔